آپ نے رنگ روڈ پر پریس کانفرنس کرکے اچھا نہیں کیا، وزیراعظم کا غلام سرور سے مکالمہ

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور کے درمیان رنگ روڈ معاملے پر بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر سے کہا کہ آپ نے رنگ روڈ پر پریس کانفرنس کرکے اچھا نہیں کیا۔

اس پر غلام سرور نے جواب دیا کہ چارٹی وی چینلزنے غلط طورپرمیرا نام لیا، پریس کانفرنس ضروری تھی، میرا رنگ روڈ معاملے سے تعلق نہیں مگر مجھے اس میں گھسیٹا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے پر پنجاب حکومت کے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو انکوائری دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرغلام سرور نے پنجاب حکومت کے رنگ روڈ انکوائری کیلئے جاری ٹی او آرز پر اعتراض کیا جس پر وزیراعظم نےے جواب دیا کہ انکوائری آپ کے خلاف نہیں ہے۔

[pullquote]رنگ روڈ اسکینڈل براہ راست وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی نگرانی میں ہوا، ن لیگ کا الزام[/pullquote]

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے الزام لگا ہے کہ رنگ روڈ اسکینڈل براہ راست وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی نگرانی میں ہوا۔

لیگی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے ساتھیوں کے رہائشی منصوبوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے سرکاری خزانے پر 60 ارب کا بوجھ ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری افسروں کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے، حقائق سامنے آچکے، عمران خان اور عثمان بزدار مجرم ہیں لہٰذا یہ ذمے داری قبول کرکے استعفیٰ دیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھاکہ اگر یہ دونوں عہدوں پر موجود رہے تو یہ تحقیقات پر اثر انداز ہوں گے، آپ نے ملک کا ستیاناس کردیا، کون جواب دے گا؟ قوم کو دھوکا دے کر آپ کام نہیں چلاسکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کریسی کی حکومت ہے، حکومت کا دھیان صرف کرپشن پرہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے، وزیر خزانہ تبدیل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، اسد عمر اور حفیظ شیخ نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ایک روپیہ قرضہ واپس نہیں کیا، اس حکومت نے 13 ہزار ارب روپے قرضہ بڑھایا ہے۔

[pullquote]رنگ روڈ میں میری ایک انچ زمین ثابت ہوجائےتو سیاست چھوڑدوں گا،غلام سرورخان[/pullquote]

وفاقی وزیر غلام سرورخان کا کہنا ہےکہ رنگ روڈ منصوبےکی الائنمنٹ تبدیل کرنے یا کسی ہاؤسنگ سوسائٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ، رنگ روڈ میں ان کی ایک انچ زمین ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑد یں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ہم تو بیچارے لوگ ہوتے ہیں کچھ بھی ہو سیاسی افراد کا نام لینا آسان ہوتا ہے،رنگ روڈ سے متعلق ٹھلیاں سے ہی بنانے کی تجویز دی گئی تھی،این ایچ اے نے 2017 میں کہا ٹھلیاں سے بنانے سے ٹول پلازہ جام ہو جائیں گے، رنگ روڈ کی الائنمنٹ کو اسکینڈل بناکر مجھ سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ چیلنج کرتا ہوں بتائیں وہ کونسا اسکینڈل تھا جس کی وجہ سےمیری وزارت بدلی گئی، وہ اسکینڈل معلوم کریں اور پھر ضرور سامنے لائیں، وزیراعظم کا یہ حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کون سا کھلاڑی کہاں کھیلانا ہے،اگر کسی کے پاس میرا کوئی اسکینڈل تھا تو ڈھائی سال پہلےبتاتے۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ عوام اور خدا کی عدالت میں خود کو پیش کرتا ہوں، رنگ روڈ میں ان کی ایک انچ زمین ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑد وں گا ، کسی انکوائری رپورٹ میں میرا نام نہیں آیا، کسی کے کہنے پر ان کا نام لیا گیا۔

انہوں نے معاملے کی نئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اور میرے خاندان نے سیاست عبادت سمجھ کر کی ہے،میرا یا میرے خاندان کا کسی ہاوسنگ سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں ، نوٹس ضرور دوں گا،الزام لگانے والا حساب دےگا کل کیا تھا آج کیا ہے۔

دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے چئیرمین نیب نے رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے میں مبینہ بد عنوانی کا نوٹس لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل انکوائری مکمل کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ رنگ روڈ کے اصل نقشے کو تبدیل کر دیا گیا اور اس میں مزید نئے راستے شامل کردیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان نئے راستوں کا انتخاب ان چند اہم شخصیات کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا گیا، جن کی زمینیں اس راستے پر آتی تھیں جبکہ نئے راستے شامل کرنے پرلاگت میں مزید 25 ارب روپے اضافہ ہو رہا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے