ہفتہ : 08 اگست 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]یورپ میں کورونا کی دوسری لہر کا خدشہ، کئی ممالک میں دوبارہ سختی[/pullquote]

یورپی یونین کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کے انفیکشنز کی تعداد میں اضافے سے وبا کی دوسری لہر شروع ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فرانس میں مسلسل دوسرے روز پندرہ سو سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ بیلجیم کے صوبے اینٹورپ میں انفیکنشز کی شرح میں نمایاں اضافے کے بعد ملک بھر میں ماسک لازمی قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ جرمنی میں مسلسل تیسرے دن بھی مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد رہی۔ جرمنی میں کورونا سے زیادہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے ٹیسٹ لازمی کر دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈوں پر مفت ٹیسٹ نہ کرانے والے مسافروں کو پچیس ہزار یورو تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر چھبیس یورپی ممالک میں سے تین ملکوں میں محدود لاک ڈاؤن بحال کیا جا چکا ہے۔

[pullquote]امریکی انتخابات میں چین اور روس کی مداخلت ممکن، امریکی انٹیلی جنس حکام[/pullquote]

امریکی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ چین نے نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ بات امریکی خفیہ ادارے کے اعلی عہدیدار ولیم ایوانینا کے جاری کردہ بیان میں بتائی گئی ہے۔ امریکی خفیہ اداروں کے مطابق چین ان انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست یقینی بنانا چاہتا ہے جب کہ روس ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کے خلاف سرگرم ہے۔ صدر ٹرمپ نے تاہم اس بات کی ایک مرتبہ پھر نفی کی ہے کہ روسی خفیہ ادارے ان کی جیت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امریکی خفیہ اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران بھی امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے اور عوام کو منقسم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

[pullquote]بیلاروس: صدارتی انتخابات کی تیاریاں، ڈی ڈبلیو کا رپورٹر گرفتار[/pullquote]

بیلاروس میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں اتوار نو اگست کے روز ووٹ ڈالے جائیں گے۔ چھبیس برس سے بیلاروس میں برسراقتدار مطلق العنان صدر الیکسانڈر لوکاشینکو چھٹی مرتبہ منتخب ہونے کے لیے پر امید ہیں تاہم اس مرتبہ انہیں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ دریں اثنا ڈی ڈبلیو کے رپورٹر الیگزینڈر بوراکوف بدستور زیرحراست ہیں۔ بوراکوف کے مطابق ان کی گرفتاری صدارتی انتخابات کے دوران غیر جانبدارانہ رپورٹنگ روکنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہیں منگل کی شام پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر پیٹر لیمبورگ سمیت کئی یورپی وزرائے خارجہ بوراکوف کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

[pullquote]بیروت دھماکا، لبنانی صدر نے بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ مسترد کر دیا[/pullquote]

لبنانی صدر میشال عون نے بیروت دھماکوں کی عالمی تفتیش کرانے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ صدر عون نے دعویٰ کیا کہ دھماکا کسی میزائل حملے یا حکام کی غفلت کا نتیجہ تھا۔ دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے بھی ایسی خبروں کو رد کر دیا ہے کہ ایمونیم نائٹریٹ کی بھاری مقدار ان کی تنظیم نے سٹور کر رکھی تھی۔ بیروت میں منگل کے روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک جب کہ تین ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ متاثرہ علاقے میں تلاش اور ریسکیو کا کام جاری ہے اور کم از کم ساٹھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ فرانسیسی ایماء پر آج لبنان کی مدد کے لیے کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شرکت کریں گے۔

[pullquote]طالبان قیدیوں کی رہائی، افغانستان کا روایتی جرگہ جاری[/pullquote]

افغانستان کی روایتی کونسل کے عمائدین کا جرگہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔ اس جرگے کا مقصد کابل حکومت کی زیرحراست 400 طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق فیصلہ کرنا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ جرگہ طالبان قیدیوں کی رہائی اور دیگر متعلقہ معاملات کے بارے میں آج فیصلہ کر لے گا۔ رواں برس فروری کے آخر میں امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغانستان میں قید تمام طالبان قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے، تاہم صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ روایتی جرگے کو کرنا ہو گا۔ دوسری جانب طالبان نے اس جرگے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

[pullquote]صومالیہ میں فوجی بیس پر خود کش حملہ[/pullquote]

افریقی ملک صومالیہ میں ایک فوجی بیس پر کیے گئے خود کش حملے میں کم از کم آٹھ فوجی اہلکار ہلاک، جب کہ چودہ زخمی ہو گئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی فوجی چھاؤنی کے داخلی راستے سے ٹکرا دی تھی۔ واقعہ صومالیہ کے ضلع وارتا نابادا ضلع میں حال ہی میں بنائی گئی فوجی بیس پر پیش آیا۔ ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی تاہم ماضی میں فوج پر کیے گئے ایسے حملوں کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک الشباب نامی دہشت گرد تنظیم قبول کرتی رہی ہے۔

[pullquote]بھارت میں طیارہ رن وے سے پھسل گیا، 17 افراد ہلاک[/pullquote]

بھارت میں ایک مسافر بردار طیارہ لینڈنگ کے وقت رن وے سے پھسل گیا۔ اس واقعے میں پائلٹس سمیت 17 افراد مارے گئے۔ بتایا گیا ہےکہ بھارتی ریاست کیرالہ میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شدید بارش جاری تھی۔ مقامی حکام کے مطابق ایئرانڈیا ایکسپرس کی یہ پرواز دبئی سے کیرالہ میں کالی کٹ کے ہوائی اڈے پر پہنچی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں پھنسے بھارتی شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے پروازوں کا انتظام کیا گیا ہے اور یہ پرواز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ حادثے کے وقت اس جہاز میں 174 بالغ مسافر اور دس بچوں کے علاوہ دو پائلٹس اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔

[pullquote]ہانگ کانگ معاملے پر پابندیاں، امریکی چینی تعلقات مزید گمبھیر[/pullquote]

ہانگ کانگ میں بیجنگ حکومت کے کریک ڈاؤن کے ردعمل میں امریکا کی جانب سے سخت پابندیوں کے نفاذ پر چین نے سخت تنقید کی ہے۔ ہانگ کانگ میں چین نے ایک نیا سکیورٹی قانون لاگو کیا ہے، جس کے جواب میں امریکا نے ہانگ کانگ اور چین سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں ہانگ کانگ کی رہنما کیری لام بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی انٹرنیٹ کمپنیوں ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو بھی امریکا میں مالی لین دین سے روکنے کا اعلان کیا تھا۔

[pullquote]کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ کی جانب بڑھتی ہوئی[/pullquote]

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد انیس اعشاریہ چار ملین سے زائد ہو چکی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس عالمی وبا کے نتیجے میں اب تک ہونے والی ہلاکتیں سات لاکھ بیس ہزار کے لگ بھگ ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں امریکا سب سے آگے ہے، جہاں مجموعی طور پر تقریباﹰ پانچ ملین افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ امریکا میں کورونا وائرس سے جڑی ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ اکسٹھ ہزار سے زائد ہے۔ پاکستان میں اب تک دو لاکھ بیاسی ہزار افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور یہاں اس وبا کے نتیجے میں ہونے والی مصدقہ ہلاکتیں چھ ہزار باون ہیں۔

[pullquote]لاطینی امریکا میں کورونا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد یورپ سے بڑھ گئی[/pullquote]

لاطینی امریکا میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد یورپ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ خطے میں اب تک قریب سوا دو لاکھ ہلاکتیں اور پچاس لاکھ سے زائد انفیکشنز ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ جنوبی امریکا میں اب تک سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل میں قریب ایک لاکھ جب کہ میکسیکو میں پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے