میرا وجود

پہلے یہ جگہ اتنی آباد نہیں تھی۔ دوچار مکان تھے اور ایک آدھ دکان تھی جہاں کبھی کبھار کوئی گاہک نظر آجاتا تھا مگر اب کچھ عرصے سے وہاں لوگوں کی خاصی آمدورفت ہو گئی ہے اور اس کی وجہ ایک ایسا شخص ہے جس کے متعلق میں بعد میں آپ کو بتاؤں گا۔ پہلے میں کچھ اپنے بارے میں بتا دوں۔ میں زیادہ تر اپنے گھر میں رہتا ہوں، باہر نہیں نکلتا۔ نہ جانے لوگ کس طرح ہجوم میں شامل ہوکر ہاؤ ہو کرتے ہیں، مجھے تو یہ بالکل جہالت لگتی ہے۔ ویسے بھی میری ہیئت ایسی نہیں کہ میں زیادہ لوگوں میں خود کو سنبھال سکوں۔ میں اگر کہیں دو سے زیادہ لوگوں میں پھنس جاؤں تو میرا سانس اکھڑنے لگتا ہے اور میں فوراً اُس جگہ سے پرے ہو جاتا ہوں۔ میری ماں بتاتی ہے کہ میں شروع سے ہی ایسا ہوں، اُس نے کبھی مجھے دوسرے بچوں کے ساتھ گھر سے باہر کھیلنے نہیں بھیجا، اُس کا خیال تھا کہ بچے مجھے اپنے کھیل کے دوران پاؤں تلے روند ڈالیں گے۔ میرا سارا بچپن گھر میں ہی گزرا۔ جب بڑا ہوا تو ماں نے مجھے اسکول میں داخل کروانے کی کوشش کی، ایک آدھ مرتبہ مجھے ساتھ لے کر کسی اسکول میں بھی گئی مگر پھر راستے سے ہی واپس آگئی۔ شاید اسے اندازہ تھا کہ میں اسکول میں دوسرے بچوں کی طرح نہیں پڑھ پاؤں گا یا پھر میرے ہم عمر بچے مجھے کھا ہی جائیں گے۔

میری ماں کو اِس بات کا پوری طرح ادراک تھا، اسی لیے وہ مجھے دنیا کی نظروں سے بچا کر رکھتی تھی بلکہ اب تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے اُس نے کبھی کسی کو بتایا ہی نہیں تھا کہ دنیا میں میرا کوئی وجود ہے۔ کبھی اتفاق سے اگرآئینے پر میری نظر پڑ جائے تو اپنی ہیئت دیکھ کر سوچتا ہوں کہ آخر قدرت نے مجھ سے کس بات کا انتقام لیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے مدت سے آئینہ دیکھا ہی نہیں، شاید بچپن میں ایک مرتبہ میری ماں نے ہی گود میں لے کر مجھے آئینہ دکھایا تھا، اُس کے بعد نہ مجھ میں آئینہ دیکھنے کی ہمت ہوئی اور نہ ہی میری ماں نے یہ مناسب سمجھا۔ ایک مرتبہ اتفاقاً مجھے کھڑکی کے شیشے میں اپنا عکس نظر آگیا، روشنی کا زاویہ کچھ ایسا تھا کہ میری خود پر نظر پڑ گئی، آپ یقین کریں کہ میں خود کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا، مجھے لگا جیسے میں نے کوئی عجیب سی مخلوق دیکھ لی ہو، اُس دن کے بعد سے میں نے گھر سے باہر نکلنا بالکل ہی بند کردیا۔ بچپن میں اپنی ماں سے میں نے سنا تھا کہ جو لوگ میری طرح کے ہوتے ہیں انہیں قدرت کسی اور طرح نواز دیتی ہے۔ میں شاید اُن لوگوں میں سے ہوں جن پر قدرت کا کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا۔

خیر، تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ جہاں میں رہتا ہوں وہاں اچانک کچھ عرصے سے لوگوں کا رش بڑھ گیا ہے اور اِس کی وجہ ایک ایسے شخص کی آمد ہے جو لوگوں کی داد رسی کرتا ہے۔ داد رسی کے لفظ سے شاید آپ کے ذہن میں کسی پیر فقیر کا تصور ابھرے جو لوگوں کو تعویذ وغیرہ دیتے ہیں مگر یہ شخص اُن جیسا نہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ صبح سے اُس کے در پر آنا شروع ہوتے ہیں اور پھر رات گئے تک وہاں ہر قسم کے لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

ان میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی اُس سے اپنا روحانی علاج کرواتا ہے اور کوئی اُس سے مالی مدد کی درخواست کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ میں نے ابھی تک کسی ضرورت مند کو اُس کے در سے مایوس لوٹتے نہیں دیکھا، وہ ہر کسی کی مدد کرتا ہے۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ میں بھیڑ بھاڑ بالکل پسند نہیں کرتا مگر اِس شخص کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ اگر مجھ ایسا حقیر اور بےوقعت انسان اِس کے در پر جا کر مدد مانگے تو شاید یہ میری ہیئت بدل دے جس کے بعد میں بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکوں۔ میں نے آج تک اپنے لیے انسان کا لفظ استعمال نہیں کیا، مجھ میں ہمت ہی نہیں کہ خود کو انسان کہہ سکوں، انسان میری طرح نہیں ہوتے، میری طرح کے لوگ تو بس کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں۔ یہی سوچ کر میں نے ایک روز ہمت کی اور اپنے گھر سے باہر نکلا، میرا خیال تھا کہ شاید لوگ مجھے دیکھ کر حیرت کا اظہار کریں گے مگر یہ میری غلط فہمی تھی، کسی نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ میں بدقت تمام چلتا ہوا اُس شخص کے در پر پہنچا۔ میں ایک کونے میں لگ کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کب یہ بھیڑ چھٹے اور میں اُس شخص سے تنہائی میں اپنا مدعا بیان کروں۔ بالآخر رات گئے آخری سائل وہاں سے رخصت ہوا تو میں نے شکر کیا۔

میں فوراً اپنی جگہ سے اٹھا اور بدقت تمام اُس شخص کے پاس آیا اور اسے آواز دی لیکن مجھے لگا جیسے وہ شخص میری آواز نہیں سُن پایا۔ میں نے ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے اسے آواز دی۔ ’’اے مظلوموں کی داد رسی کرنے والے، سُن، میں تیرے قدموں میں پڑا ہوں، میری طرف دیکھ، میں تجھ سے مدد کا طالب ہوں‘‘۔ میرا خیال تھا کہ اِس مرتبہ وہ ضرور متوجہ ہوگا مگر میں نے دیکھا کہ وہ بدستور اپنی چیزیں سمیٹنے میں مگن ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ ہوسکتا ہے اسے میری آواز کی پہچان نہ ہو، آخر میری آواز بھی تو نارمل نہیں، کیوں نہ میں اسے اپنا بد ہیئت وجود دکھانے کی کوشش کروں۔ یہ سوچ کر میں نے اپنے وجود کو گھسیٹا اور بڑی مشکل سے اُس جگہ آ کر بیٹھ گیا جہاں سے باآسانی وہ شخص مجھے دیکھ سکتا تھا۔ ایک دفعہ پھر میں نے اسے آواز دی۔ اِس مرتبہ اُس نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا مگر ایسے جیسے کوئی چیز تلاش کر رہا ہو۔ جہاں میں دبک کر بیٹھا تھا وہاں بھی اُس نے اچٹتی سی نگاہ ڈالی۔ میں نے آخری مرتبہ پھر اسے آواز دی ’’خدا کا واسطہ ہے میری بات سنو، تم ہی میرے حاجت روا ہو، تم میری آخری امید ہو، میری طرف دیکھو‘‘ مگر مجھے یوں لگا جیسے میری آواز صرف میرے ہی کانوں کو سنائی دے رہی ہو۔ وہ شخص بےنیازی سے اٹھا اور اپنے مکان کا دروازہ بند کرکے اندر چلا گیا۔ میں بھی وہاں سے واپس چلا آیا۔ اُس دن کے بعد سے میں نے کبھی کسی سے مدد مانگنے یا اپنی حالت بدلنے کی دعا نہیں کی۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے