چین کے اقتصادی زونز سے رشکئی خصوصی اقتصادی زون تک

چین میں رہتے ہوئے چین کی ترقی کو قریب سے دیکھنے کاموقع مل رہا ہے اس حوالے سے اپنی تحریریں آپ کے ساتھ شئیر کرتا رہتاہوں۔ یہاں ترقی کے لاتعداد ماڈ ل اپنائے گئے ہیں اور ان کی مدد سے خاص طور پر پچھلے چالیس بیالیس سالوں میں بے مثال ترقی حاصل کی گئی ہے۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکاہے۔ خوراک میں خود کفالت حاصل کرچکا ہے۔ بہترین انفرا سٹرکچر سڑکوں، سب ویز، ریل اور ہوائی سفر کی سہولیات سمیت تعمیر کرچکا ہے۔ جس نے چین کے طول و عرض میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ۔ فی کس جی ڈی پی مسلسل کئی سالوں سے دس ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے ۔ انتہائی غربت کا خاتمہ کیا جاچکاہے ۔ چین خلائی تحقیق کے میدان میں مریخ اور چاند پر اپنے مشن بھیج چکاہے۔ تجارتی میدان میں اس وقت یورپی یونین اور امریکہ سمیت کئی ملکوں کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ایک لمبی فہرست ہے چین کی ترقی کے کارناموں کی جن پر بڑی بڑی کتابیں تحریر ہو چکی ہیں۔ آج میں چین کی ترقی کا ایک اور حوالہ آپ کے سامنے رکھ رہاہے اور وہ ہے خصوصی اقتصاد ی زونز ۔

۱۹۷۹ میں چین میں اولین چار خصوصی اقتصادی زونز کا قیام عمل میں لایا گیا ۔شین جن ان میں سے ایک تھا۔

چھبیس اگست سنہ انیس سو اسی کو شین جن خصوصی اقتصادی زون کے قیام کی باضابطہ منظوری دی گئی ۔شین جن خصوصی اقتصادی زون کے قیام سے چین کو بیرونی دنیا سے منسلک کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور ترقی کے نئے سفر کا آغاز ہو ا۔ شین جن اقتصادی زون نے انتہائی تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ سال دو ہزار انیس تک شین جن کی مجموعی جی ڈی پی 26کھرب یوان سے تجاوز کر گئی ، جس میں انیس سو اناسی کے مقابلے میں چودہ ہزار گنا اضافہ ہوا ۔برآمد ات کا کل حجم 29 کھرب یوان سے زائد رہا ، جس میں 25 ہزار گنا اضافہ ہوا ۔ شین جن میں فی کس جی ڈی پی دو لاکھ یوان سے تجاوز کر چکی ہے ، جو تیس ہزار امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہے اور ملک بھر میں سر فہرست ہے۔

شن جن اور دیگر اقتصادی زونز کی کامیابی کے بعد چین نے ۱۹۸۶ میں مزید ۱۴ شہروں اور حینان جزیرے کو اقتصادی زون بنانے کا فیصلہ کیا۔ پھر یہ سفر رکا نہیں ، آگے ہی بڑھتا گیا ۔ اس وقت چین کے طول وعرض میں درجنوں اقتصادی زونز موجود ہیں جو چین کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اب ان زونز کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں اقتصادی ٹیکنالوجی ترقیاتی زونز، فری ٹریڈ زونز، ایکسپورٹ زونز اور ٹیکنالوجی پارکس وغیرہ شامل ہیں۔ان زونز کی وجہ سے چین کی جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے ، بیرونی سر مایہ کاری بڑھی ہے ، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ، اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہوئی ہے۔

اسی ماڈل پر چین پاک اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے تحت پاکستان میں نو خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ رشکئی خصوصی اکنامک زون کو کافی حوصلہ افزا رسپانس مل رہا ہے کیونکہ دو ہزار سے زائد سرمایہ کاروں نے اس زون میں اپنے صنعتی یونٹوں کے قیام کے لئے دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ اس بات کا انکشاف حال ہی میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون سے متعلق پیشرفت کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے تمام دلچسپی لینے والے سرمایہ کاروں کے زون کے اندر اپنے یونٹ کے قیام کیلئے مناسب جگہ مختص کرنے کے لئےدی گئی درخواستوں پر شفاف طریقہ کار کے مطابق کاروائی کی جائے گی ۔

اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا ،اور صوبائی وزیر خزانہ خیبر پختون خوا ،تیمور خان جھگڑا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے سینئر عہدیداران نے شرکت کی ۔

اجلاس کو خصوصی اقتصادی زون پر کام کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ سائٹ پر کیمپ آفس قائم ہوچکا ہے ، جبکہ پہلے صنعتی یونٹ نے زون کے اندر اپنا تعمیراتی کام شروع کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کارکردگی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت پہلے خصوصی اقتصادی زون کے طور پر رشکئی پر پیش رفت کو سراہا۔

اپنے چین کے مشاہدات اور ترقی کے مظاہر دیکھنے کے بعد توقع کرتاہوں کہ رشکئی پاکستان کا شین جن ثابت ہوگا اس سے خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے کامیاب سفر کا آغاز ہوگا۔ ملک کو مضبوط کرنے کیلئے معاشی مضبوطی کلیدی اہمیت کی حامل ہے اور معاشی مضبوطی کیلئے خصوصی اقتصادی زونز بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔امید ہے رشکئی خصو صی اقتصادی زون اس سلسلے میں پہلازینہ اور کامیاب ماڈل ثابت ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے