سلسلہ اسباب سے متعلق اشاعرہ کے موقف کی درست تفہیم

علم کلام کا اصل موضوع نصوص کی روشنی میں ذات وصفات الہی کی تفہیم اور پیدا ہونے والے سوالات واشکالات کی وضاحت ہے۔ اللہ تعالی کی صفت خلق کے بارے میں ایک عقلی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کائنات میں ہر ہر حرکت براہ راست اللہ کے حکم اور ارادے کے تحت ہو رہی ہے یا اللہ نے خود مادے میں کچھ ایسے قوانین ودیعت کر دیے ہیں جن کے تحت وہ حرکت وتغیر کا سفر ایک خاص طریقے پر طے کرتا رہتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں جمہور متکلمین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اشیاء میں مخصوص طبیعتوں اور خواص کا رکھا جانا اور مختلف اشیاء کے مابین سبب اور مسبب کے تعلق کا پایا جانا اللہ کی توحید اور قدرت کے منافی نہیں، اور خدا پر ایمان اور توحید کے ساتھ اس کی منافات صرف اس صورت میں ہے جب کائنات کا خالق اللہ کو نہ مانا جائے اور اشیاء کے طبائع کو ان کی ذاتی اور لازمی خصوصیت سمجھا جائے۔ اس کے مقابلے میں متکلمین اشاعرہ کا عمومی موقف یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ثانوی اسباب کا کوئی سلسلہ کائنات میں موجود نہیں اور مادہ ہر آن اپنی ہر حرکت کے لیے حکم الہی کا محتاج ہے۔

اسباب کے اندر ایک طبعی تاثیر کی نفی کے حوالے سے اشاعرہ کا موقف بظاہر عجیب سا لگتا ہے اور جمہور متکلمین کا موقف نصوص شرعیہ اور عقل عام، دونوں کے زیادہ قریب ہے، اس لیے بعض متاخرین نے اس نسبت پر کچھ تردد ظاہر کیا ہے۔ مثلا علامہ انور شاہ صاحب نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اشاعرہ کو یہ غلطی غالبا امام ابو الحسن اشعری کی کسی بات کا صحیح مطلب نہ سمجھنے کی وجہ سے لاحق ہوئی ہوگی۔ (فیض الباری ج 6 ص 51) اس کے برعکس ایک دوسرا رویہ کلامی روایت کے بعض معاصر مورخین اور ناقدین کے ہاں دکھائی دیتا ہے جو اشاعرہ کو بحیثیت مجموعی ایک عقلیت دشمن گروہ تصور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر علی عباس جلال پوری اپنی کتاب ’’اقبال کا علم کلام‘‘ میں اسباب وطبائع کی نفی کے حوالے سے اشاعرہ کے موقف پر یوں تبصرہ کرتے ہیں۔
’’اشاعرہ نے کہا زمان کوئی مسلسل حرکت یا مرور نہیں ہے بلکہ آنات پر مشتمل ہے جنھیں ہر لحظہ تخلیق کرتا رہتا ہے۔ یہ کہہ کر گویا انھوں نے سبب اور مسبب یا علت اور معلول کے تعلق وربط باہم سے انکار کر دیا اور کہا کہ کوئی سبب کسی مسبب کا باعث نہیں ہوتا۔ اس نظریے نے سائنٹیفک تحقیق کو سخت نقصان پہنچایا کیونکہ سائنٹیفک تحقیق کی بنیاد ہی سلسلہ سبب ومسبب پر استوار ہوتی ہے۔ جب اہل علم اسباب ومسببات کے ربط وتعلق سے قطع نظر کر لیں تو وہ سائنس میں ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سائنس دانوں کی ساری کوششیں جزوی تجربات تک محدود ہو کر رہ گئیں اور فقہا کے خوف سے انھیں بھی تجربات سے مستقل نظریات کے مرتب کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ تاریخ فلسفہ وسائنس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے فلسفیانہ فکر وتدبر تحقیق علمی کے لیے زمین ہموار کرتا ہے، اس کے بعد اس میں سائنس کی تخم ریزی کی جاتی ہے۔

معتزلہ اگرچہ متکلم تھے لیکن عقلی استدلال کو اولیں اہمیت دیتے تھے جس سے تحقیق وفکر کو تقویت پہنچنے کا قوی امکان تھا۔ اس عقلی کاوش کو فلسفہ وسائنس کی ہمہ گیر ترویج پر منتج ہونا چاہیے تھا، لیکن اشاعرہ اور حنابلہ کی کم نظری اور تعصب نےنے اس امکان کا سدباب کر دیا اور ہر کہیں ذہنی جمود وتعطل کا دور دورہ ہو گیا۔ ڈاکٹر سخاو نے سچ کہا ہے اگر مسلمانوں میں اشعری اور غزالی نہ ہوتے تو ان میں اب تک کئی گلیلیو اور نیوٹن پیدا ہو چکے ہوتے۔‘‘ (اقبال کا علم کلام، ص ۳۴)

[pullquote]اس پس منظر میں اشاعرہ کے موقف کی درست تفہیم کے لیے چند بنیادی نکتوں کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔[/pullquote]

سب سے پہلا اور اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اشاعرہ کے موقف کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مادہ اور اس کی حرکت وتغیر کے مطالعے اور جزئیات کے استقرا سے عمومی اصول اخذ کرنے کی کوئی علمیاتی بنیاد موجود نہیں اور یوں یہ موقف سائنسی تحقیق کے امکانات کی مکمل نفی کر دیتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ استنتاج درست نہیں اور سلسلہ اسباب کی نفی، عمومی اصول اخذ کرنے کے عدم جواز کو مستلزم نہیں- اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کو ہم ’’عمومی اصول‘‘ کہتے ہیں، وہ دراصل مادے کی حرکت کے ایک مخصوص پیٹرن کا نام ہے جو قابل مشاہدہ وقابل تجربہ ہے، اور جس کی نفی کی ہی نہیں جا سکتی، الا یہ کہ امکان علم سے متعلق سوفسطائیہ کی پوزیشن قبول کر لی جائے۔ اشاعرہ اس پیٹرن کے موجود ہونے اور استقراء کے ذریعے سے اس کو علمی طور پر منضبط کرنے کی نفی نہیں کرتے۔ ان کا اختلاف دراصل اس سے جڑے ہوئے ایک دوسرے سوال کے حوالے سے ہے کہ آیا مادے کی حرکت میں یہ پیٹرن خود مادے میں موجود کچھ قوانین کے تحت ہے یا براہ راست حکم الہی کے تحت۔ اب اس سوال کا جو بھی جواب دیا جائے، مادے میں پیٹرن کا پایا جانا بہرحال ثابت ہے اور اس کی بنیاد پر مادے کے مطالعے کے حوالے سے عملی انسانی رویے میں نتیجے کے اعتبار سے خاص اختلاف واقع نہیں ہوتا۔ فرق صرف مابعد الطبیعی توجیہ کی سطح پر ہوگا کہ اسباب کا اثبات کرنے والے اس مطالعے کو مادے کے قوانین کا مطالعہ کہیں گے، جبکہ اشاعرہ اسے مادے میں تصرف کے حوالے سے اللہ تعالی ٰ کی ’’عادت ‘‘ کے مطالعے سے تعبیر کریں گے۔

اس کو جدید مغربی فلاسفہ میں سے ڈیوڈ ہیوم کے نقطہ نظر سے سمجھا جا سکتا ہے جس کا موقف (کچھ کمی بیشی کے امکان کے ساتھ) یہ ہے کہ حوادث کے پیچھے کسی ’’علت ‘‘ کے پائے جانے کا تصور فلسفیانہ طور پر ناقابل اثبات ہے اور ہم دراصل جب تسلسل کے ساتھ ایک واقعے (مثلا جل جانے کو) کسی دوسرے واقعے (مثلا آگ لگنے) سے جڑا ہوا دیکھتے ہیں تو اس تعلق کی تفہیم کے لیے ’’علت ‘‘ کا تصور قائم کر لیتے ہیں۔ (بعینہ یہی استدلال ہمیں امام غزالی کے ہاں بھی ملتا ہے)۔ لیکن اس کے باوجود ہیوم عملی سطح پر تجربہ واستقراء کی نفی نہیں کرتا، بلکہ ’’سائنسی علم‘‘ کے بڑے حامیوں میں سے ایک ہے۔

[pullquote]اب یہ سمجھنا چاہیے کہ اشاعرہ سلسلہ اسباب کی نفی پھر آخر کیوں کرنا چاہتے ہیں؟[/pullquote]

دراصل اشاعرہ کے سامنے فلاسفہ طبیعیین (یعنی کائنات اور اس کے حوادث کی تفہیم وتوجیہ کو مادی قوانین تک محدود کرنے والے فلسفیوں) کے مختلف نظریات تھے جن کے مقابلے میں انھیں مذہبی موقف اور استدلال طے کرنا تھا۔ ان میں سے بعض عالم کو اپنے تمام مظاہر کے ساتھ ہمیشہ سے اسی طرح موجود قرار دیتے تھے اور اس میں کسی صانع یا خالق کا کوئی کردار تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ایک دوسرا گروہ سلسلہ علت ومعلول کو تسلسل کی منطقی خرابی سے بچنے کے لیے ایک علت العلل تک تو منتہی مانتا تھا، لیکن اسے کسی ارادہ وشعور رکھنے والی ہستی کا فعل نہیں سمجھتا تھا۔ پھر یہ سب گروہ کائنات میں جاری سلسلہ اسباب وعلل کو ایسا حتمی اور دائمی تصور کرتے تھے کہ خدا بھی، اگر کوئی ہو تو، اس کا پابند تھا اور اس سے ہٹ کر نظام کائنات میں کوئی تصرف نہیں کر سکتا تھا۔

یہ تمام تصورات، ظاہر ہے خدا کے مذہبی تصور اور کائنات میں خدا کے مسلسل متصرف ہونے کے عقیدے سے متصادم تھے، چنانچہ اشاعرہ نے مذہبی موقف کے دفاع کے لیے باری تعالٰی کی صفات میں کسی بھی پابندی سے آزاد ارادہ اور قدرت کے اثبات پر سب سے زیادہ زور دیا اور بحث ومجادلہ میں فریق مخالف کے استدلالی امکانات کو محدود سے محدود تر کرنے کے لیے یہ پوزیشن اختیار کی کہ سبب وعلت کے جس تصور پر فلاسفہ کا پورا نظام فکر کھڑا ہے، وہی فی نفسہ ثابت نہیں اور یہ کہ عالم اپنے وجود میں آنے اور اپنی بقا کے لیے ہر آن ارادہ الہی کا محتاج ہے اور مادے میں ایسی کوئی صفت سرے سے موجود ہی نہیں جو اسے خدا کے ارادے سے بے نیاز یا اس کی قدرت کے آگے مزاحم بنا سکے۔

دوسرے کلامی گروہوں نے جب اس حوالے سے، بنیادی عقیدہ کو قائم رکھتے ہوئے، ایک مختلف پوزیشن اختیار کی تو رفتہ رفتہ یہ بحث اپنی appearance میں علم کلام کی ایک داخلی بحث بنتی چلی گئی اور اشاعرہ نے اس میں کافی متشدد رویہ بھی اختیار کر لیا، لیکن بحث کا اصل تناظر فلسفے کے مقابلے میں مذہبی موقف کی تعیین تھا اور، جیسا کہ ہم نے دیکھا، وہاں یہ موقف بنیادی طور پر مناظرہ ومجادلہ کی ضرورت کے تحت اختیار کیا گیا تھا۔

اشاعرہ کے استدلال کا اصل روئے سخن، جیسا کہ واضح کیا گیا، فلاسفہ کی طرف تھا، لیکن متکلمین کے باہمی اختلاف کی وجہ سے اسباب کی نفی یا اثبات کی بحث گھر کی لڑائی بن گئی۔ تاہم، بعض دوسرے مباحث کی طرح، اس مبحث میں بھی بعض متاخرین نے گفتگو کے اصل تناظر کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے ابن خلدون کے ہاں جو تنقیحات ملتی ہیں، ان کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔

[pullquote]ابن خلدون نے سلسلہ علل واسباب اور ان کی تحقیق کے متعلق تین نکتے ذکر کیے ہیں۔[/pullquote]

پہلا یہ کہ اشیاء کی اپنی خاص طبائع اور خصوصیات ہوتی ہیں جن کے تحت وہ عمل کرتی ہیں اور اللہ تعالی نے پورے عالم کو اسباب ومسببات کے باہمی ربط کے اصول پر تخلیق فرمایا ہے۔

دوسرا یہ کہ سبب کے مسبب میں موثر ہونے کی واقعی حقیقت اور کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ ہمارا مشاہدہ اور علم دو مظاہر کے ظاہری ربط تک محدود ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہم واقعات کے باہمی ربط سے یہ تصور تو اخذ کر سکتے ہیں کہ ایک واقعہ دوسرے میں موثر ہے، لیکن وہ کیسے موثر ہے اور اس تاثیر کی واقعی حقیقت کیا ہے، یہ ہمارے علم کے حدود سے ماورا ہے۔

تیسرا یہ کہ انسانی مشاہدہ اور تجربہ کا دائرہ چونکہ محدود ہے، اس لیے وہ واقعات کے قریبی اسباب ہی کو متعین کر سکتا ہے، پوری کائنات کی سطح پر سلسلہ اسباب کی مکمل تفہیم انسانی علم کی بساط سے باہر ہے۔ اس لیے انسانی تجربہ ومشاہدہ کے حدود کے اندر تو واقعات کی توجیہ اسباب کے حوالے سے بالکل درست بلکہ ضروری ہے، لیکن اس دائرے سے آگے سلسلہ اسباب کی ساری کڑیوں کا علم چونکہ ممکن نہیں، اس لیے اٹکل پچو باتیں کہنے کے بجائے وہاں براہ مسبب الاسباب یعنی اللہ تعالی ٰ کا حوالہ دے دینا زیادہ معقول طریقہ ہے، کیونکہ سارے سلسلہ اسباب کے پیچھے اسی کا فیصلہ کارفرما ہے۔

[pullquote]ابن خلدون کی اس تنقیح کے تین اہم مضمرات قابل توجہ ہیں۔[/pullquote]

ایک تو یہ کہ انھوں نے اشاعرہ اور جمہور متکلمین کے موقف میں ایک تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کے مطابق سلسلہ اسباب کا جاری وموثر ہونا خدا اور اس کی صفات وافعال پر ایمان کے منافی نہیں، بلکہ اس سے ہم آہنگ ہے۔

دوسرے، سلسلہ اسباب کو پوری کائنات میں جاری مانتے ہوئے، انسانی علم کی محدودیت کی روشنی میں فلاسفہ کی غلطی کو واضح کیا ہے جو ہر ہر واقعہ کی توجیہ انسانی مشاہدے میں آنے والے اسباب کے تحت کرنے پر اصرار کرتے اور یوں معجزہ اور خرق عادت کو خارج از امکان قرار دیتے تھے۔

(اسی نکتے کا ایک اہم مضمر معجزہ کی ماہیت سے متعلق بھی ہے کہ آیا معجزہ فی الواقع جاری سلسلہ اسباب کو معطل کر کے وقوع میں لایا جاتا ہے یا اسے محض انسانی مشاہدے یا انسانی قدرت وتصرف کے تحت آنے والے سلسلہ اسباب سے ماورا ہونے کی وجہ سے خرق عادت کہہ دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقتا وہ بھی کائناتی سطح پر جاری وسیع تر سلسلہ اسباب کے تحت ہی ہوتا ہے؟ اس دوسرے زاویہ نظر کی نمائندگی ہمارے ہاں خاص طور پر شاہ ولی اللہ اور مولانا فراہی وغیرہ کے ہاں دیکھی جا سکتی ہے)۔

اور تیسرے، علت ومعلول یا موثر اور اثر کے باہمی ربط کی تفہیم کے حوالے سے اس فلسفیانہ مشکل کا بھی ایک حل بتایا ہے جس کا ذکر بحث کی ابتدا میں امام غزالی اور ڈیوڈ ہیوم کے حوالے سے کیا گیا تھا اور جو آج بھی فلاسفی آف سائنس میں اسی طرح ایک سوال کے طور پر موجود ہے۔ یعنی یہ کہ ہم تاثیر کی اصل کیفیت کو نہیں جان سکتے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک شے اور دوسری شے کے مابین تاثیر کے تعلق کا ہی سرے سے انکار کر دیا جائے۔

نظام کائنات کی تفہیم تو اشاعرہ کی ایسی ہی ہے جو آپ نے بیان کی۔ لیکن میرے نقطہ نظر سے اس تفہیم کا اصل محرک کون سا سوال تھا، یہ اہم ہے۔ کیا اشاعرہ اس سوال پر، کسی پس منظر سے مجرد ہو کر، غور کر رہے تھے کہ کائنات میں حوادث کیسے وقوع پذیر ہیں اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کا موجب ہر ہر آن میں براہ راست ارادہ الہی ہے؟ میری رائے میں یہ بات درست نہیں اور اس کے قرائن مزید وضاحت سے بتائے جا سکتے ہیں۔ دراصل وہ فلاسفہ کے تصور علت سے مذہب کے لیے پیدا ہونے والے سوالات کا بندوبست چاہتے تھے اور اس میں صرف امکان معجزہ نہیں، بلکہ خدا کے ایک صاحب ارادہ ومتصرف ہستی ہونے کا سوال بھی بنیادی تھا۔ مذہبی نتائج سلسلہ اسباب کے اثبات کے ساتھ بھی قابل حصول تھے، لیکن اشاعرہ نے ایک زیادہ جارحانہ موقف اختیار کرنے کو ترجیح دی۔

اب تھوڑی سی گفتگو اس نکتے پر بھی کر لی جائے کہ سلسلہ اسباب وعلل کی نفی کے اشعری موقف کا اسلامی تہذیب میں سائنسی تحقیق کے فروغ یا عدم فروغ کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں اور اگر بنتا ہے تو اس کی ممکنہ نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔

بحث کى ابتدا میں واضح کیا گیا کہ اشاعرہ واقعات ومظاہر میں ایک خاص ’’عادت’’ یعنی پیٹرن کے منکر نہیں ہیں، کیونکہ اس کا انکار بدیہیات کا انکار ہے۔ وہ صرف اس ’’عادت ‘‘ کی مابعد الطبیعی توجیہ، بعض کلامی ضرورتوں کے تحت، علت ومعلول کے تصور کے بجائے تخلیق مسلسل کے تصور کے تحت کرنا چاہتے ہیں۔ امام غزالی نے بھی فلاسفہ پر نقد کرتے ہوئے علت ومعلول کے تصور پر سوال، طبیعی علوم کے جواز کے حوالے سے نہیں اٹھایا، بلکہ فلاسفہ کے انکار معجزات کے موقف کے جواب میں پیش کیا ہے۔ یہ موقف نہ تو منطقی طور پر سائنسی تحقیق یعنی طبیعی مظاہر کے اسباب وعلل کی کھوج لگانے کے منافی ہے اور نہ تاریخی طور پر اس کے مزعومہ اثرات کا کوئی ثبوت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون کے لیے بحیثیت مجموعی اشعری فریم ورک میں رہتے ہوئے، معمولی ترمیم سے اشاعرہ اور جمہور متکلمین کے موقف میں تطبیق پیدا کرنا اور طبیعی مظاہر کے قریبی سلسلہ اسباب کی تحقیق کی ضرورت کو واضح کرنا آسانی سے ممکن ہو گیا۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بالفرض اشاعرہ کا موقف انھیں لازما سائنسی تحقیق کے خلاف پوزیشن لینے کا پابند کرتا ہو تو بھی ان کا موقف مجموعی اسلامی روایت میں قبول نہیں کیا گیا اور کلام، فلسفہ اور نقلی علوم کے تینوں دائروں میں کسی بھی دوسرے مکتب فکر نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ چنانچہ کلام میں معتزلہ اور ماتریدیہ اور منقولی علم کے دائرے میں محدثین کی پوری جماعت سلسلہ اسباب وعلل کی قائل اور اشاعرہ کی ناقد رہی ہے (جس کی جامع ترجمانی امام ابن تیمیہ کے ہاں ملتی ہے)، جبکہ مسلمان فلاسفہ کا موقف تو معلوم ہی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلامی تاریخ میں سائنسی تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے حضرات اپنے پس منظر کے لحاظ سے فلاسفہ کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان پر اشعری موقف کا اثرانداز ہونا بدیہی طور پر غیر معقول ہے۔ پس اسلامی تاریخ میں سائنسی تحقیق کا عمل ایک خاص سطح سے آگے کیوں نہیں بڑھ سکا، اس کی توجیہ کے لیے دیگر اسباب وعوامل کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ اشاعرہ کے نفی اسباب کے موقف کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا منطقی اور تاریخی، دونوں اعتبار سے بہت کمزور استدلال ہے۔
اب تک کی بحث میں یہ نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ ثانوی اسباب کی نفی کا موقف اشاعرہ نے بنیادی طور پر فلاسفہ کے تصورعلت وسبب سے اخذ کیے گئے نتائج کے رد کے لیے اختیار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلسلہ اسباب کے اثبات کو فی نفسہ خدا کی قدررت کے مطلق اور محیط ہونے کے منافی سمجھنا، اشاعرہ کے موقف کا کوئی ضروری ار غیرمنفک لازم نہیں ہے۔

اب ہم اس زاویہ نظر کی مزید تائید کے لیے امام غزالی کی احیاء العلوم سے ایک دو بحثوں پر نظر ڈالتے ہیں جن میں وہ فلاسفہ کے مد مقابل نہیں ہیں اور داخلی تناظر میں الہیات کے بعض مباحث پر روشنی ڈالتے ہوئے سلسلہ اسباب وعلل کا اثبات اور اللہ کے ارادہ وقدرت کے ساتھ اس کے تعلق کو واضح کر رہے ہیں۔
احیاء العلوم کی ’’کتاب التوحید والتوکل‘‘ میں امام غزالی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کائنات میں ہر طرف خدا ہی کی قدرت اور ارادہ کارفرما ہے اور وسائط واسباب بھی اپنے اثرات ازخود نہیں، بلکہ خدا ہی کے حکم کے تحت جبرا مرتب کر رہے ہیں (الوسائط والاسباب مسخرات)، لیکن انسان کا معاملہ تو مختلف ہے، کیونکہ وہ اپنے ارادہ اور اختیار سے کوئی کام کرتا یا نہیں کرتا ہے۔ تو اس اختیار کو خدا کی توحید سے کیسے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟ غزالی کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ اختیار کا جوہر ’’مشیئت ‘‘ ہے، یعنی کسی چیز کو چاہنا۔ یہ ’’مشیئت ‘‘ انسان کی ذاتی نہیں ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے ملی ہے۔ مثلا انسان چاہے تو حرکت کرے اور چاہے تو ساکن رہے، یہ اختیار اس کو حاصل ہے، لیکن یہ ’’چاہنا’’ اس کا اپنا فیصلہ نہیں ہے۔ وہ ’’چاہنے ‘‘ پر مجبور ہے، چاہے ایک چیز چاہے یا دوسری۔

)اس سوال کو ایک دوسرے زاویے سے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اگر ’’توحید ‘‘ یہ ہے کہ پوری کائنات حکم الہی کے آگے ’’مجبور ‘‘ ہو تو اس جبر میں سے، خدا کے علاوہ کسی کے لیے اختیار کی گنجائش کیسے نکل سکتی ہے؟ غزالی کے جواب کے مطابق، انسان کو حاصل اختیار اللہ کی قدرت سے باہر، کسی دوسرے مصدر سے نہیں آیا، بلکہ وہ بھی خدا ہی کی قدرت اور ارادے کا نتیجہ ہے۔ غزالی اس صورت حال کو ’’الجبر علی الاختیار‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی خدا نے اپنی مرضی اور ارادے سے انسان میں اختیار پیدا کر دیا ہے جو اس کی قدرت کا ایک اثر اور نتیجہ ہونے کی وجہ سے قدرت مطلقہ کے خلاف نہیں۔ یوں خدا کا فعل ’’اختیار محض‘‘ ہے، طبیعی اسباب کا فعل ’’جبر محض‘‘ ہے، جبکہ انسان کا فعل جبر واختیار کا مرکب ہے۔)

یہاں غزالی ایک تو کائنات میں سلسلہ اسباب کے جاری ہونے کا ذکر کر رہے ہیں جو چونکہ خدا ہی کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق کام کر رہا ہے، اس لیے اس سے اشاعرہ کے تصور کے مطابق توحید پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ دوسرے وہ طبیعی سلسلہ اسباب کے موثر ہونے سے آگے بڑھ کر، جو اپنے اثرات مرتب کرنے پر مجبور محض ہیں، انسان کو حاصل ’’اختیار ‘‘ کو بھی توحید کے منافی نہیں سمجھتے، کیونکہ اس اختیار میں جو ’’مشیئت ‘‘ کا بنیادی عنصر ہے، وہ انسان کو اللہ ہی کی طرف سے حاصل ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طبیعی اسباب میں ایک فطری تاثیر کا پایا جانا بدرجہ اولی ’’توحید ‘‘ کے منافی نہیں۔ پس اشاعرہ اور جمہور متکلمین کے مابین اس حوالے سے کوئی اصولی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

غزالی نے احیاء کی ’’کتاب التوحید والتوکل‘‘ میں ہی توکل کی حقیقت پر کلام کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اسباب اختیار کرنے کا توکل کے ساتھ کیا رشتہ بنتا ہے۔ غزالی کا جواب یہ ہے کہ توکل کا مطلب اللہ کے علم، حکمت اور شفقت پر کامل اعتماد کرنا ہے، ایسے ہی جیسے کسی عدالتی مقدمے میں اسی کو اپنا وکیل بنایا جاتا ہے جس کی مہارت اور ہمدردی پر بھروسہ ہو۔ عدالت میں مقدمہ وکیل نے ہی لڑنا ہوتا ہے، لیکن اس ضمن میں کچھ ذمہ داری موکل کی بھی ہوتی ہیں، مثلا ضروری دستاویزات مہیا کرنا، بروقت عدالت میں پہنچنا وغیرہ۔ وکیل پر بھروسے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آدمی وہ کام بھی نہ کرے جو اس کے ذمے ہے۔ اسی طرح اللہ پر توکل، ان اسباب کو اختیار کرنے کے منافی نہیں جو انسان کے بس میں رکھے گئے اور انھیں اختیار کرنے کی اسے تلقین کی گئی ہے۔

اس ضمن میں غزالی، انسانی تجربہ واستقرا کے اعتبار سے، اسباب اور مسببات کے باہمی رشتے کو تین درجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ اسباب جن سے مسببات کا پیدا ہونا انسانی تجربہ ومشاہدہ کے لحاظ سے یقینی ہے۔ دوسرے وہ جن کا رشتہ مسببات سے غالب گمان پر مبنی ہے۔ اور تیسرے وہ اسباب جن پر مسببات کا مرتب ہونا قابل اعتماد شواہد پر مبنی نہیں۔ ان تینوں طرح کے اسباب کو اختیار کرنے کا ازروئے توکل کیا حکم ہے، غزالی نے اس تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اس بحث سے جہاں اسباب ومسببات میں باہمی تاثیر کا تعلق ثابت ہوتا ہے اور یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسباب کو اختیار کرنا ہرگز توکل کے منافی نہیں، اسی طرح اگر اس فریم ورک کو سائنسی تحقیق کے میدان میں منطبق کیا جائے تو تجربہ واستقرا کے ذریعے سے عمومی قوانین اخذ کرنے اور ان کی درجہ بندی کا تصور بھی واضح طور پر سامنے آتا ہے۔ پس یہ کہنا کہ اشاعرہ کا تصور اسباب، سائنسی تحقیق کے ساتھ کوئی جوہری اور لازمی عدم مناسبت رکھتا ہے، ایک بہت کمزور تجزیہ ہے۔ مسلم تہذیب میں سائنسی تحقیق اس رخ پر آگے کیوں نہیں بڑھ سکی جو یورپ میں نظر آتی ہے، اس کے اسباب دوسرے ہیں جن کی الگ سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ زیر نظر سوال کی حد تک ، اس گفتگو کا اختتام جان وال برج کے اقتباس پر کرنا مناسب ہوگا۔ جان وال برج لکھتے ہیں:

Various theories have been offered. Perhaps successive barbarian invasions of the Middle East by Turkic and Mongol hordes exhausted the economic and cultural resources of the Islamic world, thus draining Islamic science of the resources that it needed to flourish. Other theories posit an Islamic hostility toward the rational sciences, leading to their exclusion from the madrasas and the persecution of Islamic scientists. Finally, it has been suggested that science generally failed to capture the imagination of Muslim intellectuals. None of these theories is particularly convincing. The problem with most of the discussions of Islam and the Scientific Revolution is that they have been conducted by historians of medieval European science dependent on a very narrow range of Islamic sources. In this they have not been much aided by historians of Islamic science, who have been overwhelmed by the number of unread and unedited medieval Islamic scientific texts and have understandably been reluctant to generalize about the larger questions of the role of science in Islamic civilization and the causes of its ultimate failure. (John Walbridge, God and Logic in Islam: The Caliphate of Reason, p. 98, Cambridge University Press,2011)

’’(اس سوال کے جواب میں) مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ غالبا ترک اور منگول حملہ آوروں کی شرق اوسط پر مسلسل یلغار نے اسلامی دنیا کو اقتصادی اور ثقافتی وسائل کے لحاظ سے دیوالیہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے اسلامی سائنس ان وسائل سے محروم ہو گئی جو اسے ترقی پانے کے لیے درکار تھے۔ کچھ دیگر نظریات کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی عقلی علوم کے ساتھ مخاصمت اس کی وجہ تھی جس کا نتیجہ ان علوم کو مدارس کے نصاب سے نکال دیے جانے اور مسلمان سائنس دانوں کے لیے حالات کو مشکل بنا دینے کی صورت میں نکلا۔ سب سے آخر، میں یہ نقطہ نظر بھی پیش کیا گیا ہے کہ سائنس عموما مسلم اہل دانش کی علمی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی نظریہ فی نفسہ مطمئن کرنے والا نہیں۔ اسلام اور (یورپ کے) سائنسی انقلاب پر ہونے والی زیادہ تر بحثوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ قرون وسطی کی یورپی سائنس کے ایسے مورخین نے کی ہیں جن کا انحصار اسلامی مآخذ کی ایک بہت ہی محدود تعداد پر رہا ہے۔ ان کے اخذ کردہ نتائج میں اسلامی سائنس کے مورخین ان کی زیادہ تائید نہیں کرتے جو قرون وسطی میں اسلامی سائنسی متون کے ایسے متون کی بہت بڑی تعداد پر بے حد متعجب ہوتے ہیں جن کو ابھی تک پڑھا یا ایڈٹ نہیں کیا جا سکا اور اسی لیے قابل فہم طور پر وہ اس نوعیت کے وسیع تر سوالات کے حوالے سے کوئی عمومی نظریہ پیش کرنے کی جسارت نہیں کرتے کہ اسلامی تہذیب میں سائنس کا کیا کردار رہا ہے اور مآل کار اس کے ناکام ہو جانے کے اسباب کیا ہیں۔‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے