پاکستان میں صنعتی و زرعی شعبے کی ترقی کے امکانات روشن

پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن زراعت کبھی بھی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی نہیں رہی۔ بڑھتی آبادی کے ساتھ ملک کی خوراک اور زراعت سے وابستہ دیگر ضروریات میں اضافہ ہورہاہے۔ دوسری جانب زراعت کے شعبے میں جدید طریقوں اور جدید زرعی مشینری کا استعمال بہت کم ہے اور نہ ہی زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ بعض دیگر اہم وجوہات کے علاہ اس شعبے کو نظر انداز کیا جانا اور مناسب توجہ نہ ملنا بھی زرعی پسماندگی کا باعث ہیں۔ چین میں رہائش کے دوران اور یہاں کے مختلف علاقوں کے دوروں کے بعد یہاں زراعت کی ترقی دیکھی جو انتہائی جدید خطوط پر استوار ہے ۔ چین نہ صرف اتنی خوارک پیدا کررہا ہے کہ ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی کی ضروریات پوری کررہاہے، بلکہ کئی اجناس برآمد بھی کرتاہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان زراعت کے میدان میں پہلے ہی تعاون کا سلسلہ جاری ہے ۔تاہم سی پیک کے تحت اس شعبے کی طرف خصوصی توجہ دینا بہت مفید ثابت ہوگا۔ زراعت اورصنعت کو منسلک کرنے سے دونوں شعبوں میں ترقی آئیگی اور خاص طور پر صنعتی ترقی سے روزگار کے مواقع پید اہوں گے اور ملک سے بیروزگاری کم کرنے میں مدد ملے گی۔ توانائی کی ضروریات پوری ہونے کے بعد ملک میں شاہراہوں کی صورتحال کافی بہتر ہوگئی ہے۔ ایسے میں صنعتی اور زرعی ترقی کے فوری نتائج نکل سکتے ہیں۔

سی پیک اتھارٹی کے چئیر مین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجو ہ کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ ۲۰۲۱ میں چین- پاک اقتصادی راہداری کے تحت پاک- چین صنعتی اور زرعی تعاون پر بھر پور توجہ دے جائے گی۔ انہوں نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ کے فعال ہونے سے علاقائی تجارت کی ترقی کو فروغ ملے گا۔سی پیک کے منصوبوں پر کام کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ اگرچہ پاکستان کو کووڈ-۱۹ کی وبا کا سامنا کرنا پڑا ہے ،لیکن مختلف اداروں کی بھرپور کوششوں سے ، چین- پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر اب بھی بھر پور طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور پہلے مرحلے میں بہت سے اہم منصوبے مکمل ہو چکےہیں، چین -پاک اقتصادی راہداری کے نئے منصوبوں پر۲۰۲۱ بھی تیزی سے کام جاری رہے گا،اس وقت چین -پاک اقتصادی راہداری دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جس کے دوران صنعتی اور زرعی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، چین- پاک اقتصادی راہداری کے فریم ورک کے تحت خصوصی اقتصادی زون پاکستان میں صنعت کاری کے عمل کو تیز کرنے کا باعث بنیں گے ۔زراعت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، اور چین- پاک اقتصادی راہداری فریم ورک کے تحت زرعی تعاون سے پاکستان کی زرعی پیداوارمیں اضافہ ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک نہ صرف پاکستانی عوام کے لیےفائدہ مند ہے بلکہ علاقائی تجارت کی ترقی کے لئے بھی سازگار ہے۔ گوادر پورٹ سے تجارت کے آغاز سے پڑوسی ممالک بھی مستفید ہوں گے ،سی پیک کے تحت زرعی شعبے کوترقی دینے کے حوالے سے حال ہی وزیر اعظم عمران خان نے بھی ایک بیان میں کہا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں چینی مہارتوں اور تجربات کو بروئے کار لاکر زراعت کے شعبے کی بحالی پرخاص توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 30 سالوں میں چین نے جس طرح ترقی کی ہے، وہ انسانی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور اس ماڈل سے پاکستان کو استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔صنعتوں کے حوالےسے ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے خصوصی معاشی زون قائم کیے گئے ہیں۔

زراعت اور صنعت دونوں شعبوں میں ترقی کی بہت بڑی گنجائش ہے، ان شعبوں کی طرف مناسب توجہ دینے سے ملک کی معاشی ترقی کو تیز کیا جاسکتاہے ،ملک کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنایا جاسکتاہے، جس سے یقینا نہ صرف اشیا خوردونوش کی قیمتیں کم ہوں گی، بلکہ قیمتی زر مبادلہ بھی کمایا جاسکتاہے اور برآمدات بھی بڑھائی جاسکتی ہیں ۔ ملک کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکتاہے، روزگار کے مواقع بڑھا ئے جاسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر عوام کو غربت سے نکال کر خوشحال بناکر معیار زندگی کو بہتر بنا یا جاسکتاہے۔ چین نے یہ سارے اہداف اپنے ملک کے اندرحاصل کرلیے ہیں اور انشاءاللہ دونوں برادر دوست ممالک کے باہمی تعاون سے پاکستان میں ان دونوں شعبوں کی ترقی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے