نام میں کیا رکھا ہے لیکن ……

عجیب اتفاق ہے کہ کبھی کبھی نامور ترین لوگوں کے ناموں سے آشنا ہونے کے باوجود ہم زندگی بھر ان کے ناموں یعنی اصل ناموں سے واقف نہیں ہوتے مثلاً اردو کے نامور ترین نغمہ نگار تنویر نقوی جو ملکہ ترنم نور جہاں کی سگی بہن کے شوہر بھی تھے اور آپ نے شہید، کوئل، ایاز، انارکلی، شام ڈھلے، جھومر، دوستی، چنگاری وغیرہ جیسی لاتعداد فلموں کیلئے لازوال گیت لکھے لیکن شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ تنویر نقوی مرحوم کا اصل نام سید خورشید علی تھا۔ اسی طرح ممتاز شاعر ادیب، صحافی اور محقق پیام شاہجہان پوری کا نام محمد یمین خان تھا اور تاجور نجیب آبادی جسے مقبول شاعر، عالم دین اور ماہنامہ ’’مخزن‘‘ کے مدیر کا نام احسان اللہ خان درانی تھا وہ اردو مرکز لاہور کے نگران اعلیٰ بھی رہے اور انہیں شمس العلماء کا خطاب بھی پیش کیا گیا۔اپنے وقت کے مقبول ترین مزاحیہ شاعر پھل آگروی کا اصل نام سید عبدالحمید تھا۔

پطرس بخاری صاحب کے بارے میں اہل علم تو جانتے ہیں لیکن عام قارئین کو شاید علم نہ ہو کہ ان کا حقیقی نام بھی سید احمد شاہ تھا۔ نامور گلوکار اے نیر کا پیدائشی نام بھی آرتھر لطیف تھا۔صحافت یا یوں کہہ لیجئے کہ فوٹو جرنلزم کے امام ایف ای چودھری جنہیں پیار اور احترام سے ’’چاچا‘‘ کہا جاتا اور وہ لاہور پریس کلب کے صدر بھی رہے ۔آپ کو ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ آپ 65ء کی جنگ کے ہیرو سیسل چودھری کے والد بھی تھے، چاچا ایف ای چودھری کا نام FAUSTIN ELMERتھا ۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر انیس ناگی جو بہت سی یادگار کتابوں کے مصنف تھے کا نام ’’نامِ گمنامی‘‘ یعقوب علی تھا (آپ گورنمنٹ کالج لائل پور میں میرے استاد بھی تھے)۔

پاکستان فلم انڈسٹری کے ابتدائی دنوں میں بطور ولن اور کیریکٹر ایکٹر نامور ہمالیہ والا بہت مشہور اور مقبول اداکار تھے جن کا اصل نام افضل خان تھا۔پنجابی فلموں کے مشہور ہیرو سلطان راہی سے پہلے اکمل پنجابی فلموں کےسپر سٹار تھے جنہیں ’’پنجابی فلموں کا دلیپ کمار‘‘ بھی کہا جاتا ۔ سلطان راہی مرحوم تو مار دھاڑ تک محدود مقبول ہیرو تھے جبکہ اکمل ایکشن فلموں کے علاوہ رومانوی کرداروں میں بھی بہت مقبول تھا لیکن اس کا اصل نام محمد آصف خان تھا۔ انتہائی مقبول ناول نگار خاتون اے آر خاتون مرحومہ کا خاندانی نام امت الرحمن تھا۔فاطمہ ثریا بجیا نے بھی ان کے ناولوں کی ڈرامائی تشکیل کی تھی ۔ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ کا ایک بہت اہم بڑا اور معروف نام ہے ایس پی سنگھا،آپ آل انڈیا کرسچن ایسوسی ایشن کے صدر اور رکن پنجاب اسمبلی اور متحدہ پنجاب اسمبلی کے پہلے سپیکر ہونے کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار بھی رہے ۔ آپ کا پورا نام تھا دیوان بہادر سیتا پرکاش سنگھا، فیض احمد فیض جیسے عالیشان شاعر سے کون واقف نہیں ان کی بیگم ایلس فیض مرحومہ بھی بہت مقبول ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ان کا اصل نام ایلس کیتھرین جارج تھا جن کی ہمشیرہ ایم ڈی تاثیر سے بیاہی گئی تھیں جو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے والد بھی تھے۔

کئی سال پرانی بات ہے جب ایم ڈی طاہر نام کے ایک عوامی قسم کے وکیل ہوا کرتے جو مفاد عامہ کیلئے مقدمے کرنے کے حوالہ سے بہت مشہور تھے۔ ایم ڈی طاہر مرحوم کا اصل نام محمد دین تھا۔شاعروں، ادیبوں، وکیلوں کی تو بہت سی باتیں ہو چکیں ۔پہلوانوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی کیونکہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب نامی گرامی پہلوان بھی ’’سٹارز‘‘ بلکہ سپرسٹارز کا سا درجہ رکھتے تھے ۔ان زمانوں کا ایک بیحد مقبول نام بھولا گاڈی بھی تھا جس کی کشتی دیکھنے عوام دیوانہ وار لپکتے تھے ۔بھولا گاڈی پہلوان کا اصل نام محمد نیاز تھا ۔بیگم جی اے خان نامور خاتون تھیں جو پنجاب اسمبلی کی رکن رہنے کے علاوہ 1956ء میں رکن مغربی پاکستان اسمبلی بھی رہیں ۔ تحریک پاکستان میں آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے اور آپ کا نام خدیجہ بیگم تھا۔ ممتاز گلو کار معصوم انسان پرویز مہدی ریڈیو پاکستان لاہور میں میرا ساتھی تھا جس کا اصل نام پرویز اختر تھا جسے مہدی حسن سے اظہار عقیدت کے طور پر اس نے پرویز مہدی کر لیا۔ منو بھائی بارے تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ان کا نام منیر احمد قریشی تھا جبکہ ان کے قریبی دوست اور بہت ہی خوبصورت شاعر جاوید شاہین بارے کم لوگ ہی جانتے ہوں گے کہ ان کا نام اختر جاوید تھا۔ بابا چشتی ہمارے عظیم ترین موسیقاروں میں شامل ہیں آپ نے پاکستان فلم انڈسٹری کو لاتعداد لازوال گیت عطا فرمائے ۔مجھے بھی ان کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ’’سلطانہ ڈاکو‘‘ نامی فلم میں سدھیر ہیرو اور نیلو ہیروئن تھیں، میوزک ڈائریکٹر بابا چشتی تھے جن کے حکم پر میں نے بھی کچھ گیت لکھے ۔بابا چشتی مرحوم و مغفور کا پورا نام غلام احمد چشتی تھا اسی طرح مقبول ترین مزاحیہ شاعر افسانہ نگار اور کالم نگار حاجی لق لق کا نام ابو العلاـ عطا محمد چشتی تھا۔پنجابی فلموں کا بہت ہی اہم اور مقبول نام، بے شمار پنجابی فلموں کے گیت اور کہانیاں لکھیں ۔ایک محتاط اندازہ کے مطابق فلمی کہانیوں کی تعداد 400سے زیادہ جبکہ فلمی نغموں کی تعداد 8000سے بھی زیادہ ہے اور ایک سے ایک سپرہٹ، آپ کا نام تھا حزیں قادری لیکن یہ قلمی نام تھا جبکہ اصل نام بشیراحمد تھا ۔مصنف ،صحافی ، کالم نگار، دانشور، فلم ساز حمید اختر کا نام اختر علی تھا۔ آپ ممتاز ٹی وی پر فارمر صبا حمید کے والد اور میرے بےحد مہربان بزرگ دوست بھی تھے۔ شبانہ اعظمی کے والدین کی شادی میں بھی ان کا کردار کلیدی تھا اور ساحر لدھیانوی بھی آپ کے قریبی دوستوں میں شامل تھے ۔40سالہ کیریئر میں ہزاروں فلمی نغموں کے تخلیق کار خواجہ پرویز کا نام غلام محی الدین تھا ۔

(باقی پھر کبھی )

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے