سندھ: سرکاری دفاتر، تمام تعلیمی ادارے اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ

کراچی: سندھ میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اہم فیصلے کرلیے گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت صوبائی کورونا وائرس ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں سرکاری دفاتر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہےکہ سیکرٹریز اپناضروری اسٹاف دفاتر میں بلائیں گے اور باقی تمام اسٹاف گھروں سے کام کرے گا۔

ریسٹورینٹس میں اندر اور باہر ڈائننگ بند
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہےکہ صوبے میں ریسٹورینٹس میں اندر اور باہر ڈائننگ بند کی جائے گی تاہم ٹیک اوے اور ڈلیوری کھلی رہیں گی جب کہ شاپنگ سینٹرز شام 6 بجے کے بعد بند کیے جائیں گے تاہم کورونا کیسز مزید بڑھے تو مارکیٹیں مکمل بند کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ جیلوں میں ملاقاتیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ دفاتر میں پبلک ڈیلنگ پرپابندی عائد کردی گئی ہے اور دفاتر کے اوقات صبح 9 سے دوپہر 2 تک ہوں گے، اسپتال تمام پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔

کورونا کیسز مزید بڑھے تو مارکیٹیں مکمل بند کی جائیں گی: فیصلہ
دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ کورونا کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، اگر عوام ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو حکومت کے پاس سخت ایکشن لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اجلاس میں 29 اپریل سے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم : گڈز ٹرانسپورٹ اور صنعیتں ایس او پیز کے ساتھ کھلی رہیں گی۔

مرتضیٰ وہاب نےکہا کہ سندھ بھر میں 29 اپریل سے انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ صوبے میں تمام کالجز، اسکولز اور یونیورسٹیز کورونا کی تیزی سے پھیلتی لہر کے باعث بند رہیں گی جب کہ دفاتر میں 20 فیصد ضروری عملے کو بلایا جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے