ماحولیات سے متعلق سربراہی کانفرنس میں چین کی مضبوط آوز

اس وقت پوری دنیا کوموسمیاتی تبدیلی کا چیلنج درپیش ہے، آب و ہوا میں غیر متوقع تبدیلی واقع ہورہی ہے ۔آتے جاتے موسموں کے دورانیے اور شدت میں تبدیلی آرہی ہے۔ کبھی لمبے عرصے تک خشک سالی ہوجاتی ہے تو کبھی بارشوں کاسلسلہ نہیں رکتا۔ گلیشیرز تیزی سے پگل رہے ہیں، اوزون کی تہہ متاثر ہورہی ہے قدرتی آفات میں اضافہ ہورہاہے گلوبل وارمنگ کاسلسلہ جاری ہے۔حالیہ برسوں میں ، سائنس دانوں نے آب و ہوا میں بدترین اثرات کو روکنے کے لئے کرہ ارض کی گرمی کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ان سب کے انسانی زندگی اورقدرتی حیات پرغیر معمولی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اور گزرتے وقت کے ساتھ ان اثرات میں شدت آرہی ہے ۔عالمی محکمہ موسمیات کی تنظیم نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2020 اب تک ریکارڈ کئے تین گرم ترین سالوں میں سے ایک ہے۔ موجودہ نوول کرونا وائرس کی وبا، سیلابوں، خشک سالی اور طوفانوں جیسی موسمیاتی تباہ کاریوں نے 50 ملین سے زائد لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ اس تناظر میں ماحولیات سے متعلق سربراہی کانفرنس کی اہمیت اور بھی زیادہ تھی ۔

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں کچھ عرصے سے عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے اس حوالے سے ہونے والی عالمی کوششوں میں کمی آئی تھی خاص طور پر امریکہ کے پیرس معاہدے سے نکلنے کے بعد ان کوششوں کو بڑا دھچکا لگاتھا۔ تاہم اب امریکہ نے اس معاہدے میں واپس آچکا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے سربراہ ورچوئل کانفرنس بائیس اور تئیس اپریل کو منعقد ہوئی جس میں عالمی رہنماوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے اپنے تصورات ، لائحہ عمل اور اور اقدامات پر روشنی ڈالی اور کرہ ارض کے ماحول کوصحت مند رکھنے کیلئے تجاویز پیش کیں۔

ماحولیاتی تحفظ کیلئے اور کرہ ارض کو سبز اور حیات دوست بنانے کیلئے چین نہ صرف بھر پور اقدامات اٹھا رہا ہے بلکہ واضح سوچ اور لائحہ عمل بھی رکھتاہے۔ بائیس ستمبر 2020 کو ، چینی صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 75 ویں جنرل اسمبلی کے عام مباحثے میں اعلان کیا کہ چین 2030 تک پی سی ڈی ای یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے عروج کو پہنچنے اور 2060 تک سی این یعنی کاربن نیوٹرل کا ہدف پورا کرے گا چین نے اپنے ان اہداف کے تعاقب میں ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔چین نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے نہ صرف ملک کے اندر بارآور کوششیں کی ہیں بلکہ عالمی سطح پربھی اس حوالے سے قائدانہ کرادر ادا کررہا ہے۔

چین نے موسمیاتی تبدیلی کی سمٹ میں بھر پور شرکت کی ۔

چینی صدر شی جن پھنگ کا بائیس اپریل کو ماحولیات سے متعلق سربراہی کانفرنس سے ویڈیو خطاب انتہائی اہم تھا جس میں کئی حوالوں سے اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے نہ صرف چین کے اقدامات اور عزم کا اظہار کیا گیا بلکہ اقوام عالم کیلئے رہنمائی کا بہترین فارمو لا بھی پیش کیا ہے ۔شی جن پھنگ نے کہا کہ تمام ممالک ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے کثیر الجہتی کی راہ پر گامزن رہیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نےمتعدد تجاویز پیش کیں،جن میں کاربن اخراج میں کمی کے لئے مختلف علاقوں اور صنعتوں کی حمایت کرنا، آئندہ پانچ برس میں کوئلے کی کھپت میں کمی اور آن لائن قومی کاربن مارکیٹ متعارف کروانا شامل ہیں۔ چین کے پاس آب و ہوا کی بہتری کے حوالے سے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے واضح "روڈ میپ” موجود ہے۔ چین نے ایک ذمہ دار انہ بڑے ملک کی حیثیت سے ، دنیا کی ماحولیات کی حفاظت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حوالے سے رہنمائی کی ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران ، آب و ہوا کی تبدیلی کے بارے میں عالمی رد عمل کئی راستوں سے گزرا ہے۔

جناب شی جن پھنگ نے ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ عزم کا مظاہرہ کریں اور عملی اقدامات اختیار کریں۔ انہوں نے اس حوالےسے ترقی پزیر ممالک کی مدد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ حیاتیاتی ماحول تمام ممالک کے لوگوں کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ ہمیں لوگوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے ، اچھے ماحول سے متعلق ان کی توقعات کو پورا کرنے ، اور آنے والی نسلوں کےلیے تحفظ کو یقینی بنانے کو ذہن میں رکھنا چاہئے اورماحولیاتی تحفظ ،معاشی ترقی اور روز گار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت کے خاتمے کے لئے موئثر اقدامات اختیار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سبز تبدیلی کے عمل میں، ہم معاشرتی عدل اور انصاف کے حصول کے لئے کوشاں رہیں گے اور تمام ممالک کے لوگوں میں کامیابی ، خوشی اور سلامتی کے احساس میں اضافہ کریں گے۔

انسانیت کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کہ نہیں۔ چین فطرت اور انسان کے اتحاد کےقدیم چینی تصور تصور کی روشنی میں ماحولیاتی تہذیب کی تشکیل کے لیے اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ تمام ممالک اکٹھے ہوکر کرہ ارض کو ٹھنڈا کرنے کے لئے حقیقی کوششیں کریں۔ جیسا کہ سربراہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے کہا: "ہمیں سبز سیارے کی ضرورت ہے۔ لیکن دنیا ریڈ الرٹ پر ہے۔ ہم گھاٹی کے کنارے پر ہیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اگلا قدم صحیح سمت میں ہے۔

اور صحیح سمت معمول کے ڈگر پر چلنے میں نہیں ہے۔ اور نہ ہی سرمایے کے پیمانے پر سبز ترقی کو جانچنے میں ہے ۔ یہ اجلاس نومبر میں گلاسکو میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے