پی آئی اے کے منجمد کردہ اکاؤنٹس بحال کردیے گئے

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے منجمد اکاؤنٹ بحال کردیے گئے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق اور سی ای او پی آئی اے ائیر (ر) مارشل ارشد ملک کی ملاقات ہوئی۔

سی ای او پی آئی اے کے مطابق ایف بی آر چیئرمین کو باور کروایا کہ پی آئی اے مشکل حالات کے باوجود حالیہ واجبات کی ادائیگی کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے وفاقی حکومت سے کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں رہنمائی لی جائے گی۔

خیال رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پی آئی اے کے اکاؤنٹس منجمد کردیے تھے۔

[pullquote]ایف بی آر نے قومی ایرلائن پی آئی اے کے اکاؤنٹس منجمد کردیے[/pullquote]

فیڈر بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )نے قومی ایرلائن پی آئی اے کے اکاؤنٹس منجمد کردیے۔

ذرائع ایف بی آر کے مطابق ٹکٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ادا نہ کرنے پر پی آئی اےکے بینکس اکاونٹ منجمد کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے نے پچھلے 2 سال سے ٹکٹ پر وصول کی جانے والی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جمع نہیں کرائی ، قومی ایئرلائن نے دو سال سے فیڈرل ایکسائز کے 4.50 ارب روپے ادا کرنے تھے ۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پی آئی اے کے 50 اکاونٹس منجمد کیے گئے ہیں جن سے 46 کروڑ 50 لاکھ روپے اب تک ریکوری کی گئی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پی آئی اے کے اکاؤنٹس 4 ارب روپے ٹیکس ریکوری تک منجمد رہیں گے ۔

[pullquote]ادارے کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش، پی آئی اے ترجمان[/pullquote]

ترجمان پی آئی اے نے ایف بی آر کے فیصلے کو پی آئی اے کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ مطلوب ٹیکس کی رقم 2016 سے2020 تک کی ہے، وفاقی کابینہ کا پی آئی اے کے اصلاحاتی عمل کے مکمل ہونے تک 2016 سے لے کر 2020 تک کی رقم منجمد رکھنے کا فیصلہ موجود ہے۔

ترجمان کے مطابق وفاقی کابینہ کے فیصلے کے متضاد ایف بی آر کا اکاونٹ منجمد کرنے کا فیصلہ پی آئی اے کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی پرچم بردار ادارے کی بین القوامی سطح پر بھی سبکی کا باعث بنے گی۔

ترجمان کے مطابق 2021 کے تمام بقایا جات پہلے سے ہی جنوری 2022 میں ادا کئے جارہے ہیں، پی آئی اے کے قومی ادارے اور حکومت پاکستان کی ملکیت ہونے باوجود ایسا قدم اٹھانا نا قابل فہم ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے