رات ڈھائی بجے سگنل پر اکیلا ڈرائیور کیوں نہیں رکتا….

کشمیر ہائی وے پر کوئی ناکہ نہیں، رات ڈھائی بجے سگنل پر اکیلا ڈرائیور نہیں رکتا، سوچ ڈکیتی سے بچنا بھی ہو سکتی ہے۔ کیا رات ڈھائی بجے اکٹھے پانچ پولیس والے سگنل کے عین وسط میں کھڑے تھے کہ ونڈ سکرین پر گولیاں مارنے میں کامیاب ہو گئے؟

یہ کیسی کہانی ہے کہ کوئی سگنل توڑے گا، اس بات کا اندازہ ہونے تک آپ اس کے سامنے عین سڑک کے وسط میں کھڑے ہوں گے، ظاہر ہے گاڑی کی سپیڈ زیادہ ہو گی، آپ کو گاڑی نہیں ٹکراتی، آپ کی پانچ گولیاں ونڈ سکرین کو لگ جاتی ہیں۔۔۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟
یقینا گاڑی چیز کی گئی ہے، روک کر مارا گیا ہے۔ اور اگر روک لیا تھا تو مارنے کی کیا تک بنتی ہے؟

ڈھائی بجے رات تک کشمیر ہائی وے پر ایک ڈیوٹی آفیسر بھی سگنل پر کھڑا نہیں ہوتا، پانچ لوگ اس دن سگنل پر کیا کر رہے تھے؟ یقینا یہ نہ رکنے پر گولیاں چلا دینے تک بات محدود نہیں۔ پھر جب ناکہ نہیں، ٹریفک نہیں، رات ڈھائی کا وقت ہے ، سگنل ٹوٹنے پر چالان ہونا چاہئیے یا 22 گولیاں مارنی چاہئیں؟

کیا کوئی جانتا بھی یا نہیں کہ کشمیر ہائی وے پر رات ڈھائی بجے ناکہ لگا ہوا تھا ؟ اور اگر لگا ہوا تھا تو کیوں؟ عوام کو کیسے پتا چلے کہ ڈھائی بجے رات کو پولیس والے گاڑی روک رہے ہیں یا ڈکیتوں کا کوئی گروپ روپ بدل کر کھڑا ہے؟ کیا اسلام آباد جیسے شہر میں رات ڈھائی بجے باہر نکلنے کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ زندہ واپسی کی کوئی گارنٹی نہیں؟

کس کو معلوم ہے کہ بچے نے گاڑی نہیں روکی؟ سپیڈ سے چلتی گاڑی پر فائر ہوئے، لڑکے کی جان گئی، اور گاڑی وہیں رک گئی، کسی شے سے نہیں ٹکرائی؟ اتنے معجزات صرف ایک واقعے میں اکٹھے ہو گئے؟ کیوں آپ یہ سوال نہیں پوچھتے کہ گاڑی نہیں روک رہا تھا تو گاڑی رکی کیسے؟ گاڑی کو ڈیمج کیوں نہیں ہوا؟

جتنا اس واقعے کو سوچتی ہوں، دل گھبرانے لگتا ہے۔ کیسا جنگل ہے؟ کیسے انسان ہیں؟۔۔ جن میں ہم بستے ہیں۔

بائیس سال عمر ہی کیا ہے، آپ نے پل میں کسی کا بیٹا مار دیا، اور اب کہانیاں بنا رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے