احسان ﷲ احسان کے والد سمیت چچا اور دیگر دس افراد کو بازیاب کرانے کیلئے درخواست

پاکستان کی عدالتوں پر خودکش حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کے قریبی رشتہ دارروں نے انصاف کے حصول کیلئے عدالت کے دروازہ پر دستک دے دی۔ انہوں نے پشاور کی عدالت عالیہ سے درخواست کی ہے کہ ان کے لاپتہ رشتہ داروں کو بازیاب کرایا جائے۔

پشاور ہائی کورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے قریبی رشتہ دار نے احسان ﷲ احسان کے والد سمیت چچا اور دیگر دس افراد کو بازیاب کرانے کیلئے درخواست جمع کی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے ان کے رشتہ دار لاپتہ ہیں اور عدالت انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے احسان ﷲ احسان کے کے والد ، تین بھائیوں، چچا، چچا زاد اور ماموں زاد بھائیوں، برادر نسبتی، اورایک دوست کوبازیاب کرائیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ ہفتے عدالت میں ان کی درخواست پر شنوائی ہو گی۔ پشاور ہائی کورٹ میں طالبان ترجمان کے رشتہ داروں کیلئے درخواست کس نے جمع کی ہے ؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔

پشاور ہائی کورٹ میں قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے مقامی شخص عصمت اللہ نے وکیل کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ رواں سال 12جنوری سے ان کے 10 قریبی رشتہ دار اپر مہمند ضلع سے لاپتہ ہیں۔ عدالت عالیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے انہیں بازیاب کرے، درخواست گزار کے وکیل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں جمعہ کے روز درخواست جمع کی گئی ہے جس پر پیر یا منگل کو ابتدائی سماعت ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ جن افراد کی بازیابی کیلئے انہوں نے درخواست دائر کی ہے وہ طالبان کے سابق ترجمان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر وہ فوجداری و دیوانی مقدمات کی پیروی کرتے ہیں اور انہوں نے پہلے بھی لاپتہ افراد کے متعلق عدالت عالیہ میں درخواستیں جمع کیں ہیں تاہم قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے شخص نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ لاپتہ 10 افراد میں طالبان کے سابق ترجمان کے والد اور رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ طالبان نے کون سی عدالتوں کو نشانہ بنایا ؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔

2008سے 2016تک کالعدم عسکریت پسند تنظیموں نے خیبر پختونخوا اور ملک کے مختلف علاقوں میں عدالتوں، تعلیمی اداروں، عوامی مقامات، چیک پوسٹوں، پولیس سٹیشنز اور دیگر فوجی مقامات کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا، اور ان مقامات پر حملوں کے باقاعدگی کے ساتھ ذمہ داری بھی قبول کی۔ پشاور میں پہلے جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ کو خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا بعدازاں موجودہ جوڈیشل اکیڈمی اور اس وقت کی سیشن عدالت پر بھی خودکش حملہ کیا گیا اسی طرح پشاور ہائی کورٹ کے ساتھ متصل نئے قائم ہونے والے جوڈیشل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

ان تمام حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد شہید ہوئے۔ چارسدہ کی عدالت کے علاوہ شبقدر میں بھی عدالت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جس میں چالیس سے زائد افراد جان بحق ہوئے۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل ، کوہاٹ، بنوں اور دیگر مقامات پر بھی طالبان نے جو خودکش حملے کئے ان میں سے متعدد حملوں کی ذمہ داری اس وقت کے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کی لیکن اب وہ خود اپنے رشتہ داروں کی بازیابی کیلئے اسی عدالت کا دروازہ کھٹکٹھا رہا ہے کے در و دیوار کو ان کی دہشت گرد تنظیم نے ہر ممکن گرانے کی کوشش کی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے