موت ایک پتنگے کی

ان دنوں مختلف اقسام کے موسمی بھونرے فضا میں ہر طرف اُڑتے دکھائی دیتے ہیں لیکن انہیں صحیح معنوں میں پتنگا شمار کرنا مناسب نہیں۔ وجہ یہ کہ اس قسم کے بھونرے خزاں کی اندھیری راتوں اور بکسنی ہوئی عشق پیچاں کی شاخوں کا وہ خوشگوار اور طرب افزاتاثر پیدا نہیں کرتے جو کپڑوں کی پھولوں بھری اوٹ میں چھپا ہوا بسنتی پروں والا ایک عام ساپتنگا پیدا کر دیتا ہے۔ بھونرا تو موسمی مخلوق ہے جو نہ تو پتنگے کی طرح اداس ہے اور نہ تتلی کی طرح مسرور ! بایں ہمہ میں جس پتنگے کی بات اب کر رہی ہوں اس کا رنگ گھسیالا تھا۔ اس کے جسم کے ساتھ چھوٹے چھوٹے خوبصورت پر بھنچے ہوئے تھے اور ان پروں کے ساتھ گھانس رنگ کی سبز خوش وضع جھالریں بھی آویزاں تھیں۔یہ پتنگا میرے سامنے والی کھڑکی کے ایک شیشے کے ساتھ لگا ہوا تھا اور موجوداتِ حیات پر مطمئن نظر آتا تھا۔ وسط ستمبر کی اس شفیق، حلیم اور خوشگوار صبح کو میں اپنی میز پر بیٹھا کام کر رہا تھا۔ موسمِ گرما کی حدت اب ختم ہو چکی تھی اور فضا میں معطر خنکی سی پھیل گئی تھی۔ سامنے کھیت میںایک کسان ہل چلا رہا تھا۔ ہل کا پھالا زمین میں اترتا تو مٹی دب جاتی اور اس کے اندر کا نم سورج کی کرنوں میں چمکنے لگتا۔ زمین کتنی جگ پال تھی۔ کسان کی محنت کو سرفراز کرنے کے لیے اس نے اپنا سینہ ہل کی اَنی کے سامنے رکھ دیا تھا۔ خیال کی اس پرواز نے میرے تن بدن میں ایک عجیب سا تحرک پیدا کر دیا۔ کتاب میرے سامنے کھلی پڑی تھی۔ لیکن میں اس پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر تھا۔ میں نے زمین سے نظر ہٹا کر آسمان کی طرف دیکھا، آسمان کی بسیط فضائوں میں ہزاروں سیاہ رنگ پرند محوِ پرواز تھے، ا رے! یہ تو کائیں کائیں کرنے اور بچوں کی روٹی اڑالے جانے والے ندیدے کوے تھے۔ لیکن آج ان پر سر شاری کی ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی اور وہ سب ہم آواز ہو کر موسیقی کا ایک لمبا لہرا اُٹھا رہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے جشنِ عید منا رہے ہوں۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ کوے نہیں تھے بلکہ درختوں کی پھننگوں پر پھیلا ہوا ایک طویل و عریض جال تھا جس میں ہزاروں سیاہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور گرہوں سمیت یہ جال فضا میں مسلسل گردش کر رہا تھا۔ چند لمحے بعد یہ جال کسی بڑے درخت کو اوڑھ لیتا تو یوں لگتا جیسے درخت کی ہر شاخ میں ایک کالی سی گانٹھ پڑ گئی ہو۔ پھر اچانک غول چیختا، چلاتا اور شور مچاتا ہوا آسمان کی طرف اڑ جاتا اور آہستہ آہستہ ایک بڑے خوش شکل دائرے کی صورت اختیار کر لیتا۔کوئوں کے اس جال کا فضا میں پھیلنا اور پھر اچانک درخت میں سمٹنا… قبض و بسط کا ایک ایسا پُر لطف نظارہ تھا جس کی مسرت کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ منظر تو آنکھوں کے راستے خود بخود دل میں اتر جانے والا منظر تھا۔ اس دل کش کیفیت میں میری نظر کھڑکی کے شیشے کے ساتھ اٹکے ہوئے گھس رنگے پتنگے میں اٹک گئی۔ اخاہ ! آفت کا یہ پرکالہ اب شیشے کی شفاف اور لچکدار سطح کے ساتھ محوِ حرام تھا۔ اور ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف وتری سمت میں چکر لگا رہا تھا۔ پتنگا اپنی تمام تر داخلی قوت سے سرشار تھا اور اس قوت کو بروئے کار لا کر ایک بڑی مہم کو سر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ طاقت جو کوئوں کو اڑنے، گھوڑوں کو دوڑنے اور کسان کو ہل چلانے کے لیے فعال اور متحرک رکھتی ہے وہی طاقت اب اس حقیر سے پتنگے کے جسم میں بھی سرایت کر گئی تھی اور وہ شیشے کو پار کر نے کے لیے ایک ایسی مہم پر نکل کھڑا ہوا تھا جسے سرکرنا ممکن نہ تھا لیکن پتنگ نے اپنی ناتوانی کا احساس کیے بغیر اس بڑے چیلنج کو قبول کر لیا تھا۔ میرے دل میں ہمدردی کا طُرفہ جذبہ بیدار ہوا۔ میں اسے مہم آرائی سے تو نہ روک سکا لیکن اپنے جذبہ تجسس کو آسودگی فراہم کرنے کے لیے اسے مزید انہماک سے دیکھنے لگا۔ اس روز اکتسابِ مسرت کے ممکنات اتنے فراواں اور متنوع تھے کہ مجھے زندگی کے عمل میں اس پتنگے کی موجودگی بھی با معنی نظر آنے لگی۔ پتنگے کی مشقت آزما جدوجہد اس کی پوری زندگی کا مشکل ترین عمل نظر آتا تھا لیکن جس والہانہ سر خوشی، استقلال اور ولولے سے وہ محدود امکانات سے مسرت کا آخری قطرہ تک نچوڑنے میں مصروف تھا وہ بذات خود جذبات انگیز اور روح پرور منظر تھا۔ پتنگا جوش اور سر گرمی سے شیشے کے ایک کونے کی طرف لپکتا،وہاں ایک لمحے کے لیے رُکتا، پھر پہلے سے بھی زیادہ وارفتگی کے ساتھ دوسرے کونے میں جا بیٹھتا۔ اس نے شیشے کے دو کھونٹوں کا سفر نپٹا ڈالا تھا اور ان کا مشاہدہ بچشمِ خود کر لیا تھا۔ اب تیسرا یا چوتھا کھونٹا ہی دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔ اور وہ اس میں ہمہ تن مصروف تھا۔ اسے دنیا و مافیہا کی کچھ خبر نہیں تھی۔ حالانکہ سامنے طویل و عریض پہنائیاں، آیٔمان کی بے کراں وسعتیں، حدِ نظر تک پھیلے ہوئے مکانات اور ان سے اُٹھتا ہوا بل دار دھواں اور سمندر کی جانب سے جہازوں کی اِکادُکا سیٹیاں، سب فضا کی میکا نکی یکسانیت کو توڑنے میں معاونت کر رہی تھیں اور ان میں ایک خاص نوع کی جاذبیت بھی تھی۔ لیکن پتنگے کو توتن بدن کا ہوش نہیں تھا۔ اسے ان میں سے کسی کے ساتھ بھی کچھ واسطہ نہیں تھا، اس کا تو ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح شیشے سے پار ہو جائے، مقصد میں اس کی والہانہ شیفتگی کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ زندگی نے پتنگے کو عزم و عمل کے ایک بے حد باریک تار کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ اور اس وقت دنیا کی تمام قوت، حوصلہ اور استقلال اس کے جسم ناتواں میں مجتمع کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ اس نے جتنی مرتبہ بھی شیشے کا میدان عبور کیا اتنی مرتبہ ہی وہ مجھے حقیقی زندگی کا سرچشمہ نظر آیا۔

بشکریہ:روزنامہ دنیا (ڈائجسٹ)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے