کورونا سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے: وزیر اعظم

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عام آدمی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے محدود کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی ہے، اس ضمن میں ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔

اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو ملک بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال، ٹریکنگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ میں منتقل کرنے کے حوالے سے حکمت عملی و دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔

چئیرمین نيشنل ڈيزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حفاظتی انتظامات اور خصوصاً اسپتالوں میں حفاظتی سامان کی ترسیل کے بارے میں آگاہ کیا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ حفاظتی سامان کی تیسری کھیپ کل صوبوں کو ارسال کر دی جائے گی۔

اجلاس میں ماہِ رمضان کو پیش نظر رکھتے ہوئے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حکمت عملی بھی زیر غور آئی۔

وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے خلاف جاری اس جنگ میں پوری قوم ڈاکٹر، پیرا میڈکس اور دیگر میڈیکل اسٹاف کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو اس وبا کے خلاف ہراول دستہ بن کر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

[pullquote]’کورونا کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے میڈیا کا کلیدی کردار ہے ‘[/pullquote]

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے میڈیا کا کلیدی کردار ہے جس نے نہ صرف درست معلومات عوام تک پہنچانی ہیں بلکہ منفی اور غلط پروپیگنڈے کا بھی مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کورونا وائرس سے متعلق درست معلومات پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ صحیح اعدادوشمار پر مبنی ڈیٹا کی بنیاد پر حکمت عملی اختیار کی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چاروں صوبوں میں فیلڈ اسپتال بنائے جائیں گے جب کہ علمائے کرام سے ملاقات کرکے ماہِ رمضان کے حوالے سے حکمت عملی تشکیل دیں گے۔

[pullquote] پاکستان میں کورونا کےکیسز کی تعداد 6 ہزار 800 سےتجاوز[/pullquote]

خیال رہے کہ پاکستان بھر میں کورونا کے کیسز کی تعداد 6 ہزار 800 سے تجاوز کرچکی ہے جن میں سے 131 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ملک بھر میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 30 اپریل تک لاک ڈاؤن ہے اور حکومت نے گذشتہ دنوں چند شعبوں کو کام کرنے کی اجازت دی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے