پاکستانی صحافت کی چند جھلکیاں

اور اب ایک بہت سینئر نامو رصحافی، ایڈیٹر، کالم نگار نذیر ناجی صاحب کی کہانی، قاضی صاحب کی زبانی صفحہ 233’’ہمارے عزیز بھائی جناب نذیر ناجی نے ابتدا میں ہی شعر کہنے شروع کر دیئے تھے ۔ان کے والد صاحب میرے و الد صاحب کے قیام پاکستان سے پہلے کے دوست تھے ۔ وہ اپنے بیٹے کی شعرو شاعری پر زیادہ خوش نہیں تھے اور چاہتے تھے وہ کسی معقول کام پر لگ جائیں ۔ انہوں نے نذیر ناجی صاحب کو ٹوبہ ٹیک سنگھ بھیج دیا ۔ وہ ہمارے گھر رہے والد صاحب نے انہیں کئی کاموں پر لگانے کی کوشش کی لیکن والد صاحب جب بھی ناجی کے بارے معلوم کرتے تو معلوم ہوتا وہ کسی شاعر کی طرف گئے ہوئے ہیں ۔کئی ماہ کی مشق کے بعد والد صاحب نے ناجی کے والد سے گزارش کی کہ آپ بیٹے کوکسی ایسے کام پر لگائیں جو اس کا پسندیدہ ہو ۔ناجی صاحب کے والد انہیں جھنگ واپس لے گئے اور کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ ناجی صاحب جھنگ سے لائل پور چلے گئے ہیں اور وہاں ایک روزنامہ میں سب ایڈیٹر ہوگئے ہیں ۔صحافت میں یہ ناجی صاحب کی ابتدا تھی ۔ پھر وہ لائل پور سے لاہور آ گئے جہاں کئی اخبار و جرائد میں کام کیا ۔پھر کراچی چلے گئے جہاں انہیں ’’اخبار جہاں’’ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا ۔’’ اخبار جہاں’’ کے مدیر اعلیٰ میر جاوید رحمٰن نے ایک مرتبہ مجھے بتایا کہ نذیر ناجی ’’اخبار جہاں‘‘ کے سب سے محنتی ایڈیٹر تھے ‘‘۔

روزنامہ ’’غریب‘‘ کے جوائنٹ ایڈیٹر احمد ریاض کے تعارفی خط پر ’’امروز‘‘ کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی نے 1956ء میں مجھے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ’’امروز‘‘ کا نامہ نگار مقرر کر دیا تھا ۔’’امروز‘‘ کی نمائندگی نے مجھے میاں افتخار الدین کی ’’آزاد پاکستان پارٹی ‘‘ کے قریب کر دیا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بزرگ ترقی پسند سیاسی قائدین مفتی غلام حسین، کامریڈ قاسم علی اور چوہدری فتح محمد نے مجھے آزاد پاکستان پارٹی ٹی ٹی سنگھ کا پروپیگنڈا سیکرٹری (سیکرٹری اطلاعات ) مقرر کر دیا ۔ میں نے خان عبدالغفار خان کے دورہ کیلئے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دیہات کا تفصیلی دورہ کیا۔ہم ایک تانگہ پر لائوڈ سپیکر نصب کرکے دیہات میں خان عبدالغفار خان کے استقبال کیلئے لوگوں سے جلسہ گاہ پہنچنے کی اپیل کرتے (صفحہ 241)

’’لاہور پریس کلب میں ایک بزرگ صحافی جناب محمد حیات کو ایک نشست میں بڑی خفت کا سامنا کرنا پڑا جب ایک نوجوان صحافی نے ان پر یہ فقرہ چست کیا کہ آج کل خفیہ ایجنسیوں کے بندے اخبار نویسوں کی صف میں داخل ہو گئے ہیں اور ان کی مخبری کر رہے ہیں ۔حیات صاحب ایک بڑے منجھے ہوئے صحافی تھے اور لاہور میں یونائیٹڈ پریس آف پاکستان کے نمائندہ تھے ۔ان کا دفتر شاہ دین بلڈنگ میں تھا ۔وہ اس نشست میں طنز کے سارے تیر سہتے رہے مگر آخر کار ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور انہوں نے ماں، بہن کی گالی دے کر کہا ’’تم ایک معمولی کانسٹیبل اور ڈی ایس پی کے خلاف زبان کھول رہے ہو ۔تمہیں شرم نہیں آتی کہ اپنے سینئر کی اس طرح توہین کر رہے ہو‘‘۔بظاہر ان کا اچھالا ہوا جملہ ہوا میں اڑ گیا لیکن ان کی حقیقت بیانی تاریخ کا حصہ بن گئی ‘‘ (صفحہ 296)

قارئین !

’’مکرر ارشاد‘‘ ہے کہ ماس کمیونیکیشنز کے طالب علموں کو اپنی صحافتی تاریخ کے ایک طویل مخصوص حصہ سے ضرور آگاہ ہونا چاہئے ۔میرے پاس اس شعبہ کے طالب علموں کی خاصی آمدورفت ہے اور یہ جان کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ ان نوجوان بچوں بچیوں نے زیادہ تر ’’فیشن‘‘ کے طور پر یہ مضمون اپنایا ہوا ہے حالانکہ یہ پیشہ محنت، محبت، جان سوزی کا تقاضا کرتا ہے …….بہرحال صحافتی تاریخ کے ایک مخصوص عہد سے متعلق اس کتاب کے آخر پر بہت سی ر نگین تصویریں بھی ہیں جو کم از کم مجھے تو بہت اداس کر گئیں مثلاً عمران اطہر قاضی کی شادی پر لی گئی اک تصویر میں عارف نظامی نمایاں ہیں جو پچھلے دنوں دنیا سے رخصت ہوگئے ۔اسی طرح رحمت علی رازی کی تصویر ہے جو گلے میں ہار ڈالے دولہا بنا بیٹھا ہے اور اب اس دنیا میں نہیں ۔اک اور بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں ’’جنگ‘‘ کے نامور تجزیہ نگار جناب ارشاد احمد حقانی مرحوم اور صاحب کتاب مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور سے انٹرویو کر رہے ہیں اور ساتھ ’’جواں سال ‘‘ مصطفیٰ صادق بھی ہیں ۔ آج نہ مودودی صاحب ہیں نہ حقانی صاحب نہ صادق صاحب ’’تجھے اے زندگی لائوں کہاں سے ‘‘ ۔

نورین اطہر کی شادی پر اک رنگین تصویر میں نواب زادہ نصراللہ، رانا شوکت محمود اور معروف شاعر کلیم عثمانی جلوہ افروز ہیں جو آج ہم میں نہیں۔ اک اور پرانی بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں عبدالقادر حسن مرحوم قاضی صاحب سے محو کلام ہیں اور پھر جمیل اطہر قاضی کے ساتھ ’’دی نیوز‘‘ کے سینئر ایڈیٹر سوٹ میں ملبوس زیڈ اے سلہری مرحوم و مغفور محو گفتگو ہیں جو میرے کالموں میں استعمال کئے گئے پنجابی الفاظ کو بہت انجوائے کیا کرتے تھے ۔اک اور تصویر میں الیاس شاکر مرحوم اور صدر فاروق لغاری مرحوم مصنف سے ہاتھ ملا رہے ہیں اور پھر مجید نظامی مرحوم اور فرزند اقبال جاوید اقبال

قبر کا چوکھٹا خالی ہے اسے یاد رکھو

جانے کب کون سی تصویر سجا دی جائے

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے