فیس بک کیخلاف مشہور شخصیات کے نام پر جعلی اشتہاری مہم چلانے کا مقدمہ درج

آسٹریلیا میں مشہور شخصیات کے نام پر جعلی اشتہاری مہم چلانے پر فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک ریگولیٹرکا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے جعلساز کرپٹو کرنسیز کے لیے دانستہ طور پر اشتہارات کا جھوٹا اور گمراہ کن طرز عمل اختیار کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی کو بھاری مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

میٹا کی جانب سے معاملے پر تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فام کا ماضی میں مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے جعلسازوں کو بے دخل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

آسٹریلیں کمپی ٹیشن اینڈ کنزیومر کمیشن (اے سی سی سی) کا کہنا ہے کہ فیس بک کا الگورتھم استعمال کرکے بننے والے متنازع اشتہارات میں آسٹریلیا کی مشہور شخصیات کے بوگس بیانات شامل کیے گئے۔

جعلی اشتہارات میں جن شخصیات کی اجازت کے بغیر ان کے الفاظ استعمال کیے گئے ان میں نیو ساؤتھ ویلز کے سابق وزیراعظم مائیک بیرڈ اور مشہور ٹی وی ہوسٹ ڈیوڈ کوچ کے علاوہ معروف کاروباری شخصیت ڈک اسمتھ شامل ہیں۔

اے سی سی سی چیئرمین روڈ سمز کے مطابق مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میٹا اپنے پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے اشتہارات کا ذمہ دار ہے۔

میٹا کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے فیڈرل کورٹ آف آسٹریلیا میں درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پلیٹ فام نے مشہور شخصیات کی جانب سے اعتراضات کے باوجود جعلسازی کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

چیئرمین کمیشن نے کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس طرح کے جعلسازی کے گمراہ کن اشتہارات کی وجہ سے صارفین کو 4 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر کا نقصان ہوا جو فیس بک کے لیے باعث شرمندگی ہے۔

خیال رہے کہ سماجی رابطوں کی مشہورایپ انسٹاگرام اور واٹس ایپ بھی میٹا کا حصہ ہیں اور میٹا نے گزشتہ برس دنیا بھر سے اشتہاری مہم کے ذریعے 115 ارب ڈالر کمائے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے