جنرل، مجھے سیاست میں پچاس سال ہو چکے ہیں، میری بات سُنو

”اس ملاقات میں جنرل مشرف تھے‘ میرے عزیز دوست اور اس وقت کے سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد اور میں تھا ۔صدر دیمرل(ترک صدر) نے انتہائی تحمل اور بردباری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
۔
”جنرل! مجھے عملی سیاست میں پچاس برس سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس طویل عرصے میں جس عمل نے میرے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘
وہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہے۔ ہمارے جرنیلوں کے دماغ میں بھی یہ خنّاس تھا کہ وہ ملک کو سدھار سکتے ہیں لیکن ہر بار وہ جب اپنا تماشا دکھا کے واپس بیرکوں میں گئے تو حالات پہلے کی بہ نسبت اور خراب کر گئے۔
۔
جنرل! دنیا کی کوئی فوج کسی ملک کی تقدیر نہیں سنوارسکتی۔ یہ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ مجھے پاکستان سے محبت ہے اور تمہیں میں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہوں‘ لہٰذا بڑا بھائی ہونے کے ناطے میرا مشورہ یہ ہے کہ جتنی جلد ہو سکے‘ اقتدار سیاستدانوں کو واپس کرو اور اپنی بیرکوں کو لوٹ جائو‘‘۔
۔
”میں دیکھ رہا تھا کہ جنرل مشرف کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور دوسرا جا رہا تھا۔ وہ کیا سوچ کر آئے تھے اور ماجرا کیا ہوا۔ دیمرل صاحب نے تو ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
شاباشی دینے کے بجائے کان مروڑ دیے۔
۔
ملاقات ختم ہونے پر باہر نکلے تو مجھ سے اور شمشاد سے فرمایا:”یہ صدر دیمرل کچھ زیادہ ہی نہیں کہہ گئے؟‘‘۔
.
وہاں سے اگلی ملاقات کے لیے وزیر اعظم بلند ایجوت کے دفتر پہنچے تو ایجوت صاحب الگ چھریاں تیز کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سلیمان دیمرل کے مقابلے میں فوج کے بہت زیادہ ڈسے ہوئے تھے۔ –
۔
”ایجوت صاحب نے تو ایک مرحلے پر تفریح لینے کے لیے جنرل مشرف سے کہا: جنرل ! ہمارے دونوں ملکوں میں بہت سی اقدار مشترک ہیں اور اب تو ہم اس اسکور میں بھی برابر ہو گئے کہ دونوں جگہ جرنیلوں نے چار بار سیاسی عمل میں رخنہ ڈالا ہے۔ایجوت کے اس سنگین مذاق پر جنرل مشرف کا منہ لٹک گیا لیکن کیا کرتے بات بالکل درست تھی‘ لہٰذا کڑوی کسیلی گولی نگلنی پڑی۔ یہ تو کہہ نہیں سکتے تھے کہ ترک انہیں گھر بلا کر جھاڑ پھٹکار رہے تھے۔ اس لیے کہ موصوف تو خود ہی ترکی دوڑے آئے تھے‘‘۔
۔
کرامت غوری کی کتاب سے ۔ (ارشاد عارف)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے