ماحول کا دوبارہ تصور، بازیافت اور بحالی – عالمی یوم ماحول 2021 کا عنوان

عالمی یوم ماحولیات 2021 ، ماحول کا دوبارہ تصور ، بازیافت اور اس کی بحالی کے عنوان سے منسوب کیا گیا ۔ چونکہ اس سال ماحولیاتی نظام کی بحالی سے متعلق اقوام متحدہ کے عشرے کا آغاز ہوا ہے۔ جس میں اس عزم پر کارفرما کیا جائے گا۔ اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس پر آگاہی اور تحفظ کے مختلف طریقوں پر منصوبہ بندی کی جائے گی ۔

رواں سال ماحولیاتی نظام کی بحالی کی اہمیت کو بڑھانے کے لئے عالمی یوم کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے جو کہ اک ترقی پذیر ملک کیلئے اعزاز ہے ۔ اقوام متحدہ کی یہ دہائی جو ماحولیاتی نظام کے حوالے سے بلاشبہ اک عالمی دباؤ ہے تاکہ وہ انسانیت کی بقا کی حمایت کو جاری رکھ سکیں۔

ماحولیاتی نظام کی بحالی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سائیکلنگ تقریب کے ذریعے تہواروں کا آغاز کیا۔

جس کا مقصد لوگوں میں قدرتی خوبصورتی، اس کی اہمیت اور زمین کی حفاظت کے پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ عالمی یوم ماحول ہر کسی اور ہر جگہ کے لبے ایک دن ہے، جو 1972 میں شروع ہونے کے بعد آج تک ماحولیاتی، فضائی، جنگلی حیات جرم کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اور درخت کی پیداوار کے اضافے جیسے عوامل اجاگر کرتا ہے، اس سال کا موضوع ہمیں قدرت کے ساتھ تعلق کو دوبارہ سوچنے ، اس کے تحفظ اور اس کی بحالی پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور ہمارے تجربے کی بنیاد پر اس اہم موضوع کو فروغ دینے اور پر لطف و پر جوش طریقے تلاش کرنے کے لیے چیلنج دیتا ہے۔

“ہاں میں فطرت کے ساتھ ہوں”؛ یہ جملہ ہماری ماحول دوستی کی علامت ہے اور ایک عہد ہے جو کہ آنے والی نسلوں کے لیے پر سکون ماحول کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، فطرت کی حفاظت ہماری ذمہ داری بھی ہے اور ایمان کا حصہ بھی۔

پاکستان جہاں مختلف مسائل کا شکار ہے اس میں شامل ایک اہم مسئلہ ماحول کی ابتر صورتحال ہے۔ دور حاضر میں انسان جدید طرز زندگی کی وجہ سے فطرت میں خرابی کی اہم وجہ ہے، نا مناسب سیوریج کا نظام، ماحول دشمن آلات کا بے دریغ استعمال، گاڑیوں کی بہتات، نامناسب تلف کرنے کے مقامات، شور کا بڑھتا ہوا رجحان، ڈسپوزیبل پروڈکٹس کی بھرمار، تنصیباتی ابلاغ کے لیے وائرلیس سسٹم و جدید شعاعوں کا بے دریغ استعمال اور بہتات، شعاعی نظام کے زیر اثر نقل و حرکت، ریڈیو ایکٹو تنصیبات اور رہائشی علاقوں پر اس کے منفی اثرات جیسے بہت سے عوامل ماحول دشمنی کا ایک بہت بڑا سبب ہیں۔ اگر ماحول میں عدم توازن ہو تو قدرتی نظام ہی اس کو درست سمت میں گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ درستگی انسانی صلاحیتوں اور ترقی کی راہ میں حائل ہو کر قدرتی نظام کی دیکھ بھال کے لئے اہم پیش خیمہ ہو گی اور انسان کی جدیدیت کی خواہش بعض اوقات ایسے نقصانات کو جنم دیتی ہے کہ جیسے انسان کا اس کرہ ارض سے تعلق منقطع ہے اور وہ اس کی حفاظت کے بغیر سوچے سمجھے ترقی کی منازل طے کرنے کا خواہاں ہے۔

اس عنوان کے مطابق اغراض و مقاصد کا حصول ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ہمارے بچے گھر سے باہر غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے ناگزیر وقت رکھتے ہیں، جہاں گھر سے باہر کھیلنے والے بچے کے لیے اوسطاً 30 منٹ دورانیہ کاربند ہو اور بچے ٹی وی، کمپیوٹر اور سمارٹ فون جیسی اشیا پر اوسطاً 7 گھنٹے صرف کرتے ہوں اور نوجوانوں کی حالت زار بھی اسی طرح ہو جو کہ اس ملک میں ایک بہت بڑی تعداد رکھتے ہوں مگر زیادہ وقت کام کاج، گاڑی کے استعمال، شاپنگ، ریسٹورانٹ اور گھر میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہوں تو ایسی صورتحال میں ہمیں سکرین کے بجائے “گرین” ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے بہت زیادہ کوشش کرنا ہو گی۔

فطرت سے ہمیشہ اچھی یادیں جنم لیتی ہیں اور آج کی الیکٹرانک دنیا میں الجھا ہوا انسان ان یادوں سے سخت عاری ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دفتر، گھر، یونیورسٹی، سکول، ہسپتال، ذرائع آمد و رفت، ریسٹورانٹ، رہائشی و کمرشل منصوبے فطرت کے اصولوں سے عاری ہیں، اضراف میں بعض اوقات مٹی میں کھیلنا، باغبانی، فطرت کے قریب اور صحت مند زندگی کا ضامن ہوتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں ہم جو کچھ زمین کے ساتھ کر رہے ہیں، در اصل قدرتی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے اور یہ بہترین وقت ہے کہ ہم فطرت سے دوبارہ اپنے رابطے کو بحال کریں اور صحت مند صاف معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے