پنجاب میں تصادم اور لڑائی جھگڑوں سے بھرپور بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ

بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کے لئے پنجاب کے 12 اضلاع میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے اور اس دوران متعدد مقامات پر ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کے لئے پنجاب کے 12 اضلاع میں پولنگ کا عمل صبح ساڑھے 7 بجے شروع ہوا جو شام ساڑھے 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔ بعض مقامات پر پولنگ عملہ وقت پر نہ پہنچنے اور بعض مقامات پر پولنگ ایجنٹس نہ ہونے کے باعث پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار ہوا۔
ملتان میں یونین کونسل نمبر 41 میں (ن) لیگ اور آزاد امیدواروں کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی، دونوں کارکنوں کے حامیوں میں لڑائی جھگڑے میں 6 افراد زخمی ہوئے جب کہ بد انتظامی کے باعث پولنگ کا عمل بھی روکنا پڑا، فوج نے موقع پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کیا جب کہ پولیس کی نفری موقع سے غائب ہو گئی۔ ملتان کی ہی یونین کونسل نمبر 58 میں الہدیٰ اسکول میں قائم پولنگ اسٹیشن پر مسلم لیگ (ن) کے درجنوں حامیوں نے دھاوا بولا اور پولنگ عملے کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر بیلٹ پیپرز اٹھا کر لے گئے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ حالات کو کنٹرول کیا تاہم بیلٹ پیپرز تاحال واپس نہیں لائے جا سکے۔
راولپنڈی کی یونین کونسل ڈھوک الہیٰ بخش میں (ن) لیگ اور آزاد امیدوار کے کارکنوں میں فائرنگ کے تبادلے میں 3 افراد زخمی ہوئے، تینوں زخمیوں کو بے نظیر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حاصل پور کی یونین کونسل نمبر 5 کے وارڈ نمبر 4 میں بیلٹ پیپر پرغلط انتخابی نشان پرنٹ ہونے پر جنرل کونسلر کا الیکشن ملتوی کردیا گیا۔
سیالکوٹ کی یونین کونسل حاجی پورہ نمبر 13 میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے کارکنان آپس میں گھتم گھتا ہو گئے جس کے باعث پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔ رحیم یارخان کی وارڈ نمبر 24 میں جعلی اسسٹنٹ کمشنر بن کر آزاد امیدوار کو ووٹ ڈلوانے والے سرکاری ملازم شوکت علی کو پولیس نے گرفتار کرلیا جب کہ ڈیرہ غازی خان میں جام پور پولنگ اسٹیشن کے وارڈ نمبر 2 کے پولنگ سٹیشن گرلز کالج میں سیاہی اور بیلٹ پیپرختم ہونے سے ووٹر کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بلدیاتی انتخابات تیسرے مرحلے میں پنجاب کے 12 اضلاع راولپنڈی، ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، لیہ، راجن پور، ڈی جی خان، مظفرگڑھ، جھنگ، خوشاب، سیالکوٹ اورنارروال میں پولنگ ہو رہی ہے. پنجاب میں میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل میں مجموعی طور پر 3 ووٹ کاسٹ کئے جائیں گے جن میں ایک ووٹ چیئرمین و وائس چیئرمین اور دوسرا کونسلر کے لیے ہوگا جب کہ میونسپل کمیٹی میں کونسلر کے لیے ایک ہی ووٹ کاسٹ کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے روز پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جب کہ سندھ رینجرز کے جوانوں کو پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے کا اختیار حاصل ہے۔ پنجاب کے 14012 پولنگ اسٹیشنز میں سے 3078 کو حساس اور 964 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جب کہ انتہائی حساس مقامات پر امن وامان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے فوج طلب کی گئی ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے