پیر : 19 اکتوبر 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]کورونا وائرس کے متاثرين کی تعداد چار کروڑ سے زائد[/pullquote]

دنيا بھر ميں نئے کورونا وائرس کے متاثرين کی تعداد چار کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس عالمی وبا کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی اب گیار لاکھ تیرہ ہزار آٹھ سو چھیانوے تک ہو چکی ہے۔ وائرس دنيا بھر کے دو سو دس ممالک و خطوں ميں پھيل چکا ہے۔ امريکا اکياسی لاکھ سے زائد متاثرين اور دو لاکھ بيس ہزار کے قريب اموات کے ساتھ بدستور سب سے زيادہ متاثرہ ملک ہے۔ بھارت دوسرا سب سے زيادہ متاثرہ ملک ہے۔ امريکا کی جانز ہاپکنز يونيورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک دو کروڑ چوہتر لاکھ افراد اس بيماری سے صحت ياب بھی ہو چکے ہيں۔

[pullquote]کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کيسز: يورپ ميں پابندیاں متعارف[/pullquote]

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کيسز کے تناظر ميں يورپ ميں پابندیاں متعارف کرائی جا رہی ہيں۔ فرانس کے بعد بيلجيئم ميں بھی آج سے رات کے وقت کرفيو نافذ رہے گا۔ سوئٹزرلينڈ ميں پير سے تمام انڈور يا بند مقامات پر چہرے پر ماسک پہننا لازمی قرار دے ديا گيا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جرمنی نے بھی داخلی سطح پر سخت قوانين متعارف کرائے تھے۔ يورپ ميں اس وبائی مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ کورونا وائرس کی دوسری کے لہر کے باعث اس وقت دنيا کے بيشتر ممالک ميں دوبارہ سختياں متعارف کرائی جا رہی ہيں تاکہ انفيکشن کے پھيلاؤ کو محدود رکھا جا سکے۔ پچھلے صرف سات دنوں ميں ڈھائی ملين کيسز بڑھے ہيں، جو اس وائرس کے نمودار ہونے کے بعد سے اب تک سب سے تيز رفتار اضافہ ہے۔

[pullquote]افغانستان: سکيورٹی دستوں اور طالبان کے مابين جھڑپيں جاری[/pullquote]

افغانستان کے ليے خصوصی امريکی مندوب زلمے خليل زاد نے خبردار کيا ہے کہ امن ڈيل کے باوجود ملک ميں انتہائی بلند درجے کا اور بہت زيادہ تشدد جاری ہے، جن سے کابل حکومت اور طالبان کے مابين جاری مذاکرات منفی طور پر متاثر ہوں گے۔ دريں اثناء امريکی افواج نے گزشتہ ہفتے طالبان پر حملوں کا دفاع کيا ہے جبکہ طالبان نے ان حملوں کو امن ڈيل کی خلاف ورزی قرار ديا ہے۔ طالبان نے پچھلے ہفتے ہلمند ميں آپريشن شروع کيا، جس سے نمٹنے ميں امريکی فوجيوں نے افغان دستوں کو مدد فراہم کی۔ ہلمند ميں اب لڑائی تقريباً ختم ہو چکی ہے مگر آس پاس جھڑپيں جاری ہيں۔ ہفتے سے بدخشاں ميں بھی سکيورٹی دستوں اور طالبان کے مابين جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہيں۔

[pullquote]فرانس: مشتبہ مسلم انتہا پسندوں کے گھروں پر چھاپے[/pullquote]

فرانس ميں پوليس کی جانب سے مشتبہ مسلم انتہا پسندوں کے گھروں پر چھاپے مارے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزير داخلہ نے بتايا ہے کہ انٹرنيٹ پر نفرت آميز مواد کے اسی سے زائد کيسز کی باقاعدہ تفتيش شروع کر دی گئی ہے۔ يہ پيش رفت تين روز قبل ايک استاد کو قتل کيے جانے کے تناظر ميں سامنے آئی۔ سينتاليس سالہ سيميول پيٹی نے مبينہ طور پر اپنی کلاس کے طلباء کو پيغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹون دکھائے تھے، جس پر ايک اٹھارہ سالہ چيچن شہری نے انہيں جمعے کو پيرس کے نواح ميں قتل کر ديا۔ حملہ آور کو پوليس نے ہلاک کر ديا تھا۔ اس وقت گيارہ مزيد افراد حملے سے تعلق کے شبے ميں گرفتار ہيں۔

[pullquote]متحدہ عرب امارات سے اسرائيل کی طرف پہلی مسافر پرواز[/pullquote]

متحدہ عرب امارات کی کسی بھی ايئر لائن کی پہلی پرواز اسرائيل پہنچ گئی ہے۔ اتحاد ايئر ويز کی پرواز 9607 پير کی صبح ابو ظہبی سے تل ابيب پہنچی۔ اس پرواز پر سياحت سے منسلک اسرائيلی حکام سوار تھے۔ اس سے قبل اتحاد کی ايک خصوصی کارگو پرواز فلسطينيوں کے ليے ساز و سامان لے کر اسرائيل گئی تھی۔ مستقبل ميں اتحاد ايئر ويز دونوں ملکوں کے درميان مسافر پروازوں کی سروس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسرائيل اور متحدہ عرب امارات نے امريکا کی ثالثی ميں تعلقات قائم کرنے کا اعلان اگست ميں کيا تھا۔

[pullquote]بحرین اور اسرائیل کے مابین تعلقات استوار[/pullquote]

بحرین اور اسرائیل کے مابین تعلقات استوار کرنے کے لیے گزشتہ ماہ واشنگٹن میں ہونے والے امن معاہدے کو دونوں ملکوں نے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے اور اتوار کے روز امریکی حکام کی موجودگی میں منامہ میں ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کر دیے۔ اس پیش رفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلن اسفیز اور قومی سلامتی کے مشیر میر بن شبات کے ساتھ مشترکہ اعلامیے پر دستخط کيے۔ معاہدوں پر دستخط پر بحرینی شہریوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا تاہم بحرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اس کے مفادات کو ایران سے تحفظ فراہم کرے گا۔

[pullquote]آرمينيا اور آذربائيجان کے مابين جنگی بندی کی کوشش ناکام[/pullquote]

آرمينيا اور آذربائيجان کے مابين جنگی بندی کی دوسری کوشش بھی بظاہر ناکام ہو گئی ہے۔ جنگ بندی کے تازہ معاہدے پر ہفتے اور اتوار کی درميانی شب عملدرآمد شروع ہونا تھا تاہم جھڑپوں کے بعد فريقين نے ايک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگايا ہے۔ نگورنو کاراباخ کے مختلف حصوں ميں اتوار اور آج پير کو بھی مسلح جھڑپيں جاری ہيں۔ حريف ممالک آرمينيا اور آذربائيجان کے درميان نگورنو کاراباخ ميں ستائيس ستمبر سے شديد جھڑپيں جاری ہيں، جن ميں اب تک سينکڑوں شہری اور فوجی ہلاک ہو چکے ہيں۔

[pullquote]ايران پر ہتھياروں کی خريداری سے متعلق اقوام متحدہ کی پابندی ختم[/pullquote]

ايران پر ہتھياروں کی خريداری سے متعلق اقوام متحدہ کی پابندی کی مدت اتوار اٹھارہ اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے۔ گو کہ امريکی وزير خارجہ مائيک پومپيو نے اس مدت کے خاتمے کو مسترد کر ديا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس سال سے ممالک ايران کو اسلحہ نہيں بيچ رہے اور اب جو ايسا کرے گا، وہ اس کے نتائج بھگتے گا۔ اس پر اقوام متحدہ ميں روس کے نائب سفير نے کہا کہ امريکا کو ايران کو اشتعال دلانے کی بجائے مشرق وسطیٰ ميں قيام امن کی کوششيں کرنا چاہييں۔ ايران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابين پانچ برس قبل طے پانے والے معاہدے کے تحت اس پابندی کو ختم کيا جانا تھا۔ امريکا کی يکطرفہ عليحدگی کے بعد سے يورپی فريقين اس جوہری معاہدے کو بچانے کی کوششوں ميں ہيں۔

[pullquote]جاپان اور ويت نام تعلقات کو فروغ دينے پر رضامند[/pullquote]

خطے ميں چين کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر ميں جاپان اور ويت نام نے دفاعی تعلقات کو فروغ دينے پر اتفاق کيا ہے۔ دارالحکومت ہنوئی ميں پير کو جاپانی وزير اعظم اور ان کے ويت نامی ہم منصب نے ويت نام کو ٹيکنالوجی اور دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے سے متعلق ايک سمجھوتے پر دستخط کيے۔ دونوں وزرائے اعظم نے توانائی، ٹيکنالوجی اور اقتصاديات کے شعبوں ميں بھی کئی ڈيلز کو حتمی شکل دی۔ جاپان خطے ميں ديگر کئی ممالک کے ساتھ اسی طرز کے دفاعی معاہدوں کو حتمی شکل دينے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے، جس کا مقصد چين کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ جاپانی وزير اعظم چار روزہ دورے پر اتوار کی شب ويت نام پہنچے۔

[pullquote]’امريکی اہلکار نے دمشق حکومت سے رابطہ کيا[/pullquote]

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظاميہ کے ايک اہلکار نے بتايا ہے کہ کم از کم دو امريکی شہريوں کی رہائی کے ليے وائٹ ہاؤس کے ايک اہلکار نے شام کا سفر کيا اور صدر بشار الاسد کی حکومت سے رابطہ کاری کی۔ اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اس اہلکار نے بتايا کہ کاش پٹيل نے اسی سال دمشق کا دورہ کيا تھا۔ ان کے بقول امريکی صدر بيرون ممالک ميں قيد تمام امريکيوں کو وطن واپس لينے کے معاملے ميں کافی سنجيدہ ہيں اور يہ اسی کی کڑی تھی۔ فوری طور پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پر کوئی رد عمل سامنے نہيں آيا۔ اس بارے ميں ايک رپورٹ وال اسٹريٹ جرنل ميں بھی چھپی تھی۔ خيال ہے کہ چار امريکی شہری شام ميں قيد ہيں۔ اگر اس کی تصديق ہو جاتی ہے، تو يہ واشنگٹن انتظاميہ کا اسد انتظاميہ کے ساتھ کئی سالوں بعد کوئی براہ راست رابطہ ہو گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے