عمران خان نے ٹائیگرفورس سیاسی فائدے کیلئے بنانے کا اعتراف کرلیا: مریم اورنگزیب

‎حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آج عمران صاحب نے ٹائیگرفورس سیاسی فائدے کے لیے بنانے کا اعتراف کرلیا جبکہ ‎قوم کورونا کیخلاف اور عمران خان سیاسی جنگ میں مصروف ہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان جن پر الزام لگا رہے ہیں اُنھوں نے فلاحی کام کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ کو پتہ نہیں لگنے دیا لیکن عمران خان نے شوکت خانم اسپتال کے نام پر 32 سال سیاست کی۔

انہوں نے کہا کہ دل میں اللہ کا خوف رکھنے والے نوٹ اور ووٹ کے ذریعے سوشل ورک کی قیمت وصول نہیں کرتے، اِس وقت قوم کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور عمران خان سیاسی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وزیراعظم اللہ سے ڈریں، معافی مانگیں اور دوسروں پر تہمتیں لگانا بند کریں، دیہاڑی دار مزدور اور غریب کو روٹی دینے کی کوئی حکمتِ عملی نہیں اور دوسروں پر تہمت لگانے سے باز نہیں آ رہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا جی عمران خان قوم کو بتائیں کہ ایک لاکھ ٹیکس دے کر کروڑوں کا زمان پارک اور بنی گالہ کا گھر کیسے بنایا؟

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے تھے جہاں انہوں نے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے بنائے گئے اسپتال کا دورہ کیا تھا۔

لاہور میں ‘کورونا ریلیف ٹائیگر فورس’ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کاکہنا تھا کہ جن لوگوں نے ایم این اے اور ایم پی اے کا الیکشن لڑا ہے سب نے اکٹھے ریلیف کی کوشش کرنی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ حکومت میں ہیں اور حکومت کی ساری کوششیں آپ کے ذریعے ہی ہوں گی اور وہ کوششیں آپ کے کھاتے میں جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آپ کے لیے زبردست موقع ہے کہ آپ ہمیشہ کے لیے اپنے حلقے کو محفوظ کرلیں گے، آپ کے مخالفین کے لیے برا وقت آگیا ہے،سیاسی مخالفین تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے، سیاسی مخالفین صرف مال بنانے کے لیے سیاست میں آئے ہیں۔

[pullquote]اسد عمر وزیراعظم عمران خان کے دفاع میں سامنے آگئے[/pullquote]

وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیراعظم کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہےکہ رضا کارفورس میں شامل ہونے کے لیے تحریک انصاف کا کارکن ہونا ضروری نہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ عمران خان کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ اس صورتحال میں جو بھی عوام سے جڑا نظر آئے گا اسے سیاسی فائدہ بھی ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے