بول کہ تیرا جسم ہے تیرا

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زبان اب تک تیری ہے
بول کہ تیرا جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے۔
عورت مارچ سے ڈرے ہویے مرد ، ڈری سہمی عورتوں سے ڈرے سہمے مرد کیونکہ عورت مارچ سے ڈری سہمی عورتوں کو ایک حوصلہ یہ ملا کہ ان کے اندر انکار نے جنم لیا ہر اس ظلم سے انکار کی خواہش نے جنم لیا جس پر خاموشی ان کو اندر سے ہی نہیں بلکہ باہر سے بھی تباہ کر رہی تھی۔ اور پھر کیا ہوا جونہی انکار کی خواہش عورت کے اندر پیدا ہویی مرد خوف زدہ ہوگیا کیونکہ تخلیق عورت کی فطرت ہے خدا کے بعد تو مرد کو یقین ہوگیا کہ اس سے انکار اگر عورت نے تخلیق کرلیا تو اس کی اجارہ داری ختم ہوجایے گی عورت پر، اس کے جسم پر، اس کی جاییداد پر اس کے حق پر اور پھر اس کے انکار پر۔

پھڑپھڑاتے اور کمزور قدموں میں اتنی جان ہی کیوں آنے دی جایے کہ وہ مرد کی شہنشاہی سے آگے نکل جاییں یا ان میں اتنی طاقت آجایے کہ ان کے سامنے سر اٹھا کر وہ کھڑی ہوکر انکار کرسکے۔ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی وجہ سے مردوں کو تکلیف ہویی ہے عورت مارچ سے ہی نہیں کیونکہ چوبیس گھنٹے مردوں کا دماغ اگر کہیں اٹکا رہتا ہے تو وہ عورت کا جسم ہی ہے۔ اور اس سے انکار کا حوصلہ اب عورت میں آگیا ہے اور اس نے سیدھے سیدھے اپنے جسم سے مرد کو باہر نکل جانے کا کہہ دیا ہے کہ باہر تشریف لے جاییں اب آپ کی نکلیف دہ گھٹیا آنکھوں کو اس کے جسم کو گھورنے کی کویی ضرورت نہیں اگر گھوریں گے تو عورت اس پر نہ صرف احتجاج کرے گی بلکہ قانونی کارروایی کا حق بھی استعمال کرے گی۔

مجھے یہ لکھتے ہویے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ بہت سی عورتوں نے اپنے اس قانونی اور مذہبی حق کو استعمال بھی کیا ہے اب اس طرح کی ہراسمنٹس کو قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ آج جب پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو پاکستان کی عوام صرف ایک نعرے سے خوف زدہ ہوکر بحث کررہی ہے کہ عورت کو اس کے جسم کے اختیار سے بھی باہر رکھا جایے تاکہ مرد خود اس کے اندرہی رہ سکے۔ حد یہ ہوگیی ہے کہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کو مذہب کے خلاف جوڑ دیا گیا ہے ۔ دنیا کا کویی بھی مذہب عورت کے جسم پر کسی اجنبی کا عورت کی مرضی کے بغیر اختیار کو قبول نہیں کرتا اور اسی کو ریپ کا نام بھی دیا جاتا ہے ، جبکہ پاکستان میں بہت سے مردوخواتین کا یہ ماننا ہے کہ اس نعرے سے عورت اپنے جسم کی نمایش اور بہت سے مردوں کے ساتھ تعلقات قایم کرنے کا حق مانگ رہی ہے۔ ملاحظہ کیجیے گا شک اور شکوک کا لیول۔

اس نعرے میں ایسی کویی بات کہاں مینشن کی گیی ہے کہ مجھے ایک وقت میں ایک یا ایک سے بڑھ کر کیی مردوں کے ساتھ تعلقات قایم کرنے کا حق چاہیے؟
اس نعرے میں کہاں کہا گیا ہے کہ میں اپنے باپ، اپنے بھایی ،اپنے خاوند یا اپنے بیٹے سے بے وفایی کرنے کا حق مانگ رہی ہوں؟
کہاں ایسی کسی بات کا زکر ہے کہ میں اپنے خاندان سے اس کی عزت سے بغاوت کررہی ہوں؟
ارے کند زہنو!

اس نعرے میں عورت بیگانے مردوں کو خود سے اپنے جسم سے دور رہنے کی وارننگ دے رہی ہے کہ میں کسی بھی مرد کے لیے دکانوں میں رکھی گیی جنس کی طرح نہیں ہوں جس کے وزن، سایزز اور رنگ و شکل کو دیکھ دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں بھاو لگا رہے ہو، خریدنے کی خواہش یا حصول کے لیے تگ و دو کر رہے ہو؟

اب اس بات پر زیادہ تپنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا کہاں ہوتا ہے؟ چلیے ایک عورت ہی بتا دیتی ہے کہ ایسا کہاں ہوتا ہے؟ میں پوچھتی ہوں کہ ایسا کہاں نہیں ہوتا اور کہاں نہیں ہورہا؟ عورت کو سمجھنے کی کوشش کیجیے جو خاموش نگاہوں سے التجا کرتی ہے کہ میرے ساتھ ہونے والے ظلم بند کرو کیونکہ اگر میں نے گھر میں بتا دیا کہ تم مجھے یا میرے جسم کو کس طرح گھورتے ہو، مجھے میسجز بھیجتے ہو ،ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے ہو اور پر فریب دھوکے دے کر اپنے جال میں اس لیے پھنساتے ہوتاکہ اپنی جنسی لذت اور نفسانی خواہشات پوری کرسکو تو مجھے نہ تو پڑھنے کی اجازت ملے گی نہ گھر سے باہر نکنے کی، نہ ہی کام کرنے کی اجازت ملے گی اور نہ ہی کچھ کرنے کی اور میں اپنے خوابوں سمیت ماری جاونگی۔

اس دنیا اور اس کی خوبصورتی پر عورتوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا اور عورتوں کو بھی مذہب اور قانون ان تمام شعبوں میں پڑھنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جن میں مردوں کو اجازت ہے تو پھر شور کیوں؟

مذاق اڑانا بند کیجیے اور اپنے ازہان کو بھی زرا استعمال کریں اور سوچیں کہ مذہب اور قانون میں کس کا کتنا اختیار اور حق ہے؟

اپنی بیٹی،بہن ، بیوی اور ماں کو باہر کے تعفن زدہ معاشرے سے بچایے اور اس کے حقوق کو تسلیم کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے