کراچی کیا سوچتا ہے !

دیکھو دوستوں ! کراچی کی ایک منظم سیاسی جماعت تھی جسے کراچی کے باسیوں نے دامے، درہمے، قدمے، سُخنے پزیرائی بخشی اور تقریباً 2 دہائیوں تک اس سیاسی تنظیم کو اس شہر نے کراچی کی کم و بیش ہر سیٹ پر چاھے وہ قومی یا صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہو یا بلدیاتی نشست کی کامیاب کروا کر متعلقہ ایوانوں میں بھیجا !

[pullquote]وہ کس لیے ؟[/pullquote]

. سندھ کے شہری علاقوں کے باسیوں پر مسلط کردہ "بدنام زمانہ اور غیر انسانی کوٹہ سسٹم ” کے خاتمہ کے لیے

. وفاق کے زیر انتظام اداروں میں ملازمتوں کے حصول میں متعصبانہ ہتھکنڈوں کے خاتمہ کے لئے

. سندھ کی صوبائی ملازمتوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے جائز حصول کے لئے

. سندھ و وفاق کے پروفیشنل تعلیمی درسگاہوں میں داخلوں میں اپنے جائز حق کے لئے

. مشرقی پاکستان میں محصور پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے

. یہ وہ چیدہ چیدہ نکات تھے جن کے حصول کے لئے کراچی کی اس تنظیم کو غیر معمولی مقبولیت ملی لیکن صد افسوس کہ کئی مرتبہ باوجود "کنگ میکر” پوزیشن کے ہوتے ہوے بھی یہ تنظیم اپنے ان "کلیدی نکات” کو منوانے میں ناکام رہی، اب کراچی نے اپنا بیشتر مینڈیٹ ایک وفاقی جماعت کے سپرد کیا ہے اور اس وفاقی جماعت کو بھی کراچی کے مندرجہ بالا نکات کا نہ صرف ادراک ہے بلکہ مملکت کے سب سے بڑے عہدہ پر متمکن شخص سے لیکر وفاقی وزارتوں میں شامل کئی افراد کا تعلق اسی ستم رسیدہ شہر سے ہے لہٰذا وفاق میں حکمرانی کرنے والی اس جماعت کا یہ عذرہرگز قابل قبول نہیں ہوگاکہ انکو کراچی کے اصل مسائل سے لا علمی تھی یا رہی ہے اگر یہ سیاسی جماعت کراچی کے شہریوں کی دکھتی رگ پر نہ صرف ہاتھ رکھے بلکہ اس کی دوا کا انتظام بھی کردے تو یقین رکھے کہ کراچی کے شہری بھی اس قرض کو سود سمیت اس سیاسی جماعت کو واپس کرتے رہیں محمد مصباح الدین گے!

لہٰذا اس وفاقی سیاسی جماعت سے امید کی جاتی ہے کہ وہ کراچی کو وفاقی دھارے میں لانے کے لئے مندرجہ بالا نکات کو اپنی ترجیحات میں نہ صرف شامل کرے بلکہ ان پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے. لیکن زمینی حقائق تا دم تحریر مایوس کن ہیں، حکمران جماعت کے اس شہر سے منتخب ارکان اسمبلی نہ صرف شہر کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ مکمل طور پر غیر متحرک ہیں اور انکے اس پر اسرار رویوں سے کراچی کے شہریوں کو سخت مایوسی ہوچکی ہے لہذا امید قوی ہے کے مستقبل قریب میں ہونے والے بلدیاتی الیکشنز میں ان کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کو ہے . اس سے پہلے کہ ان کے لئے یہ "سانحہ” رونما ہو ان ارکان کو خواب خرگوش سے بیدار ہونا پڑےگا ورنہ اس شہر میں کوئی "تحریک انصاف بھی تھی ڈھونڈو بھی تو سراغ نہیں ملے گا .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے