لا الٰہ الا اللہ‘ امن کی نعمت اور سائنس

”لا الٰہ الا اللہ‘‘ وہ کلمہ ہے کہ جس کی بنیاد پر برصغیر کے لوگوں نے قربانیاں دے کر اپنا آزاد ملک پاکستان حاصل کیا۔ ایک محتاط جائزے کے مطابق 25 لاکھ کے قریب مسلمان اس دوران شہید ہوئے۔ ہمارے وطن عزیز پاکستان کی عمر 75 سال ہونے کو ہے۔ ان 75 سالوں میں صرف ایک مرحلہ ایسا ہے کہ اس میں اہل پاکستان 75 ہزار کی تعداد میں شہید ہوئے۔ ان میں پاک فوج کے سپاہی سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل تک کے افسران بھی شامل ہیں۔ پولیس‘ رینجرز اور باقی فورسز کے لوگ بھی شہید ہوئے ہیں۔ علما کرام نے بھی قربانیاں پیش کی ہیں۔ تاجر بھی شہید ہوئے ہیں۔ سکولوں اور مدارس کے طلبہ اور اساتذہ بھی شہید ہوئے ہیں۔ مسجدوں اور بازاروں میں عام لوگ بھی شہید ہوئے ہیں۔ پہلے ”ضربِ عضب‘‘ اور پھر چار سالہ ”ردالفساد‘‘ آپریشنز کے تحت متواتر قربانیوں کے بعد پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے امن کی نعمت عطا فرمائی۔

22 فروری کو آئی ایس پی آر کے سربراہ جناب میجر جنرل بابر افتخار نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کے پیچھے پوری قوم کے جذبے کو سراہا اور کہا ”قوم کی سوچ کے تحت ہر پاکستانی ‘رد الفساد‘ کا سپاہی ہے‘‘۔ جی ہاں! 22 کروڑ کو کس چیز نے سپاہی بنایا، جناب بابر افتخار صاحب نے اس کا اظہار یوں کیا ”نظریے کا مقابلہ برتر نظریے اور دلیل کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے‘‘۔ یعنی ایک طرف دہشت گردی کا نظریہ تھا۔ خود ہی الزام لگانے‘ خود ہی اس پر فتویٰ لگانے‘ دائرہ ٔاسلام سے خارج کرنے‘ پھر خود ہی تفتیشی بننے، خود ہی جج بننے اور آخر پر خود ہی جلاد بننے کا نظریہ تھا۔ علما‘ صحافی اور اہل علم دانشور میدان میں آئے۔ انہوں نے مندرجہ بالا انسانیت کش نظریے کا بطلان کیا۔ اسے اللہ کی زمین میں فساد قرار دیا اور پھر ریاست نے ”ردالفساد‘‘ کے عنوان سے ایسا کردار ادا کیا کہ علمی محنت کے رنگ میں اپنا سرخ رنگ شامل کیا اور ایسے شامل کیا کہ 22 کروڑ اہل پاکستان کی رگوں میں امن و سکون کا خون دوڑنے لگا۔ دلوں کو امن کے خون سے قرار ملا۔ ہم 75 ہزار قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین!

یاد رہے! پاکستان بناتے وقت بھی نظریہ سامنے تھا اور پاکستان کو اپنے اندر سے محفوظ بناتے ہوئے بھی نظریہ ہی سامنے تھا۔ اس وقت بھی ”لا الہ الا اللہ‘‘ سامنے تھا اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے بھی یہی کلمہ سامنے تھا کہ یہ کلمہ ‘اہل کلمہ کی حفاظت بھی کرتا ہے اور جو غیر اہل کلمہ پاکستانی ہیں‘ ان کی حفاظت کی بھی ضمانت دیتا ہے۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ جو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد تھے‘ دلائل کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تمام آسمان اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوقات اسی کلمہ کی بنیاد پر قائم ہیں۔ بائبل کا عہد نامہ قدیم ”تورات‘‘ ہے۔ تورات میں دس اصول مذکور ہیں۔ ان پر یہودی بھی ایمان رکھتے ہیں اور مسیحی بھی ایمان رکھتے ہیں۔ پہلا اصول ”لا الہ الا اللہ‘‘ ہے۔ اردو بائبل میں یوں درج ہے کہ: خدا ایک ہے‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ انگریزی میں یوں ہے:
I am the lord your God, you shall have no other Gods before me.

قارئین کرام! قرآن کی سب سے عظیم آیت ”آیۃ الکرسی‘‘ کا آغاز بھی یہی بتاتا ہے کہ اللہ کی توحید اور توحیدی کلمے سے ہی کائنات قائم و دائم ہے۔ آج ہم موجودہ سائنسی دور کو سامنے رکھیں تو غیر حیاتی دنیا میں کمپیوٹر سائنس اہم ہے اور حیاتیاتی دنیا میں انسانی سیل یا خلیہ اہم ترین ہے۔ دونوں ”لا الہ الا اللہ‘‘ سے قائم ہیں۔ دونوں کے بارے میں سائنس کا متفقہ فیصلہ ملاحظہ ہو:
DNA uses a chemical language with only a few letters to store information in a very efficient way, as in the binary code That uses only ones and zeros.

یعنی ”ڈی این اے‘‘ چند طے کیے ہوئے انسانی حروف کے پیچھے جو زبان استعمال کرتا ہے وہ صرف اور صرف ”زیرو اور ون‘‘ ہے۔ جی ہاں! تفصیل میں جائے بغیر کمپیوٹر کے بارے میں بھی عرض ہے کہ وہ بھی یہی بائنری کوڈ کے تحت زیرو اور ون کی زبان استعمال کرتا ہے۔ میری نظر میں زیرو دراصل ”لا الٰہ‘‘ ہے اور ون ”الا اللہ‘‘ ہے۔ زیرو کو جب وجود ملتا ہے تب ایک اللہ کی قدرت سے ملتا ہے۔ جب وجود کی موجودگی ایک اللہ کی چاہت نہ رہے تو وہ وجود زیرو ہو جاتا ہے۔ ڈی این اے اور کمپیوٹر کی زبان میں جو زیرو ہے‘ عربی اور انگریزی میں اسے اندھیرا (Darkness) ”غیر ضوئیّۃ‘‘ غلق یعنی بند، غیر صحیح اور False کہا جاتا ہے‘ جبکہ ایک کو نور اور روشنی (ضوئیہ) فتح، صحیح اور True یعنی حق اور حقانیت کہا جاتا ہے۔

غور فرمائیے! انسانی خلیہ ننگی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے اندر ”ڈی این اے‘‘ ہے۔ امریکہ میں قائم ”نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘‘ نے اپنی ریسرچ میں بتایا ہے کہ انسانی ڈی این اے تین ارب جوڑے اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس میں چھ گیگا بائٹ کی معلومات سٹور ہوتی ہیں۔ ایک ”آر این اے‘‘ میں 22 ہزار جینز ہوتے ہیں۔ ہر جین میں چھ نیوکلیوٹائیڈ ہوتے ہیں۔ یہ تینوں ایک جیسے نہیں بلکہ باہم مختلف ہوتے ہیں۔ یہ Forward direction میں پڑھے جاتے ہیں جبکہ باقی تین جو باہم مختلف ہوتے ہیں وہ Reverse direction میں پڑھے جاتے ہیں۔ اللہ اللہ! مطلب یہ ہے کہ کون آگے کو جاتا ہے‘ مثبت سمت میں قدم اٹھاتا ہے‘ اگلے جہان کی تیاری کرتا ہے اور کون ہے جو واپس، الٹا یہیں دنیا کا ہو کر رہ جاتا ہے…جی ہاں! میں یہ بات ایسے نہیں کر رہا۔ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر جناب بائو فزشٹ کہتے ہیں کہ اے انسانو! تمہارا ڈی این اے تمہارا موبائل فون ہے جو فون لائن کی طرح کام کر رہا ہے۔ یعنی انسانی جسم میں 100 کھرب خلیات کے اندر کھربوں موبائل فون ہیں جو لمحے لمحے کی سوچوں اور اعمال و کردار کی اطلاع اپنے خالق کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ مولا کریم ان کھربوں موبائلز کی لوکیشن کو ہر دم دیکھ رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جناب میجر جنرل بابر افتخار صاحب نے کہا: ردالفساد بِلٹ اینڈ ٹرانسفر مرحلے کا آغاز ہے‘‘۔ یعنی امن کے حصول کے بعد پاکستان میں تعمیر اور امن کی نعمتوں کو اہل پاکستان تک پہنچانے کے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ”اس دوران مشکل سے حاصل ہونے والے فوائد کو ناقابل واپسی بنانا ہماری ذمہ داری تھی اور یہی چیز اصل میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا حقیقی پیمانہ بھی ہے۔ سائنٹیفک آپریشن کے بعد علاقہ صاف کرنے کے بعد سماجی و معاشی ترقی اور سول اداروں کی عملداری دائمی امن کی جانب درست اقدام ہے‘‘ ۔قارئین کرام! محترم بابر افتخار صاحب کی مندرجہ بالا آخری گزارش کا روئے سخن سول حکومت اور اپوزیشن کی جانب ہے کہ وہ باہم مل جل کر خوبصورت کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے سول اداروں کو مضبوط کریں۔ عوام دوست بنائیں، پولیس، عدلیہ، ٹیکس اور بجلی وغیرہ کے محکموں میں اصلاحات لائیں۔ نظام کو کمپیوٹرائزڈ کریں‘ میرٹ کو یقینی بنائیں۔

برداشت کے کلچر کو رواج دیں‘ زبان ستھری استعمال کریں‘ باہمی احترام کو ہاتھ سے جانے نہ دیں…جی ہاں! پاکستان قائم ہوا تو نظریے کی بنیاد پر‘ دہشت گردی کے عفریت سے محفوظ ہو کر امن کے موسم بہار میں آیا تو نظریے کی اساس پر…اب اس کی تعمیر اور اصلاح بھی نظریے ہی کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور وہ ہے ”لا الہ الا اللہ‘‘ یعنی باتوں کی حد تک نہیں‘ نعروں اور محض اعلانات تک نہیں بلکہ عملی طور پر اسے مدینہ منورہ کی ریاست کا ماڈل بنانا چاہیے۔ یہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں گے تو جان نکلتے وقت زبان پر ”لا الہ الا اللہ‘‘ کے ورد کی توفیق ملے گی۔ حضور رحمت دو عالمﷺ نے فرمایا: جس کا آخری کلمہ ”لا الہ الا اللہ‘‘ ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ ابن ماجہ اور حدیث کی دیگر کتابوں میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”مومن ماتھے پر پسینے کے ساتھ فوت ہوتا ہے‘‘۔ امام حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ساری زندگی کی محنت کا پھل ملنے کا ٹائم ہے؛ چنانچہ ادھر ماتھے پر پسینہ آیا، ادھر اللہ تعالیٰ نے خوشخبری سنا دی۔ اے مطمئن جان! آ جا اپنے رب کی جانب۔ تو مجھ سے خوش اور میں تجھ سے خوش۔ جا! میرے بندوں کے پاس چلا جا۔ میری جنت میں داخل ہو جا (القرآن) کون ہے جو موت کے وقت اس خوشخبری کو سننے کا شوق رکھتا ہے؟

بشکریہ دنیا نیوز

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے