ہفتہ : 13 جون 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]ليبيا ميں اجتماعی قبروں کی دریافت، تحقيقات کرائی جائيں، گوٹيرش[/pullquote]

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل انٹونيو گوٹيرش نے ليبيا ميں اجتماعی قبروں کی دریافت کے بعد جامع اور آزادانہ تحقيقات پر زور ديا ہے۔ سيکرٹری جنرل نے بتايا کہ حال ہی ميں ان اجتماعی قبروں کی دریافت کی خبر ملنے پر وہ حيران رہ گئے تھے۔ گوٹيرش نے ليبيا کے حکام سے کہا ہے کہ وہ تفتيش کے ليے متعلقہ مقامات کی حفاظت کو يقينی بنائيں۔ انہوں نے لاشوں اور ان کی باقیات کی شناخت کا عمل مکمل کرانے، موت کی وجوہات کا تعين کرانے اور ان باقیات کو ہلاک شدگان کے لواحقين کے حوالے کیے جانے پر بھی زور دیا۔ جمعرات کے روز طرابلس سے قريب پينسٹھ کلوميٹر کے فاصلے پر آٹھ اجتماعی قبريں ملی تھیں۔ اس حوالے سے عالمی برادری ميں شدید غم و غصہ پايا جاتا ہے۔

[pullquote]چين کے ساتھ سرحد پر صورتحال کنٹرول ميں ہے، بھارتی فوج کے سربراہ کا بیان[/pullquote]

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نرونے نے ہفتے کے روز میڈیا سے بات چیت ميں کہا کہ چین اور بھارت کے درميان سرحدی کشيدگی کم ہو رہی ہے اور صورت حال کنٹرول ميں ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے فوجی کمانڈروں کے درمیان گزشتہ دنوں ہونے والی بات چیت کے بعد مثبت پيش رفت ہوئی ہے۔ نرونے نے اميد ظاہر کی کہ مکالمت کے ذريعے اختلافات حل کر لیے جائيں گے۔ بھارتی فوجی سربراہ کا یہ بیان ان خبروں کے بعد سامنے آيا کہ سرحد پر تعينات چینی اور بھارتی فوجی بعض مقامات سے پیچھے ہٹ رہے ہيں۔ تاہم لداخ میں اب بھی کئی مقامات پر صورتحال کشيدہ ہے اور مشترکہ سرحد کے دونوں طرف فوجی دستے تعينات ہيں۔

[pullquote]سری نگر: سکيورٹی دستوں کی کارروائی ميں دو مشتبہ جنگجو ہلاک[/pullquote]

بھارت کے زير انتظام کشمير ميں سکيورٹی فورسز کے ساتھ ايک جھڑپ ميں دو مشتبہ جنگجو مارے گئے۔ سينٹرل ريزرو پوليس فورس کے ایک ترجمان نے بتايا کہ فائرنگ کے تبادلے کا يہ واقعہ کلگام ضلع ميں ہفتے کے روز پيش آيا۔ پوليس نے بتايا کہ مشتبہ عليحدگی پسندوں کے بارے ميں خفيہ اطلاع ملنے پرايک گاؤں ميں کارروائی کی گئی تھی۔ بھارت کے زير انتظام کشمير ميں اس سال کے دوران اب تک 88 مشتبہ جنگجو سکيورٹی دستوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہيں۔

[pullquote]افغانستان بھر ميں پر تشدد واقعات، متعدد افراد ہلاک[/pullquote]

افغانستان کے چار مختلف صوبوں ميں آج بروز ہفتہ رونما ہونے والے متعدد پر تشدد واقعات ميں کم از کم سترہ افراد ہلاک ہو گئے۔ مشرقی صوبے خوست کے ضلع علی شير ميں نامعلوم حملہ آوروں نے ايک سابق پارليمانی اميدوار سميت آٹھ افراد کو ہلاک کر ديا۔ اس حملے کی وجہ ذاتی دشمنی بتائی گئی ہے۔ وسطی صوبہ لوگر ميں نا معلوم حملہ آوروں نے ايک مکان ميں گھس کر ايک عورت اور اس کی تين بيٹيوں کو قتل کر ديا۔ شمال مشرقی صوبے بدخشان ميں ايک مقامی مليشيا کمانڈر کو اس کے تين ساتھيوں سميت مار ديا گيا۔ تخار صوبے ميں عسکريت پسندانہ نظريات پر تنقید کرنے والے ايک مذہبی رہنما کو بھی قتل کر ديا گيا۔

[pullquote]چين ميں کورونا کے نئے کيسز کے بعد وبا کی ايک نئی لہر کا خدشہ[/pullquote]

چين ميں گيارہ افراد ميں نئے کورونا وائرس کی تشخيص کے بعد ايسے خدشات بڑھ گئے ہيں کہ بیجنگ کو اس وبائی مرض کی ايک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نتيجتاً پرائمری اسکولوں ميں بچوں کی واپسی روک دی گئی ہے جب کہ کھليوں کے تمام ايونٹس اور زيادہ لوگوں کے گروپوں کی شکل ميں ريستورانوں وغیرہ میں جانے پر بھی عارضی پابندی لگا دی گئی ہے۔ علاوہ ازيں دارالحکومت بيجنگ ميں دو اہم مارکيٹيں بھی بند کرا دی گئی ہيں اور وہاں پوليس کی بھاری نفری تعينات ہے۔ گيارہ ميں سے کورونا وائرس کے سات نئے کيسز بيجنگ ميں سامنے آئے ہیں، جو اس شہر ميں دو ماہ بعد سامنے آنے والے پہلے واقعات ہیں۔

[pullquote]کورونا وائرس: اموات کے لحاظ سے برازيل دوسرے نمبر پر[/pullquote]

برازيل ميں کووڈ انيس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 41 ہزار 828 ہو گئی ہے۔ اموات کے لحاظ سے اب يہ لاطينی امريکی ملک پوری دنیا میں امريکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ پچھلے چوبيس گھنٹوں ميں اس وائرس کے قريب چھبيس ہزار نئے کيسز سامنے آئے اور اب ملکی سطح پر برازيل ميں متاثرين کی تعداد آٹھ لاکھ انتيس ہزار ہو گئی ہے۔ امريکا سب سے زيادہ متاثرہ ملک ہے، جہاں متاثرين کی تعداد دو ملين سے زائد ہو چکی ہے۔ امريکا کی جان ہاپکنز يونيورسٹی کے ہفتہ تيرہ جون کے اعداد و شمار کے مطابق دنيا بھر ميں کورونا وائرس کے متاثرين کی تعداد 76 لاکھ اکاون ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے جبکہ سوا چار لاکھ سے زيادہ انسان اس مہلک مرض کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہيں۔

[pullquote]يورپی سطح پر سفری پابنديوں کے خاتمے کا عمل جاری[/pullquote]

آئندہ پير يعنی پندرہ جون کی شام سے جرمنی اپنی تمام سرحدوں پر پابندياں ختم کر رہا ہے۔ برلن میں وزارت داخلہ کے ايک ترجمان نے جمعے کی شب بتايا کہ جرمنی سے باہر سفر کرنے کے ليے اب کوئی اہم وجہ بيان کرنا ضروری نہیں ہو گا۔ يورپی کميشن نے پندرہ جون سے اس یورپی بلاک کے اندر تمام سفری پابنديوں ميں نرمی کے لیے کہہ رکھا ہے۔ يورپی يونين نے اپنی رکن رياستوں سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ جولائی کے اوائل تک تمام سفری پابندياں اور رکاوٹيں ختم کر دیں۔ دريں اثناء پولينڈ نے بھی آج ہفتے سے اپنی سرحديں کھول دی ہيں۔ چيک ری پبلک اور فرانس نے بھی پير کی دن سے سفری پابنديوں کے خاتمے کی تصديق کر دی ہے۔

[pullquote]افريقی ممالک کا نسل پرستی پر بحث کا مطالبہ[/pullquote]

افريقی ممالک نے اقوام متحدہ کی ہيومن رائٹس کونسل پر زور ديا ہے کہ افریقی نژاد باشندوں کے خلاف نسل پرستانہ رويوں اور پوليس کی ظالمانہ کارروائيوں پر بحث کی جائے۔ اقوام متحدہ ميں برکينا فاسو کے سفير نے اس سلسلے ميں گزشتہ روز اس کونسل کو ايک خط پيش کر دیا، جو 54 افريقی ممالک کی جانب سے لکھا گيا ہے۔ اس خط ميں رنگ اور نسل کی بنياد پر انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں، پوليس کی ظالمانہ کارروائيوں اور نا انصافيوں کی مخالفت ميں آواز اٹھانے والے مظاہرين کے خلاف طاقت کے استعمال جيسے مسائل پر فوری بحث کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ يہ خط عالمی ادارے کی ہيومن رائٹس کونسل کی صدر کے نام لکھا گيا ہے اور اس میں اگلے ہفتے کونسل کے ایک اجلاس ميں بحث کا مطالبہ بھی کيا گيا ہے۔

[pullquote]آسٹريليا میں ’بليک لائيوز مَيٹر‘ مظاہروں ميں ہزاروں افراد کی شرکت[/pullquote]

آسٹريليا ميں حکام کی طرف سے تنبيہ کے باوجود ’بليک لائيوز مَيٹر‘ کے نام سے آج ہفتے کو ہونے والے مظاہروں ميں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ زیادہ تر مظاہرين چہروں پر ماسک پہنے ہوئے اور سماجی فاصلوں سے متعلق قوانين کا احترام کرتے دکھائی ديے۔ اس موقع پر پوليس کی بھاری نفری تعيتات تھی اور زيادہ تر ريلياں پر امن رہيں۔ يہ احتجاجی ريلياں کئی آسٹریلوی شہروں ميں نکالی گئيں۔ افریقی نژاد امريکی شہری جارج فلوئڈ کی امریکی پوليس اہلکاروں کے ہاتھوں پچيس مئی کو ہلاکت کے بعد سے دنيا بھر ميں نسل پرستی اور پوليس کی ظالمانہ کارروائيوں کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

[pullquote]امريکی وزير خارجہ کی چينی اہلکاروں سے ممکنہ ملاقات[/pullquote]

امريکی وزير خارجہ مائيک پومپيو اعلیٰ چينی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کے ليے امريکی رياست ہوائی تک کا سفر کرنے والے ہيں۔ پومپيو کے اس دورے کی زيادہ تفصيلات ابھی عام نہيں کی گئیں۔ امريکی محکمہ خارجہ اور واشنگٹن ميں چينی سفارت خانے نے تاحال اس ممکنہ ملاقات کی تصديق نہيں کی۔ اقليتوں کے ساتھ مبينہ امتيازی سلوک، انسانی حقوق کی صورت حال، ہانگ کانگ ميں جمہوريت نواز مظاہرين کے خلاف طاقت کے استعمال اور بالخصوص نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی کے حوالے سے پومپيو چين پر کئی بار کڑی تنقيد کر چکے ہيں۔

[pullquote]ناسا کے آئندہ خلائی مشن کی سربراہ ايک خاتون ہوں گی[/pullquote]

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے اگلے انسان بردار خلائی مشن کی قيادت کيتھی ليوڈرز نامی ايک خاتون خلاباز کو سونپ دی ہے۔ يہ پہلا موقع ہے کہ کسی خلائی مشن کی سربراہ ايک خاتون کو مقرر کیا گیا ہے۔ ناسا کے سربراہ جم بريڈنسٹائن نے یہ بات اپنی ايک ٹویٹ میں جمعے کی رات بتائی۔ ناسا کا اگلا انسان بردار مشن سن 2024 ميں خلا میں جانا ہے اور اس ميں دو خلا بازوں کو چاند کی طرف روانہ کيا جائے گا۔ کاميابی کی صورت ميں سن 2024 ميں انسانی تاريخ ميں پہلی مرتبہ ايسا ہو گا کہ کوئی عورت چاند کی سطح پر قدم رکھے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے