میری زندگی کے تین بہترین دن

ٹویٹر پر سکرول کرتے ہوئے اچانک دیکھا کہ گلوبل نیبرہڈ فار میڈیا انوویشن کی جانب سے "خود مختار میڈیا، ذمہ دار صحافت” کے نام سے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے درخواستیں مانگی گئی تھیں ۔ میں نے بھی اپلائی کیا جس کے بعد مجھے گلوبل نیبرہڈ فار میڈیا انوویشن کی جانب سے ایک اپلیکیشن فارم موصول ہوا ۔ اس پروگرام کے لیے ملک بھر سے سیکڑوں امیدواروں نے درخواستیں دے رکھی تھیں ۔

میں آئی بی سی پر پچھلے پانچ سالوں سے ایڈیٹنگ کے فرائض سر انجام دے رہی ہوں، کالم بھی لکھتی ہوں اور آئی بی سی کےفیس بک پیج اور یوٹیوب چینل پر بھی کام کر رہی ہوں تاہم مجھے تکنیکی کاموں سے زیادہ واقفیت نہیں تھی ۔ اس ورکشاپ کی خوبی یہ تھی کہ میری ضرورت کی تمام چیزیں یہاں سیکھنے کا موقع مل رہا تھا ۔

میں نے درخواست فارم پر طلب کردہ تفصیلات تحریر کرنے کے بعد اس امید کے ساتھ ای میل کیا کہ میں ان 60 امیدواروں کی لسٹ میں ضرور شامل ہو جاؤں گی۔ ایک روز مجھے ای میل اور کال کے ذریعے بتایا گیا کہ آپ اس ورک شاپ کے لئے منتخب ہو چکی ہیں، میری خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہ رہا-

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر میں اس ورکشاپ کو لے کر اتنا خوش کیوں ہو رہی ہوں، ورکشاپس تو ہوتی رہتی ہیں اور اس کے لئے منتخب ہونا بھی کوئی بڑی بات نہیں تو پھر وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟

تو اب میں آپ کو اس ورکشاپ کے مقاصد اور منشور کے بارے میں تھوڑا آگاہ کر دیتی ہوں۔

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا ہی متاثرہوئی ہے اور ہر فرد چاہے وہ کسی بھی شعبہ زندگی سے منسلک ہو، کسی نہ کسی طرح متاثر ضرور ہوا ہے، اسی طرح شعبہ صحافت بھی اس سے بری طرح متاثرہوا،کئی صحافی ملازمتوں سے فارغ ہو گئے ۔ نوکریوں سے برخاست ہونے کے بعد گھروں میں فاقے کی صورت پیدا ہونا شروع ہو گئی ، اب حالات تو سب کے ہی خراب تھے، بھلا ان کو کون نوکری دیتا، اس لئے انھوں نے خود ہی ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے اور ملٹی میڈیا کا سہارا لے لیا، سب نے اپنے اپنے یوٹیوب چینل ،ویب سائیٹس اور فیس بک پیجز بنادیے ۔ کام تو سبھی کر رہے تھے لیکن ٹیکنالوجی کا استعمال اور بنیادی تربیت نہ ہونے کے وجہ سے اکثر یہاں بھی مار کھا گئے ،اس کے علاوہ ان کے پاس ان پلیٹ فارمز کو چلانے کے لیے بجٹ بھی نہیں تھا کہ ٹیم کے ساتھ کام کر سکیں یا کروا سکیں۔

اس لئے(PEJP)” خودمختار میڈیا”، ذمہ دار صحافت” پروگرام کے تحت ان کے ان تکنیکی مشکلات کو دور کرنے، ان کا حل نکالنے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کروانے اور ان کو مالی مدد فراہم کرنے کے لئے گلوبل نیبرہڈ فار میڈیا انوویشن کی جانب سے کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں تین تین دنوں کی تین ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا۔

کراچی اور لاہور سے 21،21 امیدواروں نے ورک شاپ میں شمولیت اختیار کی، جب کہ اسلام آباد سے 24 بلاگرز اور یوٹیوبرز نے شرکت کی ۔

تین روزہ ٹرینگ کے بعد ان 66 امیدوارں میں سے صرف 20 افراد کو منتخب کیا جائے گا، جن کے ساتھ گلوبل نیبرہڈ فار میڈیا انوویشن اگلے چھ ماہ کام کرے گا ۔ بہترین کام کرنے والوں کا انتخاب کر کے سلیکشن کمیٹی ان افراد کو اپنا پراجیکٹ چلانے کے مختص سرمایہ فراہم کرے گی ۔ان افراد کو کراچی میں پانچ روزہ ٹریننگ بھی دی جائے گی ۔

تربیتی نشستوں میں عون عباس ساہی ، ھارون رشید، طلحہ احد، علی رضا،فائزہ خالد اور بدر خوشنود نے بہت ہی عمدہ انداز میں ہمیں کام سکھایا ۔اپنے مفرد انداز اور دوستانہ ماحول میں انہوں نے ہمیں وہ سب کچھ سکھایا جو اس شعبے میں بنیادی مہارتوں کے لیے ضروری تھا ۔ میں اس موقع پر گلوبل نیبرہڈ فار میڈیا انوویشن کی ٹیم ہیڈ ناجیہ اشعر ،سارااور حسنین نے بڑے خوبصورت انداز میں ہماری رہ نمائی کی-

اس ورک شاپ کے ذریعے میں نے بہت سی تکنیکی کام سکھائے گئے ، ٹیم ورک ،بلاگنگ،وی لاگنگ، مونیٹائزیشن، ویب ڈیزائننگ اور مختلف اقسام کی ٹیکنالوجیز سے ہم نے استفاده کیا ۔

اس ورک شاپ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ یہاں میری نئے لوگوں سے دوستیاں بنیں ۔ اسلام آباد ، کشمیر ، گلگت بلتستان ، خیبر پختونخواہ سے لوگ یہاں آئے ہوئے تھے ۔ تقریباً سبھی سے بات ہوئی، مختلف موضوعات پر گفتگو رہی، مختلف دوستوں نے اپنے علاقوں اور رسوم و رواج سے متعلق آگاہ کیا ۔کچھ دوستوں نے اپنے علاقوں میں مدعو بھی کیا، دوستوں نے آئی بی سی کے پلیٹ فارم کو بھی سراہا اور اس کے لئے کام کرنے کی حامی بھی بھری ۔ ہم سب نے ایک دوسرے سے عہد کیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور ایک دوسرے سے منسلک رہیں گے، مل جل کر کام کریں گے۔

ورکشاپ میں کچھ دوستوں نے مختلف شعرا کا کلام بھی ترنم سے سنایا ۔

آخر میں میریٹ ہوٹل اسلام آباد کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گی ، ہوٹل کے عملے نے بہترین انداز میں میزبانی کے فرائض سر انجام دیے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے