بچے کیا چاہتے ہیں ، لاک ڈاؤن والے ایام کے تجربات

یہ قول کئی جگہ پڑا اور نظروں سے گذرا مگر قائل کا علم نہ ہوسکا کہ ” اپنے بچوں کو وقت دیجیے۔ قبل اس کے ان کے پاس بعد میں آپ کو دینے کے لیے وقت نہ ہو۔” اس پر سوچنے اوربعد ازاں عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں لاک ڈاؤن کو تین ہفتے ہونے کو ہے ۔ روزمرہ کے بے پناہ مصروفیات اور دفتری امور کے باعث میں نے لاک ڈاؤں کے پہلے دن ہی پلان بنالیاتھا کہ لاک ڈاؤن کے باعث چونکہ دفترکے کام سمیت مصروفیات کافی کم ہوگئی ہے لہذا کتب بینی کا شوق پورا کیا جائے گا ، اس کیلئے ڈھیر ساری کتابوں کا انتخاب بھی کرلیا تھا۔ اور اس پر عمل بھی شروع کرلیا تھا۔ صبح دفتر کیلئے عام دنوںکے باعث تھوڑا لیٹ نکلتا تھا ، اس لیے میرا بیٹا نعمان یاسر اور بیٹی نہرہ یاسر مجھ سے کھیتوں کے طرف ایک بار ساتھ ضرور جانے کے لیے اصرار کرتے تھے۔ کچھ دنوں بعد انہی عادت سے ہوگئی ، پھر میں ان سے جان چھڑانے کے خاطر کہتا بیٹا یہ لو پیسے ، یہ لو موبائل ، گیم کھیلو ، کارٹون دیکھو ، لیکن وہ ان کا اصرار ہوتا تھا کہ نہیں بابا آپ ہمارے ساتھ چلو ، ہمارے ساتھ باتیں کرو۔

ایک روز لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے اچانک میرے نظروں سے ایک ویڈیو کلپ گذری ، جس میں موجود سٹوری کا خلاصہ کچھ یوں تھا کہ ایک لڑکی خوش و خرم گھرانے میں پھلی بڑھی ، اس کے والدین اپنے کاروباری معاملات میں نہایت مصروفیت کے باعث اپنی اس بچی کو وقت نہیں دے پا رہے ہوتے ہیں ، وہ روز کوشش کرتی کہ اپنے والد اور والدہ سے دل کی کچھ باتیں شیئر کرسکی پر وہ ناکام رہتی ،اسی طرح سکول میں جب بھی اس کا کوئی فنکشن ہوتے ، یہ لڑکی اپنے والدین سے اس میں شرکت کے فرمائش کرتی لیکن والدین ہمیشہ اسے ڈاچ دے جاتے اور اپنے مصروفیات پیش کرلیتے ۔ اور کہتے کہ بیٹی تمہیں پیسوں کی ضرورت ہے تو یہ لو ، کپڑوں کی ضرورت ہے تو لے لو غرض ہرچیز کی پیش کرتے پر بچی یہی کہتی کہ نہیں اماں ، ابا مجھے پیسوں سمیت کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں مجھے تمہاری ضرورت ہے، تمہارے کندھے کی ضرورت ہے کہ آپ مجھے کچھ وقت دو میرے خوشی کے لمحات میں شریک ہو ، میرے پریشانی سنو ، مجھ سے باتیں کروں لیکن ہمیشہ آپ دونوں کی مصروفیات آڑے آجاتی ہے اس لیے اس نے سوچا کہ اس اکیلے پن کا علاج نشے سے بہتر کچھ نہیں اور اس لت میں وہ پڑگئی اور وہ سب حدود پار کرگئی جہاں سے واپسی ناممکن تھی۔

یہ طریقہ کار ہمارے معاشرے میں بعینہ پروان چڑھ رہا ہے ہماری سوچ ہوتی ہے کہ بچے کو بہلانے کا سب سے آسان طریقہ اسکے ہاتھ میں موبائیل فون، آئی پیڈ تھما دینا ہے۔ لیکن یقین جانئیے آپ اپنی سہولت کی خاطر اپنی اولاد کو خود "آگ کا انگارہ” اسکے حوالے کر رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو وقت دیجئے ، نئی ایجادات نہیں کیوں ان کی خواہش اور آرزو ہوتی ہے کہ آپ انہیں سنیں ، سمجھیں۔ ایسے واقعات سے سبق حاصل کریں ۔والدین کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کو پیدائش کے دن سے سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔ بلاشبہ ایک ذمہ دار والدین کی حیثیت سے یہ آپ کے لیے سب سے ضروری بات ہے۔ دانت کے درد کی تکلیف سے لے کر پیٹ کے درد تک اور نیپی بدلنے سے لے کر لڑکپن کے مسائل تک بچوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔بچوں کوسمجھنا ان کی بہتر پرورش کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپکا بچہ خاص شخصیت کا حامل ہے اور یہ خصوصیت ساری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہے۔ آپ کا رویہ بچے کی شخصیت کے مطابق ہو نہ کہ آپ اسکی شخصیت کو بدلنے کی کوشش کریں۔اپنے بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تاکہ آپ اسکو اور اسکے دوستوں کو جان سکیں،اور وہ بھی آپ سے اپنے مسائل شیئر کرسکے۔آپ کتنے ہی مصروف ہوں اسے تھوڑا وقت ضرور دیں تاکہ اسے پتہ ہو کہ آپ اس کی مدد کے لیئے موجود ہیں۔اپنے بچے کی بات رد کرنے کے بجائے غور سے سنیں اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تواسے اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔

بچوں کی پرورش اور تربیت بغیر وقت صرف کرنے کے ممکن نہیں ہے تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ جو بچے اپنے ماں باپ اور خاندان کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں وہ کم افسردہ ہوتے ہیں اور ان کے ہاں بد رفتاری کم نظرآتی ہے یہ بچے ذہین ہوتے ہیں اور سکول مدرسے کی مشقوں اور تمرینات کو اچھی طرح انجام دیتے ہیں بچوں کی حفاظت اور نگرانی ان کی تربیت سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے بچوں کی بہترنگرانی کے لئے ہم بعض جگہ محدودیت ایجاد کرنے پر مجبور ہیں اکثر والدین یہ خیال کرستے ہیں کہ لفظ نہ کہنے سے والدین اور بچے کے قریبی روابط میں خلل پیدا ہوجاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ محدودیت ایجاد کرنے سے بچے کی صحیح سمت میں تربیت کرنے میں کافی مدد ملتی ہے جو درحقیقت بچے کے مستقبل کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہی محدودیتیں بچے کوبہت سے خطرات سے محفوظ رکھتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں، ان سے باتیں کریں، انہیں اچھی اچھی باتیں بتائیں، جو علم اور معلومات آپ کے پاس ہیں وہ اپنے بچوں کو وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں، اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں کیونکہ جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو بچوں کو ایک بہت خوبصورت احساس محسوس ہوتا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دنوں سے میں نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اور میں نے اٹل فیصلہ کرلیا ہے کہ میں اپنے مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر اس میں مخصوص وقت اپنے بچوں کیلئے ضرور مختص کروں گا۔ آپ بھی بچوں کو وقت دیجیے ، ان کو سنیں، انہیں دوست بنائیں، دوستانہ ماحول فراہم کیجئے۔کیونکہ آپ کے بچوں کو آپ کی ضرورت ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ آپ انہیں سنیں وقت دیں۔ لہذا اس سے قبل کہ آپ کے بچے آپ کو سننے سے انکار کردیں ، آپ کا احکامات اور مشورے ان پر کارگر نہ ہو اس سے قبل انہیں سینے سے لگائیں اور انہیں اپنے قریب لائیں۔ دنیاوی راحتوں سے بڑھ کر آپ کی قربت ان کیلئے سب کچھ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے