کراچی بدل رہا ہے

زیادہ لکھنے کا وقت نہیں دو دن کی تھکن ھے لیکن مختصر عرض یہ ہے کہ گزشتہ نو برس میں کراچی کی شارع فیصل پر تین ایونٹس کورکیے ہیں جن میں دو خونی اور ایک میں امید نظر آئی ، مئی دو ہزار سات میں جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری نے کراچی آنے کی کوشش کی تو جنرل مشرف کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی کو سیل کردیا تھا ،

شارع فیصل پر موت کا رقص میں نے براہ راست دیکھا گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی اور پچاس سے زائد انسان خاک کا رزق ہوئے ایم کیو ایم کے کارکن جدید اسلحے کے ساتھ سڑکوں پہ مورچے سنھالے ہوئے تھے ۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ فوجی علاقے میں واقع اس سڑک پہ یہ سب ہوتا رہا لیکن ہر طرح کا قانون پتہ نہیں اس روز کہاں غائب ہوگیا تھا ،اس دن کے مقتولین کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلزپارٹی ، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ سے تھا ،

اسی روز ایم کیو ایم نے بھی ریلی نکالی جسے فاتح کارگل و نواز شریف نے عوامی طاقت کا اظہار قرار دیا ، بے نظیر بھٹو اپنی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے اکتوبر دوہزار سات میں کراچی پہنچیں ، بلاشبہ اس دن عوام کا سمندر شارع فیصل پر امڈ آیا تھا ۔ یہ حقیقت میں عوامی قوت کا اظہار تھا اور وہ بھی بھرپور ۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی تب تک زرداری کے آسیب سے پرے تھی سو عوامی رنگ زوروں پہ تھا لیکن یہ عوامی ریلا جب کارساز کے مقام پر پہنچا تو وہاں ہونے والے دو دھماکوں نے سب کچھ بدل دیا ، رنگ تو پھر بھی تھا مگر خون کا ، خوشبو بارود کی بو میں تبدیل ہوئی اور جب دھویں کے بادل چھٹے تو ایک سو پچاس انسان کھیت رھے تھے ، خوبصورت شام بھیانک ہوئی اور نغمے نوحوں میں بدل گئے ۔۔۔۔۔۔

شارع فیصل کا تیسرا رنگ 28 اکتوبر 2015 کو دیکھا جب عمران خان و سراج الحق کی سربراہی میں ستم رسیدہ شہر کے مکین ایک بار پھر نکلے ۔۔۔۔12 مئی اور 18 اکتوبر کے سانحات کو فراموش کرکے ۔۔۔ لیکن اس بار شارع فیصل پہ الگ منظر تھا روشن چہرے بتا رھے تھے کہ خوف کی سیاست ختم نہیں تو کمزور ضرور ہوئی ھے ۔۔۔ جو کل تک شہر کی مائی باپ تھے آج ووٹ مانگتے ہیں اور میلوں کا انعقاد کرانا بھی اب انہی کی مجبوری ھے ۔۔۔۔۔

اس الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا ، کوئی نہیں جانتا ۔۔۔ متحدہ ابھی بھی شہر میں موثر ووٹ بینک رکھتی ھے لیکن خان و حق کے طوفانی دورے اور مختلف علاقو٘ں میں جلسے بہرحال بدلتی رتوں کے اشارے ہیں یہ ضرور ہےکہ شہر میں مکمل تبدیلی میں خاصا وقت درکار ھے لیکن یہ بھی حقیقت ھے کسی نا کسی درجے میں تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ھے اور بڑی منزل کا آغاز چھوٹے قدم سے ہی ہوتا ھے ۔۔۔ کیا خبر خون میں نہلائی گئی شارع فیصل کا خراج پورا ہوچکا ھو اور امید کا روشن دیا تاریکیوں کے سامنے استقامت کیساتھ روشنی پھیلانے کا کام کر رہا ھو ۔۔۔۔سنا ہے کہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔۔۔۔

آخری بات یہ کہ مختصر لکھنا کا سوچا تھا لیکن یہ مختصر سے کچھ زیادہ ہی ہوگیا ، شاید تبدیلی میری بھِی دل کی آواز ھے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے