انتخابات 2020: حلقہ 11کھرمنگ

گلگت بلتستان اسمبلی کا حلقہ نمبر11 گزشتہ انتخابات میں ضلع سکردو کا حلقہ 5تھا مگر 2015کے انتخابات کے بعد ن لیگی حکومت نے اس حلقے کو الگ ضلع کی حیثیت دیدی جس کے بعد اب یہاں پر ڈپٹی کمشنر، ایس پی کے علاوہ ضروری دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس علاقے کا ضلع سکردو ہیڈکوارٹر سے فاصلہ کم از کم 120 کلومیٹر ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو ضلع قرار دیدیا گیا ہے۔ کھرمنگ ایک سرحدی علاقہ ہے، کھرمنگ کے دریا کا پانی بھارتی مقبوضہ علاقہ لیہ ضلع سے ہوتے ہوئے کھرمنگ میں داخل ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل مذکورہ دریا سے ایک ہندوستانی شہری کی نعش برآمد ہوگئی تھی جسے خیر سگالی کے تحت واپس کردی گئی۔ ضلع کھرمنگ کو قلعوں کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے، اس علاقے کا نام مشہور حکمران علی شیر خان انچن نے رکھا ہے۔ کھرمنگ میں اکثریتی آبادی کی زبان بلتی ہے تاہم شینا بھی بولی جاتی ہے۔ کھرمنگ کا سب سے مشہور سیاحتی مقام منٹوکھہ آبشار ہے جو سیاحوں کو سیلفی کھینچنے پر مجبور کرتا ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی میں خواتین کے لئے خصوصی نشستیں دئے جانے پر پہلی مرتبہ اسمبلی میں اس حلقے کی فوزیہ سلیم عباس نے نمائندگی کی۔ بعد ازاں فوزیہ سلیم عباس نے اسی حلقے سے انتخابات میں حصہ بھی لیا اور بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا جبکہ پہلی نگران وزیرتعلیم رہنے کا اعزاز بھی فوزیہ سلیم عباس کو حاصل ہے۔ حلقہ 11کھرمنگ میں سب سے زیادہ نمائندگی سید اسد زیدی مرحوم اور سید آغا محمد علی شاہ نے 4,4مرتبہ کی ہے۔

گلگت بلتستان میں قائم ہونے والی پہلی مشاورتی کونسل میں کھرمنگ سے راجہ امان علی شاہ نے نمائندگی کرکے جمہوری یا نیم جمہوری طرز حکمرانی کے پہلے نمائندے ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ 1979میں مشاورتی کونسل کے انتخابات میں سید محمد علی شاہ نے اس علاقے سے فتح کا جھنڈا گاڑ دیا۔ بعد ازاں 1983کے انتخابات میں بھی آغا محمد علی شاہ فاتح کھرمنگ قرار پائے۔ 1987میں قرعہ سید اسد زیدی کے نام نکلا جس نے مشاورتی کونسل میں اپنی جگہ بنالی۔

ضلع کھرمنگ کی ایک اہم اور دلچسپ بات ہے، 1991 کے انتخابات میں اہل تشیع برادری نے مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اہل تشیع آبادی پر مشتمل تمام حلقے خالی رہے اور مخلوط حلقوں میں بھی انہوں نے انتخابی سسٹم میں حصہ نہیں لیا لیکن سید اسد زیدی 1991کے انتخابات میں بھی اپنے حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے اسمبلی پہنچ گئے۔

گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ جماعتی بنیادوں پر 1994میں انتخابات ہوئے تو اس حلقے سے دوبارہ سید اسد زیدی جیت گئے۔ 1999 کے انتخابات میں سید محمد علی شاہ نے اسد زیدی کو دبوچ لیا اور خود اسمبلی پہنچ گئے۔ 2004کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر سید اسد زیدی مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر جیت گئے اور اسمبلی پہنچ گئے۔اور سپیکر ملک محمد مسکین آف تانگیر کے ساتھ ڈپٹی سپیکر بن گئے۔مذہبی لحاظ سے آزادانہ خیالات کا حامل اور ادب پر عبور رکھنے والے، دانشورانہ صفات کے سید اسد زیدی غالباً30 اپریل 2009کو اسمبلی کی مدت پوری کرنے سے کچھ ماہ قبل دہشتگردی کا نشانہ بن گئے۔ سید اسد زیدی کو اس حلقے سے چار بار نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔

2009 کے انتخابات میں اس حلقے سے 21958ووٹ رجسٹرڈ تھے جس میں خواتین کی تعداد 10192اور مردو وٹروں کی تعداد 11766تھی۔ انتخابات میں کل 7 امیدواروں نے حصہ لیا۔ انتخابات میں فوزیہ سلیم عباس نے آزاد حیثیت میں حصہ لیا، پیپلزپارٹی نے سید محمد علی شاہ، متحدہ قومی موومنٹ نے وزیر غلام محمد، کو ٹکٹ دیا جبکہ اقبال حسن، قوم پرست رہنما سید حیدر شاہ رضوی مرحوم، سید قائم علی شاہ، کاچو مہدی علی نے بھی آزاد حیثیت میں حصہ لیا۔ چار امیدوار ایک ہزار کا ہدف عبور نہیں کرسکے۔ اقبال حسن نے آزاد حیثیت میں 1745ووٹ لئے۔ فوزیہ سلیم عباس نے 3180 ووٹ حاصل کئے جبکہ پیپلزپارٹی کے سید محمد علی شاہ نے 4380ووٹ لئے اور سید محمد علی شاہ دوبارہ اسمبلی پہنچ گئے۔انتخابات میں کل 10167ووٹ کاسٹ ہوگئے جو کہ مجموعی ووٹ کا 46فیصد بنتا ہے۔

مذکورہ انتخابات میں پہلی مرتبہ اسد زیدی مرحوم کے گھرانے کا انتخابات میں کوئی کردار نظر نہیں آیا۔ 2013میں اسد زیدی کے بھائی سید امجد زیدی نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔ سید امجد زیدی اس وقت پی ٹی آئی کے امیدواروں میں سب سے پرانے امیدوار ہیں۔ 2015کے انتخابات سے قبل پہلی بار بنائی گئی نگران حکومت میں فوزیہ سلیم عباس نے شرکت کرکے انتخابات سے دستبرداری حاصل کرلی۔

2015کے انتخابات میں اس حلقے سے 21958ووٹ رجسٹرڈ ہوئے۔ جن میں 10192خواتین اور 11766 مرد شامل تھے۔ انتخابات میں 8امیدواروں نے حصہ لیا۔ جن میں سے پانچ امیدوار 100کے ہندسے تک نہیں پہنچ سکے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سید امجد زیدی، مسلم لیگ ن نے اقبال حسن، مجلس وحدت المسلمین نے شجاعت حسین کو ٹکٹ دیدیا۔ شجاعت حسین نے 2424 ووٹ حاصل کرلئے۔ سید امجد زیدی نے 4985ووٹ حاصل کرلئے۔جبکہ اقبال حسن نے 5165ووٹ حاصل کرلئے۔ انتخابات میں کل 12640ووٹ پڑ گیا جو کہ تناسب کے اعتبار سے مجموعی ووٹ کا 57.7 فیصد رہا۔ اقبال حسن حفیظ کابینہ میں سب سے اہم وزارت ترقی و منصوبہ بندی کے وزیر مقرر ہوئے۔

آمدہ انتخابات کے لئے اس حلقے سے 26869ووٹ رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں سے 12409خواتین اور 14460مرد ووٹر ہیں۔ انتخابات کے لئے 42پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں 5مردوں اور 5خواتین کے لئے الگ جبکہ 32مخلوط پولنگ سٹیشن ہیں۔ کل 10امیدواروں نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے وزیر اقبال حسن اور ایم ڈبلیو ایم کے امیدوار شجاعت حسین نے ٹکٹ لینے سے انکار کرتے ہوئے آزاد لڑنے کو ترجیح دیدی۔ ن لیگ نے شبیر حسین، پی ٹی آئی نے امجد زیدی، اسلامی تحریک نے محمد علی خان، اور پیپلزپارٹی نے نیاز علی کو ٹکٹ دیدیا ہے جبکہ سید محمد علی شاہ کے صاحبزادے سید محسن رضوی بھی آزاد حیثیت میں انتخابات میں اتررہے ہیں۔ اس حلقے کی صورتحال پی ٹی آئی کے امجد زیدی کے حق میں ہے۔شجاعت حسین کی سابقہ پوزیشن اور اقبال حسن میں صلاحیت ہے کہ وہ امجد زیدی کو چیلنج دے سکیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ کھرمنگ بھی اپنے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

تجزیے و تبصرے