افغانستان سےجڑی تین اہم ترین خبریں

[pullquote]افغان صدر اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شرکت اقتدار کا معاہدہ طے ہوگیا[/pullquote]

افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان ایک بار پھر شرکت اقتدار کا معاہدہ طے پاگیا۔ صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے ٹوئٹر پوسٹ میں بتایا ہے کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ ترجمان کے مطابق عبداللہ عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان کی ٹیم کے ارکان کو کابینہ میں بھی شامل کیا جائے گا جب کہ معاہدے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔ عبداللہ عبداللہ اشرف غنی کے ساتھ گذشتہ دور حکومت میں بھی ایک معاہدے کے تحت اقتدار میں شریک تھے اور انہیں افغان چیف ایگزیکٹو کا عہدہ حاصل تھا۔گذشتہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی تھی لیکن انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور صدر کی حیثیت سے حلف اٹھاتے ہوئے اشرف غنی کے مقابلے میں متوازی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عبداللہ عبداللہ کی جانب سے متوازی حکومت کے اعلان کے بعد افغان حکومت کو ایسے وقت میں سیاسی بحران کا سامنا تھا جب وہ افغان طالبان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں مصروف ہے۔ گذشتہ ماہ امریکا کی جانب سے بھی فریقین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اس معاملے کو حل کریں تاکہ طالبان کے ساتھ بین الافغان مذاکرات پر پیش رفت کی جاسکے۔

[pullquote]طالبان کا افغان انٹیلی جنس کے دفتر پر خود کش حملہ، 7 اہلکار ہلاک[/pullquote]

افغانستان کے صوبے غزنی میں انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) کے دفتر پر طالبان کے کار بم حملے میں 7 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔ افغان حکام کے مطابق کار بم دھماکا افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کی عمارت کے قریب صبح ساڑھے چار بجے پیش آیا جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے میں زیادہ تر کی تعداد این ڈی ایس کے ملازمین کی ہے۔ دوسری جانب طالبان نے این ڈی ایس کے دفتر پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ غزہ میں دشمن کے مشترکہ اڈے اور فوجی بیرکوں پر فدائی حملہ کیا گیا جس میں درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ غزنی میں مشترکہ فوجی اڈے پر حملہ زید قندھاری نامی بہادر مجاہد نے ایک کار کی مدد سے کیا، حملے میں فوجیوں کی ہلاکت کے ساتھ بڑی تعداد میں ٹینک، گاڑیاں اور دیگر فوجی سامان تباہ ہوا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں میٹرنٹی ہوم اور صوبہ ننگر ہار میں جنازے پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 37 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ افغان صوبے ننگرہار میں بھی مقامی پولیس کمانڈر کی نماز جنازہ میں بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جس سےصوبائی کونسل کے رکن سمیت 24 افراد ہلاک اور 68 زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسپتال پر حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ طالبان کا کابل اسپتال پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

[pullquote]بھارت نے افغانستان میں ہمیشہ غداروں کی مدد کی ہے اور اس کا افغانستان میں کردار ہمیشہ منفی رہا ہے: افغان طالبان[/pullquote]

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے منتظم شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا ہے کہ اگر بھارت افغانستان میں مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ اپنے ایک انٹرویو میں قطر میں طالبان سیاسی دفتر کے منتظم شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں غداروں کی مدد و حمایت کی جس کی وجہ سے افغانستان میں اس کا کردار منفی رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو کوئی مسئلہ نہیں، وہ بھی مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ افغان میڈیا کے مطابق امریکا کے نمائندہ برائے افغان امن عمل خصوصی زلمے خلیل زاد نے اس سلسلے میں بھارتی قیادت سے ملاقات کی بھی ہے اور امریکا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت بھی افغان امن عمل کا حصہ بنے۔

[pullquote]افغان امن عمل کے لیے بھارت خود طالبان سے بات کر لے، پاکستانی سفیر[/pullquote]

پاکستانی سفیر برائے امریکا اسد خان نے کہا ہے کہ اگر دہلی حکومت کو لگتا ہے کہ اس کی شرکت افغان امن عمل کو تیز کر سکتی ہے، تو اسے خود طالبان سے بات چیت کرنا چاہیے۔ ہفتے کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ یہ نئی دہلی پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے پر کیا سوچتی ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر بھارت کو لگتا ہے کہ اس کی شرکت سے افغانستان میں قیام امن کے عمل کو تقویت مل سکتی ہے، تو ہم اس خیال سے اختلاف تو کر سکتے ہیں، مگر ہم یہ طے نہیں کر سکتے کہ انہیں (بھارت کو)کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔‘‘

[pullquote]امریکی مندوب برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھی بھارتی اخبار ‘ہندو‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ بھارت اور طالبان کے درمیان رابطہ ایک احسن کام ہو گا۔[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے