[pullquote]دنیا میں کورونا کیسز ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ گئے[/pullquote]
دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک چوتھائی مریض امریکا میں ہیں۔ لاطینی امریکی ممالک میں بھی متاثرین کی تعداد چالیس لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ امریکی ادارے جان ہوپکنس یونیورسٹی کے مطابق اب تک دنیا بھر میں اس مہلک وائرس سے چھیاسی لاکھ اکسٹھ ہزار سے زائد مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ چھ لاکھ تئیس ہزار سے زائد لوگ زندگی کی جنگ ہار چکے ہیں۔
[pullquote]چین کا مریخ مشن رواں دواں[/pullquote]
چین نے اپنے پہلے مریخ مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ہینان جزیرے پر واقع وون چانگ لانچ بیس سے مریخ پر تحقیق کے لیے ایک راکٹ روانہ کردیا گیا۔ اس خلائی مشن کو ’تیان وین – ون ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ خلائی جہاز مریخ کے مدار تک 55 ملین کلومیٹر کا سفر آئندہ سات ماہ میں مکمل کرلے گا۔ ابتدائی طور پر خلائی جہاز کو مریخ کے مدار تک پہنچایا جائے گا اور پھر لینڈنگ ڈیوائس کو مریخ کی سطح پر اتارا جائے گا۔ چین خلائی تحقیق کے شعبے میں ایک بڑی طاقت بننا کا خواہاں ہے اور سن 2022 تک اپنا خلائی اسٹیشن بنانے کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔
[pullquote]آسٹریلیا کو تاریخ کے بدترین خسارے کا سامنا[/pullquote]
کورونا کی وبا کے سبب آسٹریلیا میں تاریخی بجٹ خسارے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ آسٹریلوی وزارت خزانہ نے گزشتہ برس 85 اعشاریہ آٹھ ارب آسٹریلین ڈالر کے نقصان کا اعلان کیا تھا جبکہ اس سال 184.5 ارب ڈالر کا عندیہ دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آسٹریلیا کو گزشتہ ایک سو سالوں میں اس نوعیت کے بھاری خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ادھر کورونا کی وبا نے جنوبی کوریا کی معیشت کو بھی کساد بازاری سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے اعدادو شمار کے مطابق ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت میں دو اعشاریہ نو فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یوں جنوبی کوریا کی معیشت کو گزشتہ بیس برس کی بدترین گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
[pullquote]شکاگو میں وفاقی سکیورٹی فورسز تعینات[/pullquote]
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے بڑے شہروں میں وفاق کے ماتحت سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پرتشدد کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے سینکڑوں وفاقی دستے شکاگو اور البوکرک میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر انصاف ولیم بار نے پہلے ہی کہا تھا کہ کانساس شہر میں دو سو وفاقی پولیس کے اہلکار بھیجے گئے ہیں۔ تاہم شکاگو کے میئر نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے صدر ٹرمپ وبا سے نمٹنے میں اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
[pullquote]بھارت کو چینی کمپنیوں پر انحصار کم کرنا چاہیے، پومپیو[/pullquote]
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھارت کو چینی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی پراپنا انحصار کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکا اور بھارت میں کارابار سر متعلق آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پومپیوکا کہنا تھا کہ نئی دہلی کے پاس مال کی عالمی ترسیل کو اپنی طرف راغب کرنے کا بہترین موقع ہے۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد پومپیو نے بھارت کو ٹیلی کمیونیکیشن، میڈیکل مصنوعات اور دیگر اشیاء کے شعبوں میں چینی کمپنیوں پر انحصار کم کردینا مشورہ دیا ہے۔ پومپیو کے بقول، صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں بھارت ایک اہم شراکت دار اور بنیادی ستون ہے۔
[pullquote]آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیری نوجوانوں میں مایوسی ہے، رپورٹ[/pullquote]
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ایک سال سے جاری لاک ڈاون کی وجہ سے کشمیری عوام کی فلاح وبہود بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’فورم فار ہیومن رائٹس ان جے اینڈ کے‘ کے مطابق کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی صریحا خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ’جموں و کشمیر: انسانی حقوق پر لاک ڈاون کے اثرات ۔ اگست 2019ء تا جولائی 2020ء ‘ کے عنوان سے جاری کی گئی ایک تازہ رپورٹ میں بھارتی حکومت کے اقدامات پر سخت نکتہ چینی کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سابقہ ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے نے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو بری طرح مایوس کیا ہے۔
[pullquote]امریکی فوج کا انخلا نیٹو کے لیے باعث تشویش ہوگا، جرمن وزیر دف[/pullquote]
جرمن وزیر دفاع آنےگریٹ کرامپ کارن باوَر نے کہا ہے کہ جرمنی سے امریکی فوجیوں کو نکالنے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچے گا، لیکن یہ نیٹو اتحاد کے لیے بھی ایک باعث تشویش بات ہوگی۔ جرمن وزیر دفاع نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی فوجی یورپ کے بجائے بحرالکاہل میں تعینات کیے جاتے ہیں تو اس سے نیٹو کے اندر ایک نئی بحث چھڑ جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ماہ جرمنی میں تعینات چونتیس ہزار پانچ سو فوجیوں میں سے دس ہزار امریکی فوجی نکالنے کا حکم دے چکے ہیں۔
[pullquote]اقوام متحدہ کا اجلاس، عالمی رہنما نیویارک نہیں جائیں گے[/pullquote]
کورونا کے سبب اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسیمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے عالمی رہنما نیویارک میں جمع نیہں ہوں گے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 193 رکن پر مبنی جنرل اسمبلی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تمام رہنما ویڈیو کے ذریعے اپنا بیان بھیجیں گے۔ فیصلے کے مطابق تمام حکمران پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام بھیج سکتے ہیں جو کہ اجلاس کے دوران نیویارک میں موجود تمام ملکوں کے مندوبین کی جانب سے تعارف کے بعد پیش کیا جائے گا۔ اس مرتبہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی شرکت متوقع تھی۔
[pullquote]چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ[/pullquote]
دنیا کی دو بڑی معیشتوں امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے۔ واشنگٹن حکومت نے چین پر جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہیوسٹن ٹیکساس میں قائم چینی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ جواب میں بیجنگ حکومت نے بھی سخت اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ ایک بیان میں چین نے کہا کہ ان اقدامات سے ٹرمپ حکومت صدارتی انتخابات سے پہلے اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری بیجنگ پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ قبل ازیں امریکا نے چین کی ’دھونس‘ کے خلاف بین الاقوامی برادری سے ایک عالمی اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی تھی۔
[pullquote]ہنگری، حکومت پر تنقید پر چیف ایڈیٹر برطرف[/pullquote]
ہنگری میں حکومت پر تنقید کرنے والی نیوز ویب سائٹ ’انڈیکس ڈاٹ ایچ یو‘ کے چیف ایڈیٹر کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق چیف ایڈیٹر ژابولکس ڈل کے جارحانہ اقدامات نے نیوز ویب سائٹ کی ساکھ کو متاثر کیا۔ ڈل نےگزشتہ ماہ ہنگری کے دائیں بازو کے قدامت پسند وزیر اعظم وکٹر اوربان کے بعض اقدامات پر تنقید کی تھی۔ سن 2017 سے اس نیوز ویب سائٹ کی باگ ڈور سنبھالنے والے اعلی عہدیدار وزیراعظم اوربان کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔
[pullquote]کورونا کی دوا کے لیے چین ایک ارب ڈالر قرضہ دے گا، میکسیکو[/pullquote]
میکسیکو نے کہا ہے کہ چین لاطینی امریکی ممالک کو کوورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین تک رسائی کے لیے ایک ارب امریکی ڈالر کا قرضہ مہیا کرے گا۔ میکسیکو کی وزارت خارجہ کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے یہ اعلان لاطینی امریکی اور کیریبئن ممالک کے وزرا کے ساتھ ایک آن لائن کانفرنس کے دوران کیا۔ لاطینی امریکا اور کیریبین میں 40 لاکھ سے زیادہ افراد اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
[pullquote]جنوبی کوریا بھی کساد بازاری کا شکار[/pullquote]
کورونا کی وبا نے جنوبی کوریا کی معیشت کو بھی کساد بازاری سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے اعدادو شمار کے مطابق ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت میں دو اعشاریہ نو فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یوں جنوبی کوریا کی معیشت کو گزشتہ بیس برس کی بدترین گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برآمدات میں سولہ فیصد تک کمی ہوچکی ہے، جو کہ سن 1963 کے بعد سب زیادہ کمی ہے۔ جنوبی کوریا کے مرکزی بینک کے مطابق سن 1998 کے بعد یہ سب سے بڑا معاشی بحران ہے۔