پندرہواں ترمیمی بل،قائمقام چیف جسٹسز اور آزادکشمیر حکومت کا طرزعمل

اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے کئی دن پہلے آزاد کشمیر کے اخباروں میں تلخ و خوشگوار تین خبریں دیکھیں – جن میں آئین میں پندرہویں ترمیم کا مسودہ ، صدر ریاست اور قائمقام چیف جسٹس کی ملاقات کی تصویر اور”نا معلوم” حکومتی ترجمان کا اعلی عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں ایک وضاحتی بیان تھا –

آئین کسی بھی ملک کی وہ بنیادی دستاویز ہوتی ہے جس کے تحت ساری ریاست کے ادا روں کی تشکیل اور اختیارات کا تئعین ہوتا ہے – “ پندرہویں “انوکھے “ آئینی ترمیمی بل کے زریعہ اعلی عدلیہ میں تقرریوں کے بنیادی ڈھانچہ کو دو ماہ کے لئے معطل کر کے حکومت اپنی صوابدید پر ججز کی تقرری کا اختیار لینا چاھتی تھی جو وزیر اعظم پاکستان کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتے – – اس کے بعد آئین کا یہ بنیادی ڈھانچہ پھر بحال ہوجاتا –
یہ ایسا ہی مذاق ہے جو کچھ عام قوانیں یا قواعد کو معطل کر کے حکو مت کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کا اختیار دیتا ہے جو بد انتظامی اور نا انصافی کی بنیاد کا باعث بنتا ہے – آئین کی اس دو ماہ کی معطلی کی سزا آزاد کشمیر کے عوام کو اس وقت تک بھگتنی پڑتی جب تک اس کے تحت تعینات ہونے والے ججز عدلیہ میں موجود رہتے اور متنازعہ ہی رہتے – یہ ججز جب تک رہتے تب تک ان کے خلاف بھی تحریک چلتی رہتی – آنے والے الیکشن میں اگر کسی اور جماعت کی حکومت بنتی تو اس ترمیم کے تحت تعینات کئے جانے والے ججز کو نئی آئینی ترمیم کے تحت فارغ کر دیتے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا – یہ آئین سے کھلواڑ تھا ، آئینی ترمیم نہیں – اس سے ممکن ہے حکومت سیاسی یا جماعتی فائیدہ لینا چاھتی ہو، اس میں ریاست ، ریاستی آئین اور اداروں کا کوئ فائدہ نہ تھا –

امریکہ کا آئین 1787 میں نافذ ہوا تھا اور آج تک اس میں صرف 27 ترامیم ہوئ ہیں – ججوں کی تقرری کا طریقہ اس وقت مقرر ہوا تھا آج تک نہیں بدلا ہے – یہی صورتحال ہندوستان میں بھی ہے – پاکستان میں ججوں کی تقرری کے بنیادی ڈھانچے کو وسیع البنیاد بہتری کے لئے بد لا گیا ہے ، ختم نہیں کیا گیا –
اگر تو مجوزہ پندرہویں ترمیم میں تقرری میں بہتری کے لئے ہوتی جیسے وسیع البنیاد جوڈیشل سلیکشن بورڈ بنایا جاتا یا ان کی تقریوں کے لئے کوئ مقابلے کا امتحان بنیاد بنایا جاتا تو قابل قبول ہوتا – اگر اس ترمیم کے زریعہ یہ اختیار سلیکشن بورڈ بنا کے حکومت پاکستان کا رول بلکل ختم یا غیر موثر بھی بنا دیا جات پھر بھی قابل قبول ہوتا ، وگرنہ یہ آئین کی روح کے منافی اور فتنے کی بد ترین بنیاد بن جاتی –

اچھا ہوا کہ یہ بل پیش نہ ہوا ، وگرنہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے 5 اگست 2019 کے عمل سے زیادہ بد ترین رد عمل کا اندیشہ تھا جس میں سب کی بد نامی اور سبکی ہوتی – لیکن یہ حکومت پاکستان کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنی زمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئ ہے جس کی وجہ سے یہ انتہائ قدم اٹھا نا پڑا –

میں پھر اپنی بار بار کہی جانے والی بات دہراؤں گا کہ پاکستان حکومت کے ساتھ پاکستان کے آئین میں تعلقات کی نوعیت کا تعین کیا جائے ورنہ پڑھے لکھے لوگ پاکستان سے دور ہو جائیگے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوگی ہمارے ووٹ کے بغیر بننے والی پاکستانی حکومت کو آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان میں حکومت کرنے کا حق کہاں سے ملتا ہے اور جو ملا ہے اس کا غلط استمعال کیوں ہوتا ہے جس کے نتائج کی جواب دہ بھی آزاد کشمیر حکومت ہوتی ؟ – یہ UN کی قرار دادوں کی بھی نفعی ہے جس کا سب سے زیادہ ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے –

گذشتہ ایک سال سے چیف جسٹس آزاد کشمیر اور چیف جسٹس ہائی کورٹ کی تقرریاں التوا میں پڑی ہیں اور دونوں اعلی عدالتوں میں سینئیر ترین جج بطور قائمقام چیف جسٹس کام کررہے ہیں – ہائی کورٹ کے ایک ایکٹنگ چیف جسٹس ریٹائر ہوگئے اور ان کی پنشن بھی تنازعہ کا شکار ہوگئ ہے ، جیسا کہ ان کے فیصلہ سے جسٹس علوی کی پنشن متنازعہ بنا دی گئ ہے – دوسرے اللہ کو پیارے ہو گئے اور اس وقت تیسرے بطور قائمقام کام کررہے ہیں – قائمقام چیف جسٹس سوائے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کی سفارشات کے ،وہ سارے اختیارات استمعال کر سکتے ہیں جو مستقل ہونے کے بھی وہی کچھ کر نے کا اختیار رکھتے ہیں –

جناب صدر نے سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی سینئیر ترین جج کی بطور چیف جسٹس تقرری کے لئے معاملہ چئیر مین کشمیر کونسل کو ایڈوائس کے لئے بھیج دیا تھا اور تحت آئین سینئیر ترین جج کی تقرری بھی بطور ایکٹنگ چیف جسٹس آزاد کشمیر حکومت نے عمل میں لائی تھی ، لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے چئیرمین کشمیر کونسل نے ایڈوائس جاری نہیں کی –

اسی دوران قائمقام چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کی تقرری کو کالعدم قرار دیا جو بقول راوی ، آزاد کشمیر کے ارباب و اختیار کو گراں گذرا – اس کے فورآ بعد صدر صاحب نے وزیراعظم کے کہنے پر چئیرمین کونسل کو اپنی سابق سفارش واپس لینے کے لئے دوسرا مراسلہ ارسال کیا اور شنید ہے کہ سینئیر جج کے بجائے کسی اور کی بطور چیف جسٹس تقرری کی سفارش کی – دونوں مراسلے چئیر مین کے پاس طاق نسیاں کا شکار ہو گئے ہیں –

اس وقت آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ صرف ایک ایک جج پر مشتمل ہیں جو بطور قائمقام چیف جسٹس بھی کام کرتے ہیں – اسطرح سپریم کورٹ کی چیف جسٹس سمیت دو اسامیاں اور ہائ کورٹ کے چیف جسٹس سمیٹ آٹھ اسامیاں خالی پڑی ہیں –

آزاد کشمیر کی وکلاء برادری حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کی آئینی زمہ داری پوری نہ کرنے کے اس غیر ذمہ دارانہ حرکت اور انحراف پر سیخ پا ہونے پہ حق بجانب ہے – آزاد کشمیر کو اس وقت حکومت پاکستان نے اس کی حیثیت کے بجائے ، انتہائی پست ترین مقام پر پہنچا دیا ہے، جس کی مرکز میں کوئی شنوائی اور حیثیت نہیں ہے -اسی وجہ سے حکومت آزاد کشمیر نے آئین میں ترمیم کرکے ججز کی تقرری کا اختیار حکومت پاکستان (چئیرمین کشمیر کونسل ) سے واپس لینے کا “ دنیا کی آئینی تاریخ کا انوکھا ترین “بل بھی کیبنٹ سے منظور کراکر اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے اجلاس بھی بلا لیا تھا ، لیکن راتو رات اسی طرح صورت حال بدل گئ جیسے آزاد کشمیر میں ڈرامائ طور بدلتی ہے – بقول شاعر؛

دیکھنے ہم بھی گئے تھے مگر تماشا نہ ہوا

چند دن پہلے صدر صاحب کے ساتھ قائمقام چیف جسٹس کی ملاقات اور تصویر دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برف پگلنے لگی ہے – ریاست کے دو بڑے عہدے داروں کی اس پس منظر میں ملاقات بہت خوش آئیند ہے – یقین کرنا چاہیے کہ صدر صاحب کو اس بات کا احساس ہو گیا ہو گا کہ اگر ان کی آئینی سفا رش پر عمل نہیں ہوا تو ان کے غیر آئینی مراسلے پر کیسے ہو سکتا ہے – وہ سربراہ ریاست ہیں اور سربراہ کی حیثیت سے ان کی نظر اور ظرف کی حد آسمان ہونا چاہیے – امید ہے دونوں بڑے ، بڑا بن کے دکھائیں گے –

مناسب ہے کہ وہ چیف جسٹس آزاد کشمیر کی تقرری معروف آئینی روایات اور تقاضوں کے مطابق کرواکر اعلی عدلیہ میں باقی تقرریوں کا اھتمام کریں – یہ ان کے اور ریاست کے مفاد میں ہے – کسی منظور نظر کی غیر روایتی طریقے سے تقرری سے حکومت اور اس کی بدنامی کے علاوہ اس کی بر طرفی بھی غیر روایتی طور ہوسکتی ہے جیسے اس سے پہلے ہو چکی ہے – اب خدارا حکومت اور جج حضرات صراط المستقیم اور برداشت کا مادہ اپنائیں –

کسی نامعلوم حکومتی نمائندے نے ایک بیان کے ذریعہ اخباروں میں شائع ہونے والی ایک خبر کی تردید کی ہے کہ حکومت نے صدر ریاست کو اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے لئے کوئی سفارش بھیجی ہے جبکہ ججز کی تقرری میں وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں ہے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ واضع آئینی صورت حال کے مطابق تقرریاں ہوںگی – یہ دونوں خبریں خوش آئیند ہیں – امید ہے کہ آئین کی روح کے مطابق ہی عمل ہو گا –

حکومتی ترجمان کی بیان کا ایک حصہ نہایت ہی نا خوشگوار تھا جسے پڑھ کے تعجب ہوا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو ججوں کی تقرری میں کوئی اختیار نہیں ہے- وزیراعظم ریاست کے منتظم اعلیٰ ہیں اور صدر ریاست اپنی زمہ داریوں کی بجا آوری میں آئین کی دفعہ 7 کے تحت اس کے پابند ہیں – رولز آف بزنس کے شیڈول ii کے قاعدہ 19 (c) کے تحت ججز کی تقرری کی ایڈوائس کے لئے صدر ریاست کو تجاویز بنا کر بھیجنا سیکریٹیریٹ قانون کی ذمہ داری ہے جو وزیر اعظم کا ماتحت ادارہ ہے –

اس آئینی اور قانونی ذمہ دا ری سے آزاد کشمیر کے وزرائے اعظم نے اس وقت سے پہلو تہی کرنا شروع کی جب سے انہوں نے وزیر اعظم بننے کے لئے اوپر سے نازل کردہ شخص کو صدر بنانے کی روایت ڈالی ، اس سلسلے کا پہلا نزول “ جنرل محمد انور خان “ تھے – اس وجہ سے آزاد کشمیر کی عدلیہ زوال کا شکار ہوگئ ہے اور بے ربط تقرریاں ، ( بلخصوص چیف جسٹس کی )ہونے لگیں – سردار انور خان صاحب اور ان کے بعد راجہ زوالقرنین صاحب نے سینئر موسٹ ججز کے بجائے جونئیرز کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کرواکر عدلیہ کی چولیں ہلا دیں –

واضع آئینی پوزیشن، روایات اور عدالتی نظائر کے ہوتے ہوئے غیر روایتی اور غیر آئینی عمل نہ صرف عدلیہ کی بلکہ ریاست کی بیخ کنی کا باعث بنے گا – کتنا ہی اچھا ہوگا اگر یہ آئینی طریقہ کار پورا کرکے وزیراعظم آزاد کشمیر خود وزیراعظم پاکستان کو مل کر چیف جسٹس آزاد کشمیر کی تقرری کی ایڈوائس حاصل کریں – اس سے وہ ساری دھول چھٹ جائیگی جو اس عرصہ کے دوران چھائی ہے –

عدلیہ سے متعلق کونسل کی ایڈوائس کے بغیر بھی دو کیسز حکومت آزاد کشمیر کے اختیارات اور ذمہ داریاں پوری کرنے کے متقاضی ہیں – ایک آفتاب علوی صاحب اور دوسرا اظہر سلیم بابر صاحب کی پنشن کا ہے –

آفتاب علوی صاحب کو عدلیہ نے برطرف کیا ( جس پر میں بہت پہلے اپنے تحفظات کا بھر پور اظہار کر چکا ہوں) لیکن دونوں بڑی عدالتوں نے ان کی پنشن روکنے کا کوئی حکم نہیں دیاہے – وہ چھ سال جج اور لگ بھگ تین سال چیف جسٹس ہائی کورٹ رہ چکے ہیں – جس وقت وہ برطرف کئے گئے وہ پنشن حاصل کرنے کی مدت کا حامل عرصہ مکمل کر چکے تھے – چاہیے تو یہ تھا کہ ہائی کورٹ رواداری اور مروت نہ سہی ، قانونی اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ان کی پنشن اور دیگر مراعات کے لئے حکومت کو لکھتا – اگر ہائی کورٹ نے نہیں لکھا تو یہ انتظامی معاملہ تھا ، حکومت خود ان کی پنشن اور مراعات کا کیس مکمل کر کے اپنی ذمہ داری اور ایک ادارے کے سربراہ کی توقیر کرتی جس میں اس کی اپنی توقیر تھی اور ہے –

سال بھر سے زیادہ گذر گیا ہے کسی کے کان پر جوں تک نہیں ریںگی کہ اتنی طویل مدت جج اور چیف جسٹس رہنے، اس کی سفارش پر جج بنے ، کئی ہزار فیصلے کرنے والا شخص کس حال میں ہے – جس طرح De facto Doctrine کے تحت ان کے قانونی اقدامات کو تحفظ حاصل ہے ، اسی طرح ماقبل کے Accrued قانونی حقوق کو بھی تحفظ حاصل ہے – پاکستان میں ان تمام ججز کو پنشن دی گئ جو pco ججز قرار دے کر نکالے گئے تھے – حقیقت سے اغماز برتنے سے حقیقت ختم نہیں ہو جاتی نہ ہی اس کے نتائج روکے جا سکتے ہیں- حکومت اور ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینی چاھئے – صدر اور وزیراعظم حفظ مراتب میں نمبر ایک اور دو پہ آتے ہیں ان کو عملی طور ایسا کر کے دکھانا چاہیے –

بحیثیت مسلمان میرا ایمان ہے کہ عدل اور اخلا قیات اگر کوئی معیار ہیں تو اس وقت عدلیہ ، ججز اور خود حکومت جس بے تو قیری کے شکار ہیں ، اس میں اس نا انصافی کی آہ سر فہرست ہے –

دوسرا کیس اظہر سلیم بابر صاحب کا ہے – وہ بطور ایکٹنگ چیف جسٹس ریٹائر ہوئے ہیں اور اس دوران وہ آئین اور قانون کے تحت ( عدالتی فیصلوں کے تحت سوائے ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری کی سفارش کے) ساری ذمہ داریاں اور فرائض ادا کرتے رہے جو چیف جسٹس کر سکتا ہے اس کیے ، وہ پنشن اور دیگر مراعات بھی بطور چیف جسٹس حاصل کرنے کے حقدار ہیں –

اس میں شک نہیں کہ آئین کے تحت چیف جسٹس اور ایکٹنگ چیف جسٹس کی تقرری کے دو الگ الگ طریقے ہیں اور دونوں عہدوں کے الگ الگ نام ہیں – لیکن عملی طور دونوں ایک ہی رتبے اور اختیارات کے حامل ہیں – اس سلسلے میں عدالتی اور انتظامی فیصلے بھی بطور نظائیر موجود ہیں جن میں سر فہرست سعد سعود جان مرحوم جو پچاس دن ایکٹنگ چیف جسٹس پاکستان رہے کو حکومت پاکستان نے پنشن اور مراعات کی حد تک چیف جسٹس نوٹی فائی کیا – انتظامی انصاف کرنا ، انصاف کا پہلا زینہ ہے اور یہ حکومت اور ہائی کورٹ کی انتظامی ذمہ داری ہے – سینئیر موسٹ جج کو چیف جسٹس کے بجائے ایکٹنگ چیف جسٹس مقرر کرنا بھی انتظامی نا انصافی ہے ، اس کی سزا اس کے استحقاق سے محروم رکھنے والے کو کیوں دی جائے؟

امید ہے ان حقائق کا ادراک کیا جائے گا اور متعلقہ اتھارٹیز آئینی، قانونی اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اعلیٰ روایات کو پروان چڑھائیں گی –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے