بدھ: 05 اگست 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]کشمیر کی حیثیت میں کوئی بھی یکطرفہ تبدیلی غیر قانونی ہے، چین[/pullquote]

چین کا کہنا ہے کہ کشمیر کی حیثیت میں کوئی بھی یکطرفہ تبدیلی غیر قانونی اور غیر مؤثر ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیرکے معاملے میں چین کا مؤقف واضح اور اپنی جگہ برقرار ہے، مسئلہ کشمیرپاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخ کا چھوڑا ہوا مسئلہ ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ چین کشمیر کے علاقے کی صورت حال کا بغور جائزہ لیتا ہے، بھارت کا جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370 ختم کرنا غیرقانونی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کےتحت معاہدہ موجود ہے، مسئلہ کشمیر فریقین کے درمیان بات چیت اور پرامن طریقےسے حل ہوناچاہیے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اوربھارت پڑوسی ہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔

[pullquote]بیروت میں دھماکے، کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے، لبنانی ریڈکراس[/pullquote]

لبنانی ریڈکراس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ بیروت میں گزشتہ روز ہوئے دھماکے میں کم از کم سو افراد ہلاک ہوئے جب کہ یہاں زخمیوں کی تعداد چار ہزار سے زائد ہے۔ بتایا گیا ہے کہ منگل کو بیروت کی بندرگاہ کے قریب یہ دھماکا کیمیکل کے ایک گودام میں ہوا۔ اس گودام میں کئی برسوں سے کھاد میں استعمال ہونے والی امونیم نائٹریٹ جمع کی جا رہی تھی۔ اس دھماکے کو لبنان کے صدر نے ’تباہی‘ قرار دیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لبنانی معیشت پہلے ہی کساد بازاری کا شکار ہے، جب کہ اس واقعے سے اس پر شدید بوجھ پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

[pullquote]کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد ساڑھے اٹھارہ ملین سے زائد[/pullquote]

عالمی سطح پر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ پچاسی لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ دسمبر 2019 ء میں چینی شہر ووہان سے پھیلنے والا یہ وائرس اس وقت دنیا کے دو سو دس خطوں اور ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا ہے، جہاں سنتالیس لاکھ چھیاسی ہزار نو سو چودہ افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جب کہ اس عالمی وبا کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد ایک لاکھ ستاون ہزار تین سو آٹھ ہے۔ امریکا کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس فہرست میں برازیل اور بھارت دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ پاکستان میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مصدقہ تعداد دو لاکھ اسی ہزار سے زائد ہے جب کہ یہاں اس وبا کے نتیجے میں مصدقہ ہلاکتیں چھ ہزار کے قریب بتائی جا رہی ہیں۔

[pullquote]کشمیر،خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر لاک ڈاؤن[/pullquote]

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی اور سکیورٹی لاک ڈاؤن کو آج ایک برس مکمل ہو گیا ہے۔ اسی تناظر میں کشمیر بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور کئی رہنماؤں کو نظربند کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس سے کہا گیا ہے کہ آج کے دن کوئی سیاسی رہنما اپنے گھر سے باہر نہ نکل پائے۔ یہ بات اہم ہے کہ نئی دہلی حکومت نے بھارتی دستور میں تبدیلی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس خصوصی حیثیت کے تحت کسی دوسرے علاقے سے تعلق رکھنے والے بھارتی شہری کو کشمیر میں مستقل سکونت کا اختیار نہیں تھا۔

[pullquote]مودی رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا[/pullquote]

بھارتی وزیراعظم نیرندر مودی نے منہدم بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ صدیوں سے جاری انتظار ختم ہوا۔ دسمبر 1992 ء میں ہندوؤں نے حملہ کر کے سولہویں صدی میں تعمیر کی گئی بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ مسجد کے انہدام کے بعد ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن میں مجموعی طور پر دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انتہاپسند ہندوؤں کا موقف رہا ہے کہ یہ مسجد ان کے دیوتا رام کی جنم بھومی پر تعمیر کی گئی تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں اس مندر کی تعمیر کے حق میں رائے دی تھی۔ اس مندر کے سنگ بنیاد کے موقع پر ایودھیا میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

[pullquote]افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ممکنہ تعداد دس ملین، وزیر[/pullquote]

افغان وزیرصحت احمد جواد عثمانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ممکنہ تعداد دس ملین کے قریب ہے۔ بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک مطالعاتی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ ملکی آبادی کا قریب ساڑھے اکتیس فیصد حصہ ممکنہ طور پر اس وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ عثمانی نے بتایا کہ دارالحکومت کابل میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی ممکنہ شرح سب سے زیادہ ہے اور یہاں تقریباﹰ 53 فیصد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

[pullquote]فرانس کی جانب سے ریسکیو ورکرز اور امدادی سامان لبنان روانہ[/pullquote]

فرانس نے بیروت دھماکے کے تناثر میں ریسکیو ورکرز اور امدادی سامان لبنان روانہ کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق منگل کو بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے بڑے دھماکے کے تناظر میں 15 ٹن سینٹری آلا اور موبائل کلینک بیروت روانہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ موبائل کلینک پانچ سو مریضوں کے علاج کی صلاحیت کا حامل ہے۔ فرانسیسی صدر کے دفتر کی مطابق 55 سکیورٹی اہلکار بیروت بھیجے جا چکے ہیں جب کہ قریب ایک درجن ہنگامی امدادی ورکرز بھی بیروت بھیجے جائیں گے۔

[pullquote]فی اونس سونے کی قمیت دو ہزار ڈالر سے بڑھ گئی[/pullquote]

گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت دو ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ منگل کو تیل کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ مارچ سے اب تک سونے کی قمیت میں مسلسل بڑھوتی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں کسادبازاری کا رجحان اور ایک نئے مالیاتی بحران کے خدشات کے علاوہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مالیاتی منڈیوں پر پڑنے والے اثرات نے سرمایہ کاروں کو سونے میں سرمایہ کاری پر مائل کیا ہے۔

[pullquote]18 تنہا نابالغ مہاجر یونان سے بیلجیم منتقل[/pullquote]

18 تنہانابالغ مہاجروں کو یونان سے بیلجیم منتقل کر دیا گیا ہے۔ منگل کے روز یہ منتقلی یورپی یونین کے ’بحالی نو‘ کے پروگرام کے تحت عمل میں آئی۔ بیلجیم کی حکومت نے مئی میں یونان میں پھنسے تنہا مہاجر بچوں کواپنے ہاں قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سب سے بڑی عمر کا نوجوان ابھی حال ہی میں آٹھارہ برس کا ہوا ہے، جب کہ سب سے کم عمر نو برس کی ایک بچی ہے۔ اس منتقلی سے قبل ان تمام مہاجرین کا کورونا ٹیسٹ بھی کیا گیا۔ جرمنی، لکسمبرگ، پرتگال اور فن لینڈ اسی پروگرام کے تحت دو سو سے زائد مہاجر بچوں کو قبول کر چکے ہیں۔

[pullquote]بیروت دھماکے میں جرمن سفارت خانے کا عملہ بھی زخمی[/pullquote]

جرمن وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز بیروت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جرمن سفارت خانے کا عملہ بھی زخمی ہوا ہے۔ وزارتی بیان کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں جرمن سفارت خانے میں کام کرنے والے دو افراد زخمی ہوئے۔ جرمن وزارت خارجہ کے مطابق فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس دھماکے کے نتیجے میں کتنے جرمن شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ جرمن وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سفارت خانہ جائے حادثے سے زیادہ دور واقع نہیں ہے اور اسے نقصان پہنچا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بیروت دھماکے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لبنان کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے