پہلے حریف کو سمجھو، پھر کچھ سوچو (مکمل کالم)

جو لوگ فلسطینیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ان پر لازم ہے کہ بنیادی مسئلے کو سمجھیں۔ سمجھنے کے لیے پڑھنا ضروری ہے اور اس سے بھی اہم یہ کہ کیا پڑھنا اور کیا نہیں پڑھنا۔

جب تک ہم اس خلطِ مبحث میں الجھے رہیں کہ اصل جھگڑا فلسطینیوں اور صیہونی نظریے کی پیداوار اسرائیلی ریاست کا ہے یا مسلمانوں اور یہودیوں کا مذہبی جھگڑا ہے۔زمینی ملکیت کا جھگڑا ہے یا نسلی مناقشہ ہے ۔تب تک ہم وہم و گمان کے خلا میں ہی معلق رہیں گے۔اور آدمی معلق ہو کہ اس کی سوچ۔ وہ نہ اپنے لیے کارآمد ہے نہ ہی کسی اور کے لیے فائدہ مند۔

مجھے اس بارے میں کسی کو زبردستی قائل کرنے سے قطعاً دلچسپی نہیں۔آپ کا کوئی بھی زاویہ نگاہ ہو۔بہتر ہے کہ اسے اعداد و شمار کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی اپنائیے۔تاکہ آپ کا موقف ایک باخبر و خواندہ و زندہ موقف ہو نہ کہ کسی سے ادھار لیا گیا نقطہِ نظر۔
پچھلے تیرہ برس میں اسرائیل اور غزہ پر حکمران حماس کے درمیان چار بڑی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔اگر ریاستِ اسرائیل ، غزہ اور غربِ اردن کے مقبوضہ علاقے کی آبادی کو جمع کیا جائے تو ان تینوں خطوں میں مجموعی طور پر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی آبادی یکساں ہے۔یعنی اڑسٹھ لاکھ فلسطینی عرب اور اڑسٹھ لاکھ یہودی آباد کار۔

( میں فلسطینی عرب کی اصطلاح یوں برت رہا ہوں کیونکہ اس تعریف میں نہ صرف فلسطینی مسلمان بلکہ صدیوں سے بسنے والے فلسطینی مسیحی بھی شامل ہیں۔ اور قبضے کے خلاف جدوجہد میں دونوں کا کردار اہم ہے۔جب کہ یہودی کی اصطلاح اس لیے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ ریاستِ اسرائیل کے آئین کے تحت یہ ریاست صرف یہودیوں کا ہوم لینڈ ہے۔اس میں آباد دیگر قومیتیں بھی اس کی شہری ہیں مگر ترجیحی گروہ یہود ہی ہیں ۔)

ریاستِ اسرائیل میں اس وقت اٹھاون لاکھ یہودی شہری اور سولہ لاکھ فلسطینی عرب شہری بستیہیں۔جب کہ مقبوضہ غربِ اردن ( مغربی کنارہ ) میں فلسطینی عربوں کی آبادی ستائیس لاکھ اور اسرائیلی آبادکاروں کی آبادی چار لاکھ چونسٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہودی آبادکاروں کی اکثریت انیس سو سڑسٹھ کی پانچ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں ہونے والے قبضے کے بعد وہاں منصوبہ بند طریقے سے بسائی جا رہی ہے ۔

مقبوضہ غربِ اردن کا قلب یروشلم ( بیت المقدس) ہے۔اس کے ایک حصے (مغربی یروشلم) کو ریاستِ اسرائیل نے وجود میں آتے ہی قبضہ کر کے اپنے میں ضم کر لیا۔جب کہ دوسرے حصے ( مشرقی یروشلم ) پر انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے دوران قبضہ کیا گیا۔مسجدِ اقصی اور ہیکلِ سلیمانی کی دیوارِ گریہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے۔

اسرائیل متحدہ یروشلم کو ریاستِ اسرائیل کا تاریخی دارالحکومت قرار دیتا ہے جب کہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔اس بعد المشرقین موقف کے ہوتے فریقین کے درمیان کسی بھی ممکنہ حتمی سمجھوتے اور دو ریاستی حل کی صورت میں یروشلم کی ملکیت کا فیصلہ کیسے ہوگا ؟ فی الحال اس پر بات کرنا ٹیڑھی کھیر ہے۔

البتہ اسرائیل نے یروشلم پر اپنا دعویٰ مستحکم کرنے کے لیے شہری حدود کو آبادکار بستیوں سے گھیرنے کی پالیسی کبھی نہیں روکی۔یہ پالیسی انیس سو تہتر میں اختیار کی گئی اور اس کا مقصد یروشلم کی حدود میں بتدریج اسرائیلی آبادکاروں کی اکثریت ستر فیصد تک لے جانا اور فلسطینی عرب اکثریت کو اقلیت میں بدل کر تیس فیصد تک لانا ہے۔اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار فلسطینوں کو مختلف قانونی حیلوں اور بزور یروشلم سے نکالا جا چکا ہے۔ کنکریٹ کی آٹھ میٹر بلند دیوار یروشلم کو تقسیم کرتی ہوئی مغربی کنارے کے دیگر مقبوضہ قصبوں تک فلسطینی کھیتوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی چلتی چلی گئی ہے۔

انیس سو اسی میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے قانونِ یروشلم منظور کیا جس کے تحت یروشلم ایک متحدہ ناقابلِ تقسیم شہر اور اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔یہ اقدام اس وعدے کے باوجود کیا گیا کہ حتمی تصفیہ ہونے تک بین الاقوامی قوانین کے تحت یروشلم اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام رہے گا۔

پچھلے چون برس کے دوران اسرائیلی ریاست نے پارلیمنٹ اور وزارتی دفاتر تل ابیب سے مغربی یروشلم منتقل کر دیے ہیں۔ امریکا سمیت لگ بھگ ساٹھ ممالک بھی اپنے سفارت خانے تل ابیب سے مغربی یروشلم منتقل کر چکے ہیں۔اقوامِ متحدہ سمیت کئی ادارے اور ان کے بیشتر رکن ممالک مشرقی یروشلم کو مقبوضہ علاقہ سمجھتے ہیں اور مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی آباد کار بستیوں کی تعمیر کو ناجائز تسلیم کرتے ہوئے ان کا قانونی مستقبل ممکنہ دو ریاستی حل سے جوڑتے ہیں۔

اس وقت مغربی یروشلم میں یہودی آبادی ساڑھے تین لاکھ اور فلسطینی عرب آبادی ساڑھے چار ہزار ہے۔ جب کہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی آبادی تین لاکھ پینتالیس ہزار اوریہودی آباد کاروں کی تعداد دو لاکھ بیس ہزار ہے۔ اسرائیل کا تازہ ہدف یہ ہے کہ مختلف امتیازی قوانین ، دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں اور پولیس کی مدد سے مشرقی یروشلم کے فلسطینی اکثریتی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کو زیادہ سے زیادہ بسایا جائے تاکہ اگلے چند برس میں مشرقی یروشلم میں اگر یہودی اکثریت نہ بھی ہو تو کم ازکم نصف آبادی یہودی ہو تاکہ کسی بھی دو ریاستی حل کی صورت میں یروشلم کا کوئی بھی حصہ اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔پچھلے ماہ مشرقی یروشلم کے پرانے محلے شیخ جراح سے چھ فلسطینی عرب خاندانوں کی ایک عدالتی حکم کے سائے میں جبری بے دخلی اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

غزہ میں دو ہزار پانچ تک اکیس یہودی بستیوں میں آٹھ ہزار آبادکار تھے۔غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے اور اسرائیلی فوجی انخلا کے سمجھوتے کے تحت وزیرِ اعظم ایریل شیرون نے ان بستیوں کو ہٹانے کا حکم دیا اور فی خاندان دو لاکھ ڈالر معاوضہ دے کر یہودی آبادکاروں کو اسرائیل میں بسایا گیا۔

اس وقت غزہ کی سو فیصد آبادی ( اکیس لاکھ ) فلسطینی عربوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے ستر فیصد پناہ گزین یا ان کی اولاد ہیں۔غزہ شہر کے نواح میں آٹھ پناہ گزین کیمپوں میں چودہ لاکھ انسان بستے ہیں۔بظاہر اسرائیل کا غزہ پر غربِ اردن کی طرح براہِ راست قبضہ نہیں ہے۔البتہ غزہ کے اندر کوئی بھی شے اسرائیل کی اجازت کے بغیر نہیں لائی جا سکتی۔دو ہزار آٹھ سے اس کی بحری، فضائی اور بری حدود اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔

اسی لیے غزہ کو تین سو پینسٹھ مربع کلو میٹر رقبے پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل کہا جاتا ہے۔ یہاں کے باشندے خصوصی اجازت ناموں کے بغیر فلسطینی اتھارٹی کے زیرِانتظام مغربی کنارے تک بھی نہیں جا سکتے۔حالانکہ اوسلو سمجھوتے میں اسرائیل نے اتفاق کیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام دونوں علاقوں کو ایک ہی خطہ تصور کیا جائے گا اور دونوں خطوں کے رابطے کے لیے ایک کاریڈور کی تشکیل پر سنجیدگی سے غور ہوگا۔

پچھلے تیرہ برس کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان چار بڑی لڑائیاں ہوئیں۔( دو ہزار آٹھ ، بارہ ، چودہ ، اکیس )۔ان میں ہر ایک اسرائیلی کی ہلاکت کے بدلے تئیس فلسطینی جانیں گئیں۔فلسطینی مرنے والوں میں عورتوں اور بچوں کی تعداد بتیس فیصد رہی۔جب کہ اسرائیلی اموات میں فوجی ہلاکتوں کا تناسب اڑتالیس فیصد تھا۔مجموعی طور پر اس عرصے میں دو سو اکیاون اسرائیلیوں کے مقابلے میں پانچ ہزار سات سو پچاس فلسطینی جاں بحق ہوئے۔جب کہ ساڑھے پانچ ہزار اسرائیلیوں کے مقابلے میں ایک لاکھ بائیس ہزار فلسطینی زخمی ہوئے۔غزہ پر چاروں اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر لگ بھگ ستر ہزار رہائشی مقامات تباہ ہوئے۔

جب پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے صیہونی نظریے کی بنیاد پر پانچ مئی انیس سو اڑتالیس کو مملکتِ اسرائیل کے وجود کا اعلان کیا۔تب تک یہودی آبادکاروں کا فلسطین میں تناسب چھ فیصد تھا۔چنانچہ مسلح یہودی ملیشیاؤں نے فلسطینیوں کو جبراً اکھاڑ پھینکے کی کارروائی شروع کی اور انیس سو اڑتالیس سے سن پچاس کے درمیان فلسطین کے اٹہتر فیصد تاریخی علاقے سے ساڑھے سات لاکھ مقامی باشندوں کو دہشت کا بازار گرم کر کے کھدیڑ ڈالا۔

اس اٹہتر فیصد علاقے کو ریاستِ اسرائیل کا نام دیا گیا۔بقیہ بائیس فیصد فلسطین غربِ اردن (ہاشمی سلطنت کے ماتحت دریاِ اردن کا مغربی کنارہ ) اور غزہ کے دو ٹکڑوں کی شکل میں بچا۔ وہ بھی انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں اسرائیلی قبضے میں چلا گیا۔

انیس سو اڑتالیس تا پچاس کے دو برسوں کو فلسطینی ال نقبہ ( قیامتِ صغری) کے نام سے نسل در نسل یاد رکھے ہوئے ہیں۔ساڑھے سات لاکھ پناہ گزینوں میں سے اکثر اردن، شام، لبنان اور مصر کے مہاجر کیمپوں میں مقیم ہوئے یا پھر غزہ اور غربِ اردن منتقل ہو گئے۔ آج ان کی چوتھی نسل کے پاس ان گھروں کی چابیاں محفوظ ہیں جن کا اب کوئی وجود نہیں رہا۔ال نقبہ کے دورِ دہشت میں نا صرف بڑے شہروں ( جافا، حیفہ، تل ابیب، اشدود وغیرہ ) سے فلسطینی جبراً نکالے گئے بلکہ پانچ سو تیس دیہات بھی مٹا دیے گئے یا انھیں نئی آبادیوں میں ضم کر کے نام بدل دیے گئے۔

ان ساڑھے سات لاکھ فلسطینوں میں مزید تین لاکھ بے گھر فلسطینیوں کا اضافہ انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے بعد ہوا۔یوں لگ بھگ ساڑھے دس لاکھ فلسطینی براہِ راست بے گھر ہوئے۔اور اب ان کی چوتھی نسل میں سے تقریباً پچاس لاکھ لوگ اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ اٹھاون پناہ گزین کیمپوں سے باہر ، اسرائیلی مقبوضہ علاقوں ، مشرقِ وسطی اور مغربی ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی بنیادی شرط یہ ہے کہ دو ریاستی حل ہو کہ کوئی اور امن فارمولا۔جن فلسطینیوں نے انیس سو اڑتالیس میں اپنا وطن چھوڑا ان کے ورثا کو دوبارہ اپنے آبائی علاقوں میں بسنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

مگر کچھ فلسطینی خاندان زیادہ سخت جان ثابت ہوئے۔وہ ایک علاقے سے نکالے گئے تو دوسرے میں چلے گئے البتہ ریاستِ اسرائیل کی حدود میں ہی دربدر رہے۔چنانچہ انھیں بالاخر ریاستی شہریت دے دی گئی۔ اس وقت ایسے اسرائیلی عربوں کی تعداد سولہ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

انھیں ملکی سیاست میں حصہ لینے کی بھی اجازت ہے۔ان کی پارلیمانی نمایندگی بھی ہے۔عبرانی کے ساتھ ساتھ عربی کو بھی قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ بظاہر انھیں دیگر شہریوں کی طرح تعلیم ، صحت اور روزگار و رہائش کا آئینی حق بھی حاصل ہے۔مگر یہودی اکثریت انھیں مشکوک سمجھتی ہے اور غیراعلانیہ پالیسی یہ ہے کہ انھیں آئینی حقوق کے فوائد اٹھانے سے جتنا روکا جا سکے روکا جائے۔

جہاں تک اسرائیلی حدود سے باہر مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں اور دیہاتوں کا معاملہ ہے تو ان کے بھی مزید انتظامی بخرے کر کے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔اے ایریا مغربی کنارے کے اٹھارہ فیصد رقبے پر مشتمل ہے اور اس کے اندرونی نظم و نسق کے معاملات فلسطینی اتھارٹی کے اختیار میں ہیں۔بی ایریا مغربی کنارے کے بائیس فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔یہ علاقہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مشترکہ کنٹرول میں ہے۔کہنے کو ایریا اے اور بی میں صحت، تعلیم و روزگار سمیت متعدد بنیادی شعبے فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہیں۔البتہ عملاً ان علاقوں کی حدود سے باہر کے سیکیورٹی معاملات اسرائیل کے پاس ہیں۔یعنی اسرائیل جب چاہے ایریا اے اور بی میں فوجی و انتظامی مداخلت کا حق رکھتا ہے۔

سی ایریا مغربی کنارے کے ساٹھ فیصد رقبے پر مشتمل ہے اور اسرائیل کے سو فیصد فوجی و انتظامی کنٹرول میں ہے۔یہاں یہودی آباد کاری کی رفتار سب سے تیز ہے۔اگرچہ اوسلو امن سمجھوتے کے تحت اسرائیل سی ایریا کا انتظام بھی سمجھوتے کے پانچ برس بعد فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا پابند تھا مگر چھبیس برس گذر گئے، ایسا آج تک نہیں ہو سکا ( پہلا اوسلو سمجھوتہ انیس سو ترانوے اور دوسرا انیس سو پچانوے میں ہوا تھا )۔

اس وقت یروشلم سمیت پورے مقبوضہ مغربی کنارے پر چھ سے سات لاکھ یہودی آبادکار ڈھائی سو بستیوں میں رہ رہے ہیں۔گویا اسرائیل کی مجموعی اڑسٹھ لاکھ یہودی آبادی کا دس فیصد مقبوضہ علاقوں میں آباد کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک سو تیس بستیاں سرکاری اور ایک سو بیس غیر سرکاری طور پر بسی ہوئی ہیں۔مگر چوتھے جنیوا کنونشن کے مطابق یہ سب بستیاں غیر قانونی ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق قابض طاقت مقبوضہ آبادی میں جبراً رد و بدل نہیں کر سکتی اور نہ ہی باہر سے لوگ لا کے بسا سکتی ہے۔

اسرائیل کی ریاستی حدود سے باہر آباد ہونے کے باوجود ان آباد کاروں کو نہ صرف ریاستی شہریت حاصل ہے بلکہ انھیں اپنا کم ازکم معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے سرکاری سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔جب کہ اسی علاقے کی فلسطینی اکثریت اسرائیلی فوجی قوانین کے تابع ہے۔

فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر مکمل کنٹرول کے لیے پورے مغربی کنارے پر لگ بھگ ساڑھے سات سو فوجی رکاوٹیں ہیں۔ان میں سے ایک سو چالیس مستقل چیک پوسٹیں ہیں۔فلسطینی مردوں، عورتوں، بچوں کو ان سے گذرنے کے لیے ہر موسم میں گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کی عادت ہو گئی ہے۔جب کہ انھی کے سامنے آبادکار بستیوں کو اسرائیلی شہروں کو جوڑنے والی سڑکوں پر یہودی شہری زن سے بنا پوچھ تاچھ گذر جاتے ہیں۔ان چیک پوسٹوں سے وہ ستر ہزار مزدور بھی روزانہ گذرتے ہیں جو ورک پرمٹ کے تحت اسرائیل کے اندر دھاڑی کے لیے جاتے ہیں۔ مقبوضہ فلسطینیوں میں بے روزگاری کا تناسب لگ بھگ پچاس فیصد بتایا جاتا ہے۔

یہ ہے وہ مجموعی تصویر جسے چھپانے یا دھندلانے کی اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے ہر ابلاغی محاذ پر سر توڑ کوشش کی اور اب تک کامیاب بھی رہی۔مگر بھلا ہو بے لگام سوشل میڈیا کی طاقت کا۔اس بار ’’ وحشی عربوں کے سمندر میں گھرے ہوئے ایک محاصرہ زدہ جزیرے‘‘ کا تاثر پہلی بار کسی حد تک تار تار ہوا ہے۔پہلی بار بین الاقوامی دباؤ نے اسرائیل کو گیارہ روز بعد جنگ بندی کے اعلان میں پہل پر مجبور کیا۔اس سے پہلے وہ ہمیشہ اپنی شرائط پر فائر پاور روکنے کا عادی تھا۔

سوشل میڈیا کے طفیل پہلی بار فلسطینیوں کے جوابی بیانیے کو مغربی پریس میں کچھ نہ کچھ جگہ ملی۔ پہلی بار ایک انہونی یہ بھی ہوئی کہ امریکی کانگریس میں مقدس اسرائیلی گائے کے خلاف کھل کے چند سرپھرے ارکان نے اپنے جذبات کا اظہار کیااور درجن بھر امریکی شہروں میں فلسطینیوں کے حق میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔

اگرچہ امریکی کانگریس میں اسرائیل مخالف آوازوں کی تعداد فی الحال آٹے میں نمک ہے۔مگر وہ جو چینی کہاوت ہے کہ ہزار میل کا سفر پہلے قدم سے ہی شروع ہوتا ہے۔اسرائیل کو اب اپنی مظلومیت کی نئی فلم تیار کرنا پڑے گی۔مگر نئی دنیا بہت سیانی ہوتی جا رہی ہے۔اب وہ نئی بوتل میں پرانی شراب بھی فوراً پہچاننے لگی ہے۔

پانچ جولائی دو ہزار انیس کو اسرائیل کے سرکردہ اخبار ہاریتز میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شایع ہوئی ’’ نقبہ کی تدفین ، اسرائیل کیسے منصوبہ بند انداز میں انیس سو اڑتالیس میں عرب آبادی کے جبری انخلا کے ثبوت مٹا رہا ہے ‘‘۔

اس رپورٹ نے مورخ برادری کو ہلا کے رکھ دیا اور ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ ریاستیں اپنی مرضی کی تاریخ مرتب کرنے کے لیے کس حد تک علمی بددیانتی کی پستی میں گر سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار پندرہ میں ایک اسرائیلی محقق تمار نوویک کو اسرائیل کے قیام کے وقت قائم ہونے والی بائیں بازو کی سرکردہ جماعت مپام کی تاریخی دستاویزات کے زخیرے تک رسائی مل گئی۔ ایک کاغذ پڑھ کے تمار کا رنگ اڑ گیا۔
’’ صفید نامی قصبے کے نزدیک صفصاف گاؤں میں باون مردوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر خندق کے کنارے کھڑا کر کے گولی مار دی گئی۔ان میں سے دس ابھی تڑپ رہے تھے مگر انھیں بھی دفن کر دیا گیا۔عورتیں اور بچے رحم کی درخواست کرتے ہوئے روتے رہ گئے۔کل اکسٹھ لوگوں کو مارا گیا۔تین خواتین ریپ ہوئیں۔ایک چودہ برس کی مردہ لڑکی کی انگلی کاٹ کے انگوٹھی اتار لی گئی ‘‘

یہ تفصیل کس نے قلمبند کی؟ نامکمل دستاویز سے اس کا پتہ نہیں چلتا۔مگر اس قتلِ عام کی تصدیق دیگر معروضی واقعات سے کی جا سکتی ہے۔جیسے بالائی گلیلی کے صفصاف گاؤں پر انیس سو اڑتالیس کے آخری دنوں میں نوتشکیل اسرائیلی فوج کے ساتویں بریگیڈ نے قبضہ کیا اور پھر اسے موشاوو صفصفا کا نام دے کر یہودی آباد کار بسائے گئے۔ساتویں بریگیڈ نے یہاں جو بھی زیادتیاں کیں ان کا اعلیٰ فوجی قیادت کو بروقت علم تھا۔نیز اس علاقے میں متحرک آٹھویں اور نویں بریگیڈ نے بھی عرب نقل مکانی کے عمل کو تیز تر کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کے کارکردگی دکھائی۔

نقبہ پر تحقیق کرنے والے سرکردہ اسرائیلی مورخ بینی مورث نے بھی تصدیق کی کہ ہگانہ ملیشیا (جو بعدازاں اسرائیلی فوج میں ضم ہو گئی) کے کمانڈر اسرائیل گلیلی نے نومبر انیس سو اڑتالیس میں مپام پارٹی کے رہنما آہرون کوہن کو بتایا کہ صفصاف گاؤں میں کیا ہوا۔مورخ تمار نووک نے جو دستاویز دیکھی وہ غالباً آہرون کوہن کے مرتب کردہ نوٹس ہی تھے۔مگر کچھ عرصے بعد تمار دوبارہ دستاویزات دیکھنے آیا تو یہ نوٹس غائب تھے۔جب تمار نے اس دستاویزی زخیرے کے انچارج سے ان نوٹس کی بابت پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ وزارتِ دفاع کے کارندے یہاں سے کچھ دستاویزات اٹھا کر لے گئے ہیں اور اب یہ دستاویزات عام ملاحظے کے لیے دستیاب نہیں۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے دو ہزار دو کے بعد سے قومی آرکائیوز کے زخائر کی چھان پھٹک شروع کی تاکہ اسرائیل کے جوہری پروگرام سے متعلق دستاویزات کو وزارتِ کی تحویل میں لے کر سربمہر کیا جا سکے۔

پھر دو ہزار نو میں اس چھان پھٹک کے دائرے میں نقبہ سے متعلق دستاویزات کو بھی شامل کر لیا گیا۔ حالانکہ ان میں سے کچھ تفصیلات برسوں پہلے کہیں نہ کہیں شایع بھی ہوتی رہیں۔مگر اب ان تک رسائی ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔

یاہیل ہوروو دو ہزار سات میں وزارتِ دفاع سے ریٹائر ہوئے۔انھوں نے ہاریتز اخبار کو بتایا کہ انھوں نے ہی سن دو ہزار سے ’’ قومی سلامتی سے متعلق تاریخی ریکارڈ کو سربمہر کرنے کے پروجیکٹ کی قیادت کی اور اس کام سے سات برس منسلک رہے ۔بقول یاہیل ایک الزام کی تب تک کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہوتی جب تک اس کے پیچھے مصدقہ دستاویزی ثبوت نہ ہوں اور وزارتِ دفاع یہ نہیں چاہتی کہ اس معاملے میں طے شدہ ریاستی بیانئے پر سوال اٹھے۔

نقبہ کے بارے میں اسرائیلی ریاست کا یہ موقف ہے کہ مقامی عرب رہنماؤں نے اپنے مفادات کی خاطر بھرپور پروپیگنڈہ مہم چلا کر عرب آبادی کو خوف زدہ کر کے ہجرت پر آمادہ کیا۔مگر جون انیس سو اڑتالیس میں اس وقت کے اسرائیلی خفیہ ادارے شائی ( شن بیت کے پیشرو)کے ایک اعلیٰ اہلکار نے عرب ہجرت کے اسباب پر پچیس صفحے کی جو رپورٹ لکھی اس نے سرکاری بیانئے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

یہ رپورٹ درمیان میں کئی برس غائب رہی لیکن اب اسے ریلیز کر دیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ستر فیصد عرب آبادی کو فوجی آپریشنز کے ذریعے بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔ان آپریشنز میں فوج کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ مسلح یہودی ملیشیاوں ( ارگون ، لیہی، سٹیرن گینگ)نے بھی ہاتھ بٹایا۔باقی تیس فیصد عرب قریبی دیہاتوں سے آنے والی تشویش ناک خبریں سن سن کر نکل بھاگے۔ جو تب بھی نہیں نکلے انھیں سنگین نتائج کی دھمکی دے کر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔

سن دو ہزار میں ایتزاک رابین ریسرچ سینٹر نے انیس سو اڑتالیس کے واقعات کے تناظر میں اس دور کے کئی فوجی افسروں سے انٹرویو ریکارڈ کیے۔یہ انٹرویوز بھی بعد ازاں وزارت دفاع نے اپنی تحویل میں لے لیے۔سابق برگیڈئیر آریا شالیو اور سابق میجر جنرل ایلاد پیلڈ نے اعتراف کیا کہ عرب آبادی کو بھگانے کے بعد ان کے گھروں کو مٹانا اس لیے ضروری تھا کہ وہ کچھ عرصے بعد واپس آنے کی کوشش نہ کریں۔چنانچہ جو مرد اپنی عورتوں اور بچوں کو واپسی کے ارادے سے گھروں میں پیچھے چھوڑنا چاہتے تھے انھیں پورے کنبے کو ساتھ لے جانے پر مجبور کیا گیا۔

سابق میجر جنرل ایلاد پیلڈ نے یہ خوفناک اعتراف بھی کیا کہ بالائی گلیلی میں میری پلاٹون نے ساسا نامی گاؤں کے بیس گھروں کو نصف شب کے قریب دھماکا خیز مواد سے اڑایا۔شاید اس وقت ان گھروںمیں لوگ سو رہے تھے۔اس واقعہ کے بعد بالائی گلیلی عرب آبادی سے تیزی سے خالی ہو گیا۔

ایک اور ریٹائرڈ میجر جنرل ایورام تامیر نے بتایا کہ جب وزیرِ اعظم بن گوریان کو اطلاعات ملیں کہ دریاِ اردن پار کرنے والے سیکڑوں مہاجرین دوبارہ اپنے دیہاتوں میں آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو پھر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ جتنے بھی خالی عرب دیہات ہیں ان سب کو اڑا دیا جائے۔چنانچہ فوج کی انجینئرنگ بٹالینز نے بیشتر کام اگلے بہتر گھنٹے میں مکمل کر لیا۔

جب اسرائیل قائم ہوا تو جنوبی صحراِ نجف میں ایک لاکھ سے زائد عرب بدو ہزاروں برس سے آباد تھے۔اگلے نو برس میں ان کی تعداد گھٹ کے تیرہ ہزار رہ گئی۔یہ بدو کسی قیمت پر علاقہ چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ انھیں راضی کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً ان کے خیموں کو آگ لگائی جاتی رہی اور اونٹ اغوا ہونے لگے یا پھر ذبح ہونے لگے۔المختصر موجودہ اسرائیل کی سرحدوں کے اندر سے انیس سو اڑتالیس تا پچاس کم ازکم ساڑھے سات لاکھ عرب نکال دیے گئے۔

انیس سو اٹھانوے میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد اور شن بیت کی بہت سی پرانی دستاویزات کی پچاس برس کی میعاد مکمل ہو گئی۔اس مدت کے بعد ان دستاویزات کو اسرائیلی قانون کے مطابق مورخوں کے مطالعے کے لیے کھول دیا جانا چاہیے تھا مگر خفیہ اداروں نے ’’ قومی سلامتی کے تحفظ‘‘ کی خاطر ان دستاویزات کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کابینہ سے مطالبہ کیا کہ ان دستاویزات کو عام کر نے کی مدت پچاس برس سے بڑھا کر ستر برس کر دی جائے۔کابینہ نے یہ مدت بڑھا کر نوے برس کر دی ۔ (قصہ ختم)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے