بلوچستان کی ترقی مگر کیسے ؟

گزشتہ روز ایک ملکی اور بین الاقوامی تھنک

ٹینک ادارہ ( سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز۔ سی آر ایس ایس) کے زیر اہتمام بلوچستان چپٹر ( بلوچستان کی ترقی مگر کیسے ؟ کے عنوان پر گودار پریس کلب میں ایک سیمینار اور ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں تمام کاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اسٹیک اولڈرز نے اپنی اپنی جماعت اور ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے متعلقہ عنوان پر اپنی روئے دی ، اس ڈائیلاگ کی صدارت میزبان انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز گل اور پروگرام موڈینیٹر معروف صحافی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کی جب کہ مہمان خاص نمائندہ پارلیمانی جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں، ممبر سینیٹ آف پاکستان سینیٹر میر اکرم دشتی تھے۔ سیمینار میں نیشنل پارٹی ، بی این پی مینگل ، بی این پی عوامی ، پی پی پی، پی ایم ایل ن ، جمعیت علما اسلام ، گوادر ماہیگیر اتحاد ، بی ایس او پجار ، آر سی ڈی سی اور دیگر سماجی و سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سی آر ایس ایس کا اس ڈائیلاگ کا بنیادی مقصد پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے تحت بلوچستان اور گودار کے مقامی لوگوں کی عدم شرکت اور تحفظات کو مین اسٹریم میڈیا اور حکومت کو آگاہ کرنا تھا کہ سی پیک کے تحت چلنے والے ترقیاتی اسکیمات کو بلوچ نوجوان کیوں انکا حصہ نہیں بن رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سی آر ایس ایس نے عوامی نمائندوں اور نوجوان و ماہیگیر کے مابین ایک روزہ سیمنار اور ڈائیلاگ کا انعقاد کیا اسی عنوان پہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر اکرم دشتی ، حسین واڈیلا، سعید فیض ، بابو گلاب ، ماہیگیر اتحاد کے سرکردہ نے کہا کہ سی پیک کے تحت بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہاں کے مقامی نوجوان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے سی پیک کے تحت تمام پروجیکٹس سابق دور حکومت میں تمام اسکیمات ، میٹرو ، اورنج لائن موٹر ویز پنجاب اور دیگر صوبے مستفید ہورہے ہیں ،اس میں بلوچستان کو کچھ نہیں مل رہا ، باوجود اسکے سائل وسائل سے مالا مال صوبے کے تمام وسائل پنجاب پہ خرچ ہورہے ہیں۔ ہم روز اوّل سے یہی رونا رو رہے ہیں کہ بلوچستان کی احساس محرومی کا ازالہ کیا جائے مگر اسلام آباد نے ہمیشہ بلوچوں کے تحفظات کو نظرانداز کیا۔

ان مختلف ڈائیلاگ میں ایک دو اہم مسائل مشترک تھی وہ یہ کہ سیکورٹی کے نام پر شہریوں کیساتھ سیکورٹی رویہ مناسب نہیں اور دوسری یہ کہ جو زیادہ تر نوجوان سوچتے ہیں کہ اب تک اس ترقی کو مقامی لوگ قبول( اون) کیوں نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس تمام صورت حال میں ، پالیسی بناتے وقت مقامی لوگوں کی رائے کو ترجیع نہیں دیتے ہیں بلکہ ابھی تک کسی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ سی پیک کے پروجیکٹس کیا ہیں اور بلوچستان اور گودار میں کون کونسی پروجیکٹس چل رہی ہیں ، جب تک لوگوں کو ترقی یا سی پیک کے متعلق ( لٹریٹ) نہیں کریں گے تو عامی ماہیگر کو کیا علم ہوگا کہ اس ترقی میں میں میری بھی زندگی میں تبدیلیاں آئیں گی۔ مقامی نوجوان یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے نام پہ چائینا گورنمنٹ کی طرف سے بلوچستان کے طلبا و طالبا ت کے لیے اسکالرشپس تھے، اُس پہ تو بلوچستان سے باہر کے لوگ جا چکے ہیں۔ میں نہیں سمجتھا کہ یہ مسائل ناقابل حل ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو سُنا جائے اُنکو تعلیم اور ٹیکنیکل میدان میں انکی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں ترقی کے میدان میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ٹرین کئے جائیں، مختلف ویکشنل ٹرینئگ سنٹرز قائم کئے جائیں اور انکے لیے باہر پڑھنے کے لیے اسکارشپ کے مواقع پیدا کئے جائیں ۔

مقامی ماہیگیروں کے مطابق اسوقت پورے گوادر ضلع میں 13ہزار کے قریب کشتیاں ہیں اور 3500 کشتیاں گودار کے مقامی ماہیگیروں کے اور فی کشتی میں 6 سے 9 بندے کام ہیں ان سب کی گزر بسر اسی سمندر پہ انحصار کرتی ہے ، وہ کہہ کہ انکی آنکھیں بھی نم ہوجاتی ہیں ،ابھی تک ہم اپنے دادا ،اور پردادا کے سو گز کی چاردیوری کے اندر رہ رہے ہیں اور آج تک ہم اس قابل نہیں ہوئے ہیں کہ اپنے لیے کوئی زمین خرید سکیں اور نا ہی ہم اپنے بچوں کو تعلیم دے سکتے ہیں کیونکہ جب ہمارے بچے بالغ ہوجاتے ہیں، اس مہنگائی کے دور میں ہم مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے بچوں کو اپنے ساتھ سمندر اسی ماہیگری میں مصروف کرتے ہیں ،انکی تعلیم کے اخراجات ہم برداشت نہیں کر پاتے ہیں ، ہمارے لیے کتنا تکلیف دہ کی بات ہوگی کہ ہمارے بچوں کو معاشرے میں کوئی طنزا ّٗ کہا جاتا ہے کہ یہ ماہیگیر( مید) کا بیٹا ہے ۔ ہمارے لیے کتنی تکلیف دہ لمحہ ہوگا کہ اپنے بچوں کی ہاتھ تھام کر بجائے سکول میں داخل کروانے کے ہم انہیں اپنے ساتھ سمندر لیکر انکو یہ کہیں گے کہ یہی تمارا مسقبل ہے ۔ اور یہاں ماہیگیروں کے بچوں کے لیے کوئی اسکالرشپس نہیں اس حوالے سے نہ آج تک حکومت وقت نے ترجیع دی ہے اور نا ہی چائینا گورنمنٹ نے ، ماہیگروں کی کالونی کی بات کئی سالوں سے ہم سُنتے آرہے ہیں مگر آج تک اس پہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ غیر قانونی طور پر ٹرلرنگ سے یہاں کہ مچھلی کی افزائش نسل ختم ہوتا جارہا ہے اس کی روک تھام کے لیے ابھی تک عملی طور پر کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے