کیا آپ کا بچہ سکول جاتا ہے؟

کیا آپ کے بچے یا بہن بھائی سکول جاتے ہیں؟ جواب ’’ ہاں‘‘ میں ہے تو آئیے چند سوالات پر غور کرتے ہیں ۔

پہلا سوال یہ ہے کیا وہ سرکاری سکول میں جاتے ہیں یا پرائیویٹ سکول میں ؟ میرے خیال میں جو مڈل کلاس سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے اس میں سے شاید ہی کسی کا بچہ یا بھائی بہن سرکاری سکول میں جاتے ہوں ۔ اب آپ سوچ کر بتائیے سرکاری سکول کی بجائے آپ نے پرائیویٹ سکول کا انتخاب کیوں کیا ؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں داخلے مکمل ہو چکے تھے اور آپ کے بچوں کو وہاں داخلہ نہ مل سکا یا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ سرکاری سکولوں سے مطمئن نہیں اور یہ عدم اطمینان آپ کو پرائیویٹ سکولوں کی طرف لے گیا ؟

آپ کا جواب یقینایہ ہو گا کہ آپ کا عدم اعتماد آپ کو اس جانب لے گیا ۔ آپ سرکاری اداروں سے مطمئن نہیں تھے اس لیے مجبوری کے عالم میں پیٹ کاٹ کر آپ پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں ادا کر رہے ہیں ۔ اب یہاں دو مزید سوال پیدا ہوتے ہیں ۔

پہلا سوال یہ کہ کیا کبھی آپ نے کمیونٹی کی سطح پر سرکاری اداروں کی بہتری کے لیے کوئی کوشش کی ، کبھی محلے یا شہر کے عمائدین کا وفد بنا کر آپ محکمہ تعلیم کے افسران سے جا کر ملے یا کبھی زندگی میں اپنے کونسلر ، اپنے چیئر مین ، اپنے میئر ، اپنے ایم پی اے ، اپنے ایم این اے یا اپنے حلقے کے کسی وزیر سے آپ نے انفرادی یا اجتماعی سطح پر کوئی مطالبہ کیا کہ جناب ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کے بارے میں ہمارے کچھ تحفظات ہیں وہ سن لیجیے اور ان کی بہتری کے لیے ہمارے پاس ایک پلان ہے اس پر تھوڑا غور فرما لیجیے؟ کیا وجہ ہے آپ دنیا جہان کے معاملات پر صبح سے رات گئے تک عالمانہ تبصرے فرماتے رہتے ہیں لیکن آپ نے کبھی اپنے اتنے اہم ، سنگین اور بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں فرمائی؟

یہاں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری سکولوں پر جو عدم اعتماد آپ کو پرائیویٹ سکول لے گیا ، وہاں پہنچ کر کیا اس میں کچھ کمی واقع ہوئی اور کیا اب پر اعتماد ہیں آپ کے بچے کو اچھی تعلیم دی جا رہی ہے؟ کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ مہنگے سکولوں میں جو اساتذہ آپ کے بچوں کو پڑھا رہے ہیں ان کا اپنا تعلیمی معیار کیا ہے؟ سرکاری اداروں کا تو سب کو علم ہے اتنی تعلیمی استعداد ہو گی تو وہاں کسی استاد کی تعیناتی کی جائے گی لیکن پرائیویٹ اداروں کا معیار کیا ہے ، کیا کبھی آپ نے یہ سوال پوچھا اور کیا کبھی کسی سکول نے بچے کی ڈائری پر ایسی کوئی تفصیل لکھ کر آپ کو بھیجی ؟ کیا آپ کو کچھ خبر ہے پرائیویٹ سکول کے ایک سیشن میں کتنی بار اساتذہ تبدیل ہو جاتے ہیں اور کیا آپ کو کچھ بتایا جاتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ کیا آپ نے کبھی اپنے بچے کی ڈائری کو غور سے دیکھاہے کہ اساتذہ ڈائری پر لکھے ایک فقرے میں کتنی غلطیاں کرتے ہیں ۔ کیا کبھی آپ نے ان وجوہات پر غور کیا ؟

کبھی بچے کا بستہ اٹھا کر معلوم تو کیجیے اس کا وزن کیا ہے؟ کبھی آپ نے غور کرنے کی زحمت کی ہے اتنے چھوٹے سے معصوم سے بچے کا بستہ اتنا بھاری کیوں ہے؟ اس بستے میں تعلیم کا مواد ہے یا یہ بچہ اس سکول کے کاروباری مفادات کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ کیا وجہ ہے پریپ اور نرسری کے بچوں کو بھی ایک سال میں سیشن کے نام پر دو دو تین تین مرتبہ کتابیں لینا پڑتی ہیں اور سہہ ماہی ششماہی کے بعد نصاب بدل جاتا ہے؟ کبھی آپ نے اس پہلو پر سوچا ہے پرائیویٹ سکولز نوٹ بک اور کاپیاں وغیرہ مارکیٹ سے کیوں نہیں لینے دیتے اور انہوں نے اس چھپائی کی ذمہ داری خود اٹھائی ہوتی ہے یا ٹھیکے پر دی ہوتی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ فروغ تعلیم کے باب میں ان کی حساسیت ہے یا معاملہ کچھ اور ہے؟

اب ایک اور سوال پر بھی غور فرمائیے ۔ سرکاری سکول کی بجائے پرائیویٹ سکول کا انتخاب کہیں آپ کے لاشعور میں چھپے احساس کمتری کی علامت تو نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے اس کا بچہ سرکاری سکول میں پڑھتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں آپ کے خیال میں جہاں دھوبی ، بڑھئی ، موچی ، مزدور ، حجام وغیرہ کے بچے پڑھتے ہوں وہاں جانے سے آپ کے بچے کی ’’ کلاس‘‘ متاثر ہو سکتی ہے؟ جیسے ہمارے ہاں شادی بیاہ سے لے کر برتھ ڈے تک کی تقاریب فضول اور شرمناک تصنع میں لپٹ چکیں ایسے ہی ہمارا اجتماعی احساس کمتری اب یہ گوارا نہ کر سکتا ہو کہ ہمارے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں؟ چنانچہ ہم اہتمام فرماتے ہیں خاندان کی کسی تقریب میں کوئی سوال کر لے بچے کہاں پڑھتے ہیں تو ہم جواب میں کسی مہنگے سکول کا نام لے کر اپنے جنم جنم کے احساس کمتری کا ازالہ کر سکیں۔

کالج اور یونیورسٹی کا معاملہ الگ ہے ، ریاست اس سے عملا ہاتھ اٹھا چکی ۔ لیکن آئین میں طے کر دیا گیا ہے کہ میٹرک تک تعلیم مفت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہو گی ۔ پھر کیا وجہ ہے گلی گلی پرائیویٹ سکول کھل رہے ہیں ۔ جو ادھوری ذمہ داری ریاست نے اپنے سر لی ہے کیا وہ اسے بھی ادا کرنے کو تیار نہیں ؟

صبح سے رات گئے تک ہر قائد محترم کے حصے کے بے وقوف ، اپنے اپنے شعبہ ہائے زندگی میں ، اپنے اپنے رہنما کے فضائل بیان کرتے ہیں اور دوسرے قائد محترم کے حصے کے بے وقوفوں سے لڑتے ہیں ۔ تبدیلی کا جو آخریی راستہ دستیاب تھا اسے بھی اختیار کر کے دیکھ لیا گیا ہے اور انجام آپ کے سامنے ہے۔ اب ایک ہی صورت باقی ہے کہ عام لوگ اشرافیہ کی بجائے اپنے مسائل پر بات کریں ۔ یاد رکھیے کوئی سپر مین ، کوئی ٹارزن آپ کے مسائل حل نہیں کرے گا ۔ آپ نے خود آگے بڑھ کر انہیں حل کرنا ہے۔رہنمائوں کے بلاول ، مریم اور سلمان مزے میں ہیں ۔ آپ اپنے اپنے بلاول، مریم اور سلمان کی فکر کریں ۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا سیکھیے۔ اپنے اپنے قائد محترم کی بجائے صرف اپنے حصے کا بے وقوف بننا ہو گا۔

سوال یہ ہے کیا ہم یہ بھاری پتھر اٹھا سکیں گے؟ کیا ہم خود کو یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ہمیں ہماری مائوں نے غلام نہیں، آزاد جنم دیا تھا؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے