قبائیلی اضلاع میں خواتین کے 28 تعلیمی ادارے بند، کسی بھی خاتون کو حق وراثت میں حصہ نہیں ملا

قبائلی اضلاع میں خواتین بدترین صنفی امتیازکاشکار،26لاکھ سے زائد قبائلی خواتین علاقائی رسم ورواج ،اقدار اور قوانین میں سقم کے باعث حق وراثت سے محروم ہیں اسی طرح 96فیصدقبائلی خواتین آج بھی گڑھوں کے ذریعے اپنے خاندان والوں کےلئے پانی لاتی ہیں لیکن اس کے باوجود قبائلی اضلاع کی خواتین علاج معالجے کےلئے بنیادی مراکزصحت میں طبی عملے کے نہ ہونے کے باعث اوسطاً16کلومیٹرکافاصلہ طے کرکے ہسپتال پہنچتی ہیں۔عرب ممالک کے بعد قبائلی علاقوں میں خواتین کی دنیابھرمیں سب سے کم شرح خواندگی ہے اورجوبچیاں سکولوں میں داخل ہوتی ہیں ان میں79فیصدبچیاں پانچویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی تعلیم کو خیربادکہہ دیتی ہیں ۔

[pullquote]قبائلی اضلاع سے متعلق سرکاری رپورٹ کے اعدادوشمارکیاہیں۔۔؟[/pullquote]

محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی کے اعدادوشمارکے مطابق اس وقت قبائلی اضلاع میں چھ ہزار50سے زائد تعلیمی ادارے ہیں جس میں خواتین کےلئے قائم 28فیصد سکول وکالجزطویل عرصے سے بندپڑے ہیں مجموعی طو رپر خواتین کی تعلیمی اداروں کی تعداددوہزار464ہے تاہم لڑکیوں کے339پرائمری سکول اور11ہائی سکولوں سمیت کئی کمیونٹی سکول اوردیگرادارے غیرفعال ہیں قبائلی ضلع خیبرمیں سب سے زیادہ 44فیصدخواتین کے تعلیمی ادارے بندپڑے ہیں اس وقت ملک کی مجموعی شرح خواندگی58فیصدہے لیکن قبائلی اضلاع کی شرح خواندگی صرف33فیصد ہے اور اس 33فیصدمیں بھی 45فیصد مرد خواندہ ہیں جب کہ مجموعی طو رپر92فیصدسے زائد قبائلی خواتین نہ لکھ سکتی ہیں نہ ہی پڑھ سکتی ہیں۔

محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی کی قبائلی اضلاع سے متعلق دس سالہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں دولاکھ32ہزارسے زائدپندرہ سال سے کم عمرکی بچیاں سکولوں سے باہر ہے جس کی بڑی وجہ قبائلی علاقوں میں سکولوں کانہ ہونا اور دہشتگردی کے باعث تعلیمی اداروں کا نہ ہوناہے رپورٹ کے مطابق ہر سال جب داخلہ مہم چلائی جاتی ہے تو94فیصد بچے سکولوں میں داخلہ لے لیتے ہیں جبکہ45فیصدبچیاں داخلہ مہم کے دوران بھی سکولوں سے رہ جاتی ہیں اسوقت قبائلی اضلاع میں مجموعی طو رپر صرف تین فیصد طلبہ اعلیٰ تعلیم کےلئے یونیورسٹیوں اور بی ایس کالجزتک پہنچ جاتے ہیں لیکن ان میں بیشتر تعدادلڑکوں کی ہوتی ہے اور لڑکیوں کی تعدادصرف17فیصدتک ہوتی ہے جواعلیٰ تعلیم تک اپنی رسائی کوممکن بناتے ہیں۔مناسب مقامات پر تعلیمی اداروں کے نہ ہونے کے باعث 79فیصدبچیاں پانچویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی سکولوں سے نکل جاتی ہیں ،رپورٹ کے مطابق2010-11ءمیں داخلہ مہم کے دوران قبائلی اضلاع باجوڑ،درہ آدم خیل اور ایف آرڈیرہ میں ایک بھی بچی کو سکول میں داخل نہیں کیاگیاتھا۔

[pullquote]محکمہ صحت کی صورتحال کیاہے۔۔؟[/pullquote]

قبائلی اضلاع میں 30فیصدبنیادی مراکزصحت علاقائی تنازعات ،دہشتگردی اور دیگرمسائل کے باعث بندپڑے ہیں صرف چھ ہزارافرادکےلئے ایک ڈاکٹر تعینات کیاگیاہے لیکن19ہزارافرادکےلئے ایک نرس تعینات کی گئی ہے 23فیصد اسامیاں سرکاری ہسپتالوں میں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں پی اینڈڈی کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بنیادی مراکزصحت میں بنیادی سہولیات نہ کے باعث قبائلی خواتین16کلومیٹرکافاصلہ طے کرکے ہسپتالوں تک پہنچتی ہیں رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ میں سے 275خواتین دوران زچگی مرجاتی ہیں لیکن قبائلی علاقوں میں یہ شرح کئی گنازیادہ ہے اوروہاںایک لاکھ میں سے395خواتین زچگی کے دوران فوت ہوجاتی ہیں اسی طرح بچوں کی اموات کی شرح بھی بندوبستی اورملک کے دیگرحصوں کی نسبت کافی زیادہ ہے ۔

[pullquote]کیاقبائلی علاقوں میں خواتین کووراثت میں حصہ دیاجاتاہے۔۔؟[/pullquote]

خیبرپختونخواحکومت کی تیارکردہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ علاقائی رسم ورواج اورجرگہ نظام کے باعث آج تک کسی بھی خواتین کو قانونی طور پر وراثت میں حق نہیں دیاگیاہے وراثت ہمیشہ مردوں میں تقسیم کی جاتی ہے اور بہنیں ،والدہ اوربیٹیاں اس سے محروم رہ جاتی ہیں 25ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبے کے تمام قوانین کا دائرہ کار قبائلی اضلاع تک بھی پھیلاگیاہے لیکن تین سال ہونے کوہیں آج تک کسی بھی خاتون کو حق وراثت میں حصہ نہیں ملاہے۔رپورٹ کے مطابق30فیصدسے زائدخواتین کی اسامیاں طویل عرصے سے خالی ہیں اسکے علاوہ سماجی شعبے ،بہبودآبادی اوردیگرترقیاتی کاموں بالخصوص تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں بھی خواتین کو نظراندازکیاجاتاہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے