جنہوں نے تہمینہ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کیا تھا

یہ سارے لوگ جنہوں نے تہمینہ کو دفنانے کو جگہ دی اور نہ اس کے جنازے میں شرکت کی ،سارے معصوم اور پاک صاف لوگ تھے ،جو اگر اس لڑکی کا جنازہ پڑھ لیتے تو شاید عذابِ الہی کا شکار ھو جاتے ،یہ منافق معاشرہ ھے شاید اس لڑکی کو ان کی دعاؤں کی ضرورت بھی نہیں تھی اس کے گناہ تو اس کا قاتل لے گیا ،، اسے اب کسی کی دعا کی بھی ضرورت نہیں ،، حقیقت یہ ھے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ انسانوں کا ایسا رویہ ھی انہیں بخشانے کے لئے کافی ھوتا ھے ،، اللہ بڑا کریم ، بڑا غیرتمند ھے ، وہ اپنے اختیارات میں کسی مداخلت کو پسند نہیں فرماتا ،،

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا ،،،،،،، آپ اس کا جنازہ پڑھانے کھڑے ھوئے تو حضرت عمر فاروقؓ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ یہ شخص اس قابل نہیں کہ آپ اس کا جنازہ پڑھا کر اس کو عزت دیں ،، یہ ایسا تھا ،یہ ویسا تھا ،،،،،،،،،،،، اللہ کے رسولﷺ نے حضرت عمرؓ کی طرف سے رخِ انور کو پھیر لیا اور بقیہ لوگوں سے پوچھا تم میں سے کسی نے اس شخص کو مسلمانوں والا کوئی کام کرتے دیکھا ھے ؟ ایک شخص نے کہا کہ ” جی ھاں اس نے ایک رات ھمارے ساتھ اسلامی لشکر کی پہریداری کی ذمہ داری نبھائی تھی ،،

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ صفیں بنا لو اور اس شخص کی نمازِ جنازہ ادا فرما دی ، جنازہ پڑھانے کے بعد آپ بیٹھ گئے اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے چہرے پر پیار سے ھاتھ پھیرا اور فرمایا ” تیرے ساتھی سمجھتے ھیں کہ تو جھنمی ھے ،مگر میں محمد اللہ کا رسول گواھی دیتا ھوں کہ تو جنتی ھے ،،،،،،،،،،،،،،،

کاش کوئی سمجھے کہ اس بادشاھوں کے بادشاہ کو پتہ نہیں کس کی کونسی ادا پسند آ جائے کہ وہ اسے اپنے پڑوس میں جگہ دے بخش دے ،، عمرؓ کی گواھی رد کر دے اور محمد ﷺ کی گواھی ڈلوا دے ،،

حضرت عیسی علیہ السلام کے سامنے ایک زانی جوڑے کو پیش کیا گیا تا کہ آپ ان کا فیصلہ تورات کے مطابق کر دیں ،، پیش کرنے والے یہود کے علماء تھے اور سازش کے تحت اس جوڑے کو لایا گیا تھا ، اگر عیسی علیہ السلام سنگسار کا فیصلہ کرتے ھیں تو عوام الناس ان کے خلاف ھو جائیں گے ،، اور اگر نہیں کرتے تو ھم شور کر دیں گے کہ یہ کیسے رسول ھیں کہ جن کو شریعت کا پتہ نہیں ،،،،،،،،،

حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کی سزا سنگسار ھے مگر پتھر وہ مارے جس نے یہ کام خود نہ کیا ھو ، اس کے بعد لوگوں سے کہا کہ اپنے اپنے انگوٹھے کے ناخن میں دیکھو ، سب کو ان کا کرتوت ان کے ناخن میں کلپ کی صورت دکھا دیا اور فرمایا کہ اگر کسی نے جھوٹا پتھر مارا تو میں یہ منظر سامنے کی دیوار پر دکھا دونگا ،، سارا مجمع کائی کی طرح چھٹ گیا اور لوگ نکل بھاگے ،آپ نے اس جوڑے کو توبہ کروائی ان کی شادی کر دی اور ان کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ،،

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے