کیا لائن آف کنٹرول فائر بندی تقسیم جموں کشمیر کی طرف پیش رفت ہے؟

02 فروری 2021 چیف آف آرمی سٹاف پاکستان جنرل قمر جاوید باوجوہ نے پاکستان ائیر فورس اکیڈمی اصغر خان رسالپور میں خطاب کرتے ہوئے کہا یہ وقت ہے تمام اطراف امن کا ہاتھ بڑھایا جائے اُن کے الفاظ تھے:
”It is time to extend hand of peace in all directions”
شدید تناؤ کے ماحول میں جنرل باجوہ کی گفتگو ہندوستان کیلئے ایک پیغام تھا ”آؤ امن کی طرف پیش قدمی کریں“ نتیجتاً 24 اور 25 فروری 2021 کی درمیانی رات دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹنٹ جنرل پرم جیت سنگھ سانگھا اور میجر جنرل نعمان ذکریا کے درمیان ہاٹ لائن پر گفتگو کا ایک اور دور ہوا ، جس کے بعد 2003 کے سیز فائر لائن معاہدے کو بحال کیا گیا۔

فائر بندی معاہدے کےتیسرے روز 28 فروری 2021 کو جماعت اسلامی اور حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما علی گیلانی کی طرف سے لائن آف کنٹرول فائر بندی اور 2003 کے معاہدے کی بحالی کے خلاف ایک خط بعنوان Will the DG MO,s Pact stop bloodshed in Kashmir سامنے آیا۔

سید علی گیلانی کے تحفظات کیا ہیں؟

اپنے خط میں سید علی گیلانی نے سیز فائر کو حیران و پریشان کردینے والا فیصلہ قرار دیتے ہوئے یہ اعتراض کیا کہ ”پاکستان نے بارہا یہ کہا جب تک ہندوستان 5 اگست 2019 کا بل واپس نہیں لیتا تب تک تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے،علی گیلانی کے مطابق یہ فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کا آئینہ دار نہیں ، علی گیلانی نے سوال کیا پاکستان کی ریاستی پالیسی اور موجودہ اقدام (سیز فائر معاہدہ)میں تضاد کیوں؟ علی گیلانی کے خط کے جواب میں پاکستانی پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کا ایک ٹویٹ سوشل میڈیا کی زنیت بنا ، سیز فائر معاہدہ لائن آف کنٹرول پر معصوم جانوں کو بچانے کیلئے کیا گیا ہے کسی کو بھی اسے کشمیر بیچنا(موقف سے دست برداری) یا ہندوتوا کی خدمت نہیں کہنا چاہیے۔
علی گیلانی کے تحفظات کے جواب میں سری نگر سے تعلق رکھنے والے آزادی پسند رہنما اور گنگا ہائی جیک کیس کے ایک کردار ہاشم قریشی کا تبصرہ کچھ یوں تھا۔

"گیلانی یہ چاہتے ہی نہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ریاست کے لوگ امن سے رہیں،لوگوں کو مرتے دیکھنا،ہسپتالوں اور سکولوں کو تباہ ہوتے دیکھنا اُن کا مشغلہ ہے،ہاشم قریشی مزید کہتے ہیں کہ آرٹیکل 35A اور 370 نہ تو کشمیر کو پاکستان کا حصہ بناتا ہے اور نہ ہی یہ آزادی کی راہ دکھاتا ہے اس لئے علی گیلانی سے یہ پوچھا جانا چاہیے ان دونوں آرٹیکلز کو بحال کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ علی گیلانی ان دونوں آرٹیکلز کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں اس طرح وہ اس بات کو فروغ دینا چاہیے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف لوگ مرتے رہیں اور اُن کے گھر اور فصلیں بلاوجہ تباہ ہوتی رہیں اور کیا ایسے بیانات دینے والا شخص خود کو ریاستی باشندوں کا رہنما کہ سکتا ہے”

2003 کے امن معاہدے کی بحالی 17سال میں کیا ہوا؟
جس طرح 24 اور 25 فروری 2021 کی درمیانی شب اچانک لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کر کے 2003 کے معاہدے کو بحال کیا گیا ، اسی طرح نومبر 2003 میں وزیراعظم پاکستان (وقت) ظفراللہ جمالی نے قوم سے خطاب میں ہندوستان کو فائر بندی کی پیشکش کی تھی جس اتفاق کرتے ہوئے معاہدہ ہوا تھا.

4 جنوری 2004 کو واجپائی اور مشرف کی ملاقات ہوئی جس کے نتیجہ میں اپریل 2005 کو منقسم ریاست جموں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان بس سروس اور 21 اکتوبر 2008 کو مال کے بدلے مال کے نظام کے تحت آر پار تجارت شروع ہوئی۔ نومبر 2003 سے قبل جہاں لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں کی تعداد کم وبیش 5000 سے زائد تھیں ، وہاں سال 2001 اورسال 2002 میں اسی شرح سے خلاف ورزیاں ہوئیں مگر معاہدے کے بعد سال2004 میں کنٹرول لائن پر صرف دس خلاف ورزیاں ہوئیں، سال2005میں یہ تعداد پندرہ، سال2006 میں بارہ، سال2007 انتالیس اور سال 2008 میں ایک سو سولہ تک پہنچ گئیں۔

26 نومبر 2008 ممبئی حملہ ہوا اس میں مبینہ طور پر 166 لوگ مارے گے۔ہندوستان نے پاکستان پر الزام لگایا ، یوں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا، ہر دو اطراف سے خلاف ورزیوں کی صورت میں جموں کشمیر کے ہزاروں باشندے لقمہ اجل بنے ۔ نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے 2019 تک وادی اور لائن آف کنٹرول پر 4427 افراد زندگی کی بازی ہارے۔ 26 فروری 2019 کو ہندوستان نے پاکستان کا علاقہ بالاکوٹ ایک فضائی حملے میں نشانا بنایا جس کے جواب میں 27 فروری 2019 کو پاکستان نے اپنے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے سماہنی میں ہندوستانی طیارہ مار گرایا۔جنگی طیارے کا پائلٹ ابی نندن گرفتار ہوا جسے دودن بعد ہندوستان کے حوالے کردیا گیا۔

تناؤ کی اس کیفیت میں ہندوستان نے آئین کی دفعات 370 اور 35 اے میں ترمیم کرتے ہوئے 5اگست 2019 کو اپنے زیرانتظام جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ، جملہ کشمیری قیادت کو نظر بند کر کے انٹر نیٹ ٹیلی فون اور اخبارات پر پابندی لگا دی۔

حکومت پاکستان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ہندوستان سے سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات ختم کردیئے، سفارتی اور سیاسی محاذ پر زور آزمائی کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر بھی فائرنگ میں شدت آگئی۔ پاکستان کے مستند اخبار ڈان کے مطابق 2019 میں 3289 بار سیز فائر لائن کی خلاف ورزی ہوئی دوسرے الفاظ میں ہر روز 9 مرتبہ ۔ سال 2020 میں ہر دو اطراف سے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کا حجم 5000 کا ہندسہ عبور کر گیا۔ 2003 کے معاہدے کے بعد ہندوستان نے اپنے زیر انتظام جموں کشمیر میں 8600 جبکہ پاکستان نے 3000 سے زائد بنکرز تعمیر کیے ۔ 2003 سے 2005 کے درمیان ہندوستان نے لائن آف کنٹرول پر 550 کلومیٹر طویل باڑ تعمیر کی۔

ڈی جی ایم اوز کی سطح پر 2003 کی فائر بندی کے معاہدے کی بحالی کو پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر میں کس طرح دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام جموں وکشمیر کے 14 حلقوں کی کم وبیش 6 لاکھ آبادی ایل او سی فائرنگ کی زد میں ہے۔1988 کے بعد ان علاقوں میں سیکڑوں لوگ مارے گے ۔ موجودہ فائر بندی معاہدے پر جہاں عام آدمی نے خوشی کا اظہار کیا وہاں کچھ مقامی سیاسی رہنماؤں کی طرف سے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا ۔

پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا لائن آف کنٹرول پر فائز بندی اچھی بات ہے ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لوگ مرتے رہیں لیکن اس فائر بندی سے کشمیرکاز کو نقصان نہیں پہنچناچاہیے۔ اس کے پیچھے جو عزائم ہیں وہ خطرناک ہیں گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کیلئے پی ٹی آئی گلگت اسمبلی کے ممبران کی قرارداد لانا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ باالخصوص اقوام متحدہ کی 1957 کی قرار داد جس میں منقسم جموں کشمیر کے کسی بھی حصے کا الگ سے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، جو کچھ سری نگر میں ہورہا ہے کیا امن معاہدے کی بحالی میں اُس کی ضمانت لی گئی؟

مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا لائن آف کنٹرول پر فائر بندی خوش آئند لیکن سرینگر اور گردونواح میں امن ہونا چاہیے ، کشمیریوں پر کوئی حل مسلط نہ کیا جائے سہ فریقی مذاکرات کیے جائیں اور جو بھی تجاویز سامنے آئیں . انہیں جموں کشمیر کے لوگوں کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔

وادی لیپہ سے تعلق رکھنے والے شامی پیرزادہ ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ گولہ باری سے زندگی غیر محفوظ تھی اور تعمیر وترقی کا عمل متاثر تھا ، بارہ بارہ گھنٹے بنکرز میں محصور ہونا پڑتا تھا ، ہم پرامن اور محفوظ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے زیرانتظام جموں وکشمیر کے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر خان نے اس حوالے سے بتایا کہ امن ہم سب کی ضرورت لیکن تقسیم کشمیر کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے، ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کو اعتماد میں لیا جائے،پس پردہ جو عزائم ہیں وہ ہمارے دیرینہ موقف کے برعکس ہیں۔

کیا لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد میں بدل کر مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا؟

ہندوستان پاکستان کشمیر اور امن چار مختلف امور ہیں جنوبی ایشیا کے کل رقبے کا 79 اور آبادی کا 85 فیصد ان خطوں پر مشتمل ہے۔ بھارت بڑی تجارتی منڈی ہے جس کی وجہ سے عالمی برادری کے زیادہ مفادات بھارت سے جڑے ہوئے ہیں، کسی بھی تصادم کی صورت میں وہ مفادات متاثر ہوں گے۔ یوں اندرونی اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے ایک غیر مقبول حل کی طرف بڑھا جا رہا ہے جیسا کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنا کر تقسیم کشمیر کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔

کیا اہل جموں کشمیر کی شمولیت کے بغیر ایسا کوئی بھی حل دیرپا ہوگا ؟ کیا کوئی غیر منصفانہ حل ہندوستان اور پاکستان کی ترقی کیلئے درکار پائیدار امن ممکن بناسکے گا ؟

صحافی دانشور شوکت اقبال کا خیال ہے کہ بامقصد سہ فریقی مذاکرات کے بعد ہی مستقل امن ہوسکتا ہے،جہاں تشدد کی عدم موجودگی کو امن نہیں کہا جاسکتا وہاں نظریہ ضرورت کے تحت بندوقوں کی گھن گرج کو سناٹے میں بدل دینا بھی مستقل امن کی ضمانت نہیں ۔

مظفرآباد میں غیر یقینی فضا کیوں؟
5 اگست 2019 کے ہندوستانی اقدامات کے جواب میں حکومت پاکستان کا ردعمل پاکستان کے اپوزیشن رہنماؤں کا عمران خان پر ریاست جموں کشمیر کے حوالے سے سودابازی کاالزم ،گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی پیش رفت گلگت اسمبلی کی طرف سے صوبائی حیثیت کی قرارداد پیش ہونا، پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم کا اخباری بیان "میں آخری وزیر اعظم ہوں” اور پھر 11 مارچ کو ایک سابق کشمیر رہنما کے ایچ خورشید کی برسی پر یہ کہنا مجھے آزادجموں کشمیر سے لفظ ”آزاد“ ہٹانے کا کہا گیا، سی پیک کے تحت تعمیر ہونے والے ہائیڈل منصوبوں کے حوالے سے بےاختیاری اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی عدم تعیناتی جیسے معاملات کی وجہ سے مظفرآباد یہ سمجھتا ہے کہ اسلام آباد دہلی کی طرز پر گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ اپنے زیر انتظام ”آزادجموں وکشمیر“ کا بھی پاکستان میں ادغام کرنا چاہتا ہے۔

6 مارچ2021 انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے Nirupama Subramanian کے آرٹیکل میں ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے جو لکھا گیا اُس نے مظفرآباد کے خدشات کو مزید تقویت دی۔ سبرامینین کے الفاظ تھے:

"انڈین سکیورٹی اداروں کی طرف سے یہ واضح پیغام ہے 5 اگست 2019 کا بل کسی صورت بھی واپس نہیں لیا جائے گا۔ دہلی اب صرف کشمیر کو ریاستی حیثیت دے سکتا ہے اور پاکستان کے ساتھ ایل او سی پر حدبندی کے مسائل آنے والی نسلوں پر چھوڑیں گے ہیں،جیسا کہ انڈیا چائنہ ایل اے سی پر اختلاف ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے دوسرے تعلقات پر اثر نہیں پڑا۔”

اگر پاکستان جی بی کو پانچواں اور اے جے کے کو چھٹا صوبہ بناتا ہے تو انڈیا شور مچائے گا لیکن اس کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتا، دونوں ممالک کے درمیان تجارت ، ویزا ، تعلیم ، کھیل اور لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری کیا جا سکتا ہے،صورتحال کو بہتر بنانے یا اعتماد بحال کرنے کے لیے بہت زیادہ کوشش نہیں بلکہ انڈیا پاکستان تعلقات ایک نئے موڑ پر لے جانے کیلئے۔

کیا یہ نیا موڑ تقسیم جموں کشمیر پر اتفاق ہے؟

گرچہ ایل او سی پر بندوقوں کی گھن گرج فائر بندی کے معاہدے پھر اُن کی خلاف ورزی گزشتہ 73 سال سے اہل جموں وکشمیر کا مقدر ہے تاہم موجودہ فائر بندی کو تقسیم کشمیر کی طرف پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے.پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر وادی نیلم سے تعلق رکھنے والے عبدالبصیر تاجور کا کہنا ہے ہر دو اطراف سے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ اتفاقِ رائے سے لکھے گے اسکرپٹ کے عین مطابق ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے