پی ٹی آئی آزاد کشمیر کا پارلیمانی بورڈ۔۔۔۔۔عجب پسند کی غضب کہانی

خبر: آزاد کشمیر الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کے چناؤ کیلئے پارلیمانی بورڈ کا قیام،نظریاتی کارکنوں نے بورڈ مسترد کر دیا،احتجاج کا عندیہ۔۔۔

نچوڑ:میرا ذاتی طور پر کبھی کسی پاکستانی سیاسی جماعت کی طرف جزباتی یا سیاسی جھکاؤ نہیں رہا لیکن میں پھر تحریک انصاف آزاد کشمیر اور پاکستان کے سیاسی کارکنوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ جو اپنی ہی پارٹی قیادت پر کسی بھی فیصلہ کو لیکر تنقید کرتے ہیں بلکہ نا صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ احتجاج بھی کرتے ہیں۔ان فیصلہ جات میں کسی کا ذاتی مفاد ہونا یا نا ہونا ایک الگ بحث ہے جس کی طرف میں آتا ہوں لیکن کسی بھی سیاسی پارٹی میں برابری کی سطح پر ایک کارکن کا اختلاف رائے رکھنا، بولنا اور احتجاج کرنا معنی رکھتا ہے۔یہاں دیگر سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت کی بجائے آمریت دیکھنے کو ملتی ہے۔پارٹی لیڈر اور چیئرمین چاہے وہ کرپٹ ہو،یا حاجی ہو اسکے فیصلے کو چاہے جیسا بھی ہوں فوراً تسلیم کرنا اولین فرض سمجھا جاتا یے چاہے وہ فیصلہ کتنا ہی غیر آئینی،غیر قانونی کیوں نا ہو۔اور اگر کوئی کارکن اس فیصلے کی مخالفت کرے، چاہے وہ مخالفت صحیح پیرائے میں کر رہا ہو لیکن اسکے اختلاف پر فوراً بنیادی رکنیت معطل دی جاتی ہے اور کک مار کر پارٹی سے باہر نکال دیا جاتا ہے کہ "چل کاکا تیرا، اتھے کوئی کم نی”اس بات کی انگنت مثالیں موجود ہیں،پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بہرحال اس معاملے میں باقی سیاسی جماعتوں سے آگے ہیں۔۔۔۔

اب آتے ہیں اصلی بات کیطرف،آزاد کشمیر میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم اور امیدواروں کے چناو کیلے جس پارلیمانی بورڈ کا اعلان کیا گیا ہے، اسے پی ٹی ائی AJKکے نصف سے زائد کارکنان نے مسترد کر دیا ہے اور اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔اگر ہم پچھلے الیکشن سے اس الیکشن تک پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے سفر کی بات کریں تو پارٹی مختلف تنازعات کا شکار ہوتی،ڈولتی ڈالتی یہاں تک آن پہنچی ہے۔پچھلے الیکشن میں پی ٹی آئی کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا،آزاد کشمیر بھر اور مظفراباد سٹی سے پی ٹی آئی کے امیدوار خواجہ فاروق احمد سمیت پی ٹی آئی کے تمام امیدوار ہار گئے۔ماسوائے مہاجرین کی دو سیٹوں کے پی ٹی آئی کوئی سیٹ بھی نا جیت سکی۔۔۔۔۔

پی ٹی آئی کو نوجوانوں کی جماعت بھی کہا جاتا ہے لیکن اس جماعت میں بھی ہمیں 50+نوجوان بڑئے عہدوں پر قابض نظر آتے ہیں،اگر ہم آزاد کشمیر میں اس ریشو کو دیکھیں تو وہی نظر آرہا ہے جو پاکستان میں ہوا اور ہورہا ہے۔۔۔۔۔

نوجوانوں کو نظر انداز کر کے اس پارٹی پر بھی پیرا شوٹرز اور الیکٹیبلز قبضہ جما رہے ہیں۔ایسے میں امیدواروں کے چناؤکیلئے ایک ایسا پارلیمانی بورڈ کی تشکیل جو متنازعہ ہو تو میرے ذاتی خیال سے اس سے نا صرف پارٹی کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آئیندہ الیکشن میں پارٹی کا ووٹ بینک بھی متاثر ہوسکتا ہے۔۔۔۔

پارٹی کی سینئر قیادت میں بھی اس بورڈ کو لیکر شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔سابق وزیر ماجد خان نے اس بورڈ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پر اس بورڈ کے خلاف شدید الفاظ میں رد عمل دیا۔بورڈ میں موجود اراکین پر کارکنان اور متعدد پارٹی لیڈرز کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ یہ بورڈ پرو سلطان محمود ہے۔اور جو کارکنان اور راہنما سلطان محمود چوہدری کی پالیسیوں سے اصولی اختلاف رکھتے ہیں ،انہیں اس بورڈ میں نظر انداز کیا گیا ہے اور اگر یہ بورڈ اپنی جگہ پر موجود رہتا ہے تو یہ بورڈ آمدہ انتخابات میں امیدواران کا چناو بھی اسی ذاتی پسند نا پسند سے کرئے گا۔

ہماری پاکستانی سیاست اور آزاد کشمیر کی سیاست میں یہ بہت پڑا سیاپا ہے کہ یہاں ہمیشہ بیٹسمین فارم میں ہو یا نا ہو اسے ہی گراؤنڈ میں اتارا جاتا ہے،او پائی اگر آپ دیکھتے ہیں کہ بیٹسمین آوٹ آف فارم ہے تو چھوڑ دیں اور کسی اور کو موقع دیا جائے۔آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی ایسا ہی کچھ بن رہا ہے۔ہر الیکشن میں وہی گنے چنے چہرے نظر اتے ہیں،آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی نئے چہروں کی آمد کی ریشو بہت کم ہے۔خیر اس بات کو چھوڑ کر اصل مدعا کی طرف آتے ہیں،پارلیمانی بورڈ میں موجود پی ٹی آئی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری خواجہ فاروق احمد پر کارکنان کی طرف سے بہت زیادہ تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے،خواجہ فاروق صاحب 1990میں مظفر آباد سٹی کی سیٹ جیت کر ممبر اسمبلی بنے،اور اسکے بعد 1996میں ممبر اسمبلی منتخب ہوئے،خواجہ صاحب 2 فتوحات کے ساتھ شہر سے 4 بار شکست بھی کھا چکے ہیں،جن میں تازہ ترین شکست 2015/16کی ہے۔

خواجہ فاروق صاحب اس سے پہلے بھی 2 سیاسی پارٹیوں کے ممبر پارلیمانی بورڈ رہ چکے اور یہ تجربہ بہت زیادہ اچھا نہیں رہا،دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں وہ مسلم کانفرنس سے آئے قیوم نیازی ہیں،جناب کے معاملات بھی خواجہ فاروق صاحب جیسے ہی ہیں،تیسرئے نمبر پر ممبر اسمبلی دیوان غلام محی الدین ہیں ان پر بھی تنقید کا پیمانہ بہت کثیر ہے۔آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی دھڑہ بندی کا شکار ہے یہ سب جانتے ہیں،بلخصوص سردار تنویر الیاس کی آمد کے ساتھ ہی پارٹی میں بہت ہلچل دیکھی گئی،بیریسٹر سلطان محمود سے صدارت لیے جانے کے اعلانات بھی گونجے،لیکن معاملہ بچتا بچاتا یہاں تک پہنچ آیا ہے،لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ تنویر الیاس کی آزاد کشمیر کی سیاست میں آمد سے بڑئے بڑئے نام پریشان نظر آئے۔

خیر جب الیکشن کی آمد آمد ہو تو ہر پارٹی اپنے اندرونی اختلافات کو مٹا کر ایک پیج پر آنے کی کی کوشش کرتی ہے لیکن آزاد کشمیر میں یہ معاملات الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی مزید پھیلتے نظر آرہے ہیں،گزشتہ دنوں یونین کونسل گوجرہ کی تنظیم کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر عہدیداران کے 2 نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں اور کارکنان سوشل میڈیا پرایک دوسرے کی ایسی کی تیسی کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن سٹی مظفرآبادکی مرکزی لیڈرشپ بشمول خواجہ فاروق اس سارئے معاملے پر خاموش ہے۔

پارلیمانی بورڈ کے حوالے سے آزاد کشمیر کے کارکنان نے 28 فروری کی ڈیڈ لائن کے بعد اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے،اب یہ احتجاج ہوگا یا نہیں،لیکن ایک بات تو صاف ہے اگر پی ٹی آئی آزاد کشمیر اسی تسلسل سے متنازع فیصلے کرتی رہی تو آمدہ الیکشن میں پی ٹی آئی کا اللہ ہی حافظ ہے۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے