جشن نوروز: گلگت بلتستان تک کیسے آیا

جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیراعظم اور انگریزوں کے خلاف برصغیر کی جدوجہد کے ایک اہم کردار رہے ہیں۔ ان کی پیدائش کشمیرمیں ہوئی اور قومیتی اعتبار سے وہ پنڈت تھے۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری میں کشمیر کے متعلق بتایا ہے کہ کشمیر اس وقت ہم آہنگی کا گڑھ تھا۔ یہاں کے لوگ مسلمانوں کی عید سے لیکر ہندوؤں کی دیوالی سمیت ہر تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور شریک رہتے، لیکن کشمیریوں کی ایک ایسی رسم تھی جو کشمیر سے باہر نہیں منائی جاتی تھی اور خالص کشمیریوں کی رسم تھی اور وہ رسم جشن نوروز کی تھی۔

گلگت بلتستان میں نوروز کا جشن یا رسم 21مارچ کو منائی جاتی ہے، اس کے ارتقائی سفر کے علاوہ یہ رسم استقبال بہار، نہری نظام اور زرعی اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے، گلگت کے قدیم نظام کے مطابق اسی روز نہر کی صفائی کی جاتی ہے، زراعت سے منسلک سرگرمیوں کا بھی آغاز کیا جاتا ہے۔ محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس رسم کا آغاز ایران سے ہوا ہے مگر یہ رسم سفر کرتے ہوئے ایشیاء کے اکثریتی علاقوں، بحیرہ اسود سمیت دیگر علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ رواں سال امریکہ میں پہلی مرتبہ منظم انداز میں آن لائن جشن نوروز بھی منایا گیا ہے جس میں مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوگئے، اس کی ایک وجہ کرونا وائرس کے باعث مشکلات کا بھی ہے۔

اس رسم کو شایان شان اور جوش و جذبے سے منانے کی بنیاد پر اس کو عید سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے جس میں خصوصی تقریبات منعقد کئے جاتے ہیں۔ بچے رنگ برنگے اور عمدہ لباس زیب تن کرکے رشتہ داروں کے گھروں میں جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں انڈے لڑائی جیسے خصوصی کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں۔ اس رسم کی ایک تقریب ڈاڈا ہے جس میں نومولود بچوں کے بال کاٹے جاتے ہیں اور اس کے عوض بچوں کو تحفتاً پیسے بھی دئے جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں جشن نوروز کو مختلف چیزوں سے منسوب کیا جاتا ہے تاہم اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ رسم یا جشن بہار کی آمد کے سلسلے میں منائی جاتی ہے، جب سورج زمین کے خط استوا کو عبور کرتا ہے جس سے دن او ررات کا دورانیہ برابر ہوجاتا ہے۔ ہنزہ کے معروف سکالر فدا علی ایثار اس رسم کے متعلق کہتے ہیں کہ جب ریاست ہنزہ نے بلتستان کے راجہ کے رشتہ داری جوڑی اور بلتستان سے بارات ہنزہ پہنچی تو اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ کر چلی گئی ان نقوش میں ایک نوروز کی روایت بھی ہے۔ فدا علی ایثار کے مطابق یہ رسم ابتدائی طور پر کشمیر سے بلتستان اور پھر بلتستان کے راستے ہنزہ پہنچ گئی ہے۔

گلگت بلتستان میں اس جشن اور رسم کے آغاز کے متعلق فدا علی ایثار نے ایک تقریب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ جشن نوروز کی ابتدا ایران سے ہوئی قدیم ایرانی حکمران شہنشاہ جمشید،جو کہ چوتھی ایرانی اور دوسری فارسی سلطنت کے بادشاہ تھے،نے اپنے نئے سال اور موسم بہار کے آغاز کے مناسبت سے اپنے نئے محل کی تعمیر کی محل کی تعمیرایسی کہ ہیرے جواہرات اور موتی رشک کرنے لگیں اس محل کانام جمشید محل تھا ا س محل کے تعمیر کی خوشی میں جشن نوروز یعنی نیا دن شروع کیا گیا دوسری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ شہنشاہ جمشید یعنی دیومالائی حکمرانوں کے ہی دور میں یہ رسم ایران سے نکل کر توران تک جاپہنچی توران آج کے قازقستان، آئزربائیجان،کازغستان،شمالی پاکستان و دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔

دوسری روایت میں ہے کہ شہنشاہ جمشید کے بادشاہت کے موقع پر انہیں اس وقت کے سائنسدانوں نے اڑان کٹھولا بناکر دیا تھا جب شہنشاہ جمشید پہلی بار اڈان کٹھولا پر سفر کرتے ہوئے اپنے ریاست کے دارالخلافہ سے الشکولا نامی شہر تک ہوائی سفر کے زریعے پہنچے تو تب سے جشن نوروز کا ابتداکردیا گیا الغرض تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ اس رسم کی ابتدائایران سے ہوئی اور دیگر علاقوں میں پھیل گئی۔

اس رسم کے ساتھ اسلام کا بھی تعلق ہے اور وہ یوں کہ جب سلمان فارسی ؓ جوکہ ایران سے تعلق رکھتے تھے نے اسلام سے قبل اس رسم کے روز نبی اکرم ﷺ کو فارسی ڈش پیش کی اور بتایا کہ یہ ہمارے رسم کی ڈش ہے تو نبی ﷺ نے جواب دیا کہ سلمان آپ کا نوروز ہمارا نوروز ہے۔اس حوالے سے بھی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ فتح ایران کے بعد جب شہنشاہ ایران کی بیٹی شہربانو گرفتار ہوئیں اور حضرت امام حسین ؓ کے عقد میں آئی تو اس کے بعد اس رسم کا تعلق باقاعدہ خاندان نبوت سے جڑ گیا۔ مصرکے فاطمی اور بغداد کے عباسی خلفاء بھی اسے منایا کرتے تھےاور گلگت بلتستان بھی جغرافیائی اور ثقافتی طور پر سنٹرل ایشیائکا حصہ ہونے کی وجہ سے صدیوں سے یہ رسم منایاجارہا ہے۔

[pullquote]گلگت بلتستان خارجی طور پر 1یونٹ اور داخلی طور پر 3یونٹوں میں تقسیم تھا۔[/pullquote]

1۔رجاکی
2۔شیناکی
3۔پیراکی

رجاکی کے علاقہ میں بلتستان، استور، ہنزہ، نگر، چترال و دیگر علاقے شامل ہیں رجاکی کے علاقوں میں موروثی حکومت ہواکرتی تھی ماضی قریب میں بھی ہنزہ میر محل میں جشن نوروز کے موقع پر7دن تک قرآن خوانی کی جاتی رہی ہے پولو، نیزابازی، رسا کشی و دیگر کھیل کھیلے جاتے تھے جبکہ شیناکی کے علاقوں میں دیامر اور کوہستان کے علاقے شامل تھے جن میں جاگیردارانہ نظام (جشٹیرو) تھا تاہم یہ رسم ان علاقوں تک نہیں پہنچ سکی۔فدا علی ایثار اس بات پر قائم نظر آتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں یہ رسم کشمیر کے زریعے بلتستان پہنچی اور بلتستان سے ہنزہ پہنچ گئی تاہم وسطی ایشیاء کا مضبوط اثر ہونے کی وجہ سے یہ باقاعدہ جشن او ر عید کی حیثیت اختیار کرگئی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے