اسلام آباد کی تاریخ کے پہلے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں عروج پر

اسلام آباد کی تاریخ کے پہلے بلدیاتی انتخابات 30 نومبر کو ہونے جا رہے ہیں.

اسلام آباد میں پچاس یونین کونسلز بنائی گئی ہیں. بلدیاتی انتخابات کے لیے دو ہزار تین سو چھیانوے امیدوار میدان میں اترے ہیں.

جبکہ 6 لاکھ چھہتر ہزار سات سو پچانوے رجسڑڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے.

بلدیاتی انتخابات کے لیے کل چالیس لاکھ نواسی ہزار چار سو بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں.

جن کی ترسیل فوج کی نگرانی میں کر دی گئی ہے. بلدیاتی انتخابات کے لیے ہر ووٹر چھ ووٹ کاسٹ کرے گا. چیئرمین، وائس چئیرمین کے لیے ہلکا سبز، جنرل کونسلر کے لیے سفید، خواتین کونسلز کے لیے گلابی مزدور کسان کے لیے خاکی، نوجوان کونسلر کے لیے ہلکا سرمئی اور غیرمسلم کے لیے پیلے رنگ کا بیلٹ پیپر استعمال ہو گا.

وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے انتیس نومبر سے یکم دسمبر تک چھ سو چالیس پریذائڈنگ افسران کو مجسڑیٹ اول کے اختیارات تفویض کر دئیے جائیں گے.

پریذائڈنگ افسران تین روز تک خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنا سکتے ہیں.

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایت نامے کے مطابق ووٹ ڈالنے کے لیے اصل شناختی کارڈ لانا ضروری ہوگا. پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسینس اور نادرا کی رسید پر ووٹ نہیں ڈالا جا سکے گا.

تاہم زائدالمعیاد شناختی کارڈ پر ووٹ ڈالنے پر ممانعت نہیں ہو گی.

ووٹرز تھری ایٹ ڈبل زیرو پر ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے ووٹ اور پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے