کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ کیلئے انعام کا اعلان

جمعیت علماء ہند نے بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ مسکان خان کیلئے انعام کا اعلان کردیا۔

بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی۔

کرناٹک میں کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

واقعے کی وائرل ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

اب جمعیت علماء ہند نے کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ کیلئے انعام کا اعلان کیا ہے۔

جمعیت علماء ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے طالبہ مسکان خان کیلئے 5 لاکھ بھارتی روپے انعام کا اعلان کیا۔

[pullquote]انتہاپسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانے والی طالبہ کون؟[/pullquote]

انتہاپسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانے والی طالبہ کا نام مسکان خان ہے اور وہ مہاتما گاندھی میموریل کالج اودوپی کی طالبہ ہیں۔

مسکان آج بھی کالج اسائمنٹ جمع کرانے گئیں تھیں جہاں انتہاپسند جتھے نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ طالبہ نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ جتھے میں موجود لڑکے میری طرف گندے اشارے بھی کرتے رہے۔

[pullquote]بھارتی ریاست کرناٹک میں باحجاب طالبات پر زندگی تنگ ہوگئی[/pullquote]

بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی ۔

کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔

کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

[pullquote]نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی[/pullquote]

ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

[pullquote]لڑکی کی گفتگو[/pullquote]

انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئےمذکورہ لڑکی نے کہا کہ ’میں کالج جا رہی تھی جب کچھ لوگوں نے مجھ پر الزام لگایا اور کہا کہ میں برقعہ اتارنے کے بعد ہی احاطے میں داخل ہو کتی ہوں، وہ مجھے اندر نہیں آنے دے رہے تھے۔‘

دوسری جانب کرناٹک میں چند روز قبل باحجاب طالبات کو حجاب کے باعث کالج میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبات کے احتجاج کےبعد انہیں کالج میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی تاہم انہیں علیحدہ کلاس رومز میں بٹھایا گیا۔

انتظامیہ کا کہنا تھاکہ طالبات کو کلاس میں آنے کی اجازت تب دی جائے گی جب وہ حجاب اتار کر اور کالج یونیفارم پہن کر آئیں گی۔

خیال رہے کہ کرناٹک میں کالج پرنسپل کی جانب سے گزشتہ ہفتے طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی لگادی گئی تھی جس کے بعد سے طالبات کالج کے باہر سراپا احتجاج تھیں۔

حجاب کا تنازع سامنے آنے کے بعد کرناٹک کی ریاستی حکومت نے یونیورسٹیز اور کالجوں میں یونیفارم کو لازمی قرار دیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے