ڈی چوک پر دس لاکھ کارکن بتائیں گے کہ قوم کس کے ساتھ ہے : اسد عمر

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ شوکاز نوٹس ملنے کے بعد اکثر منحرفین واپس آنے کو تیار ہوگئے ہیں،ہم قانون کی حکمرانی کی جنگ لڑ رہے ہیں،عدم اعتماد کامیاب ہو بھی گئی تو ہمارا ایک ہی پلان ہے کہ ہم عوام کے پاس جائیں گے،بلاول ابھی بچہ ہے صرف رونا دھونا کرتا ہے،نمبر تو پورے نہیں ہو رہے اور شہباز شریف کہتے ہیں قومی حکومت بنائی جائے،ستائیس مارچ کو ڈی چوک پر دس لاکھ کارکن بتائیں گے کہ قوم چوروں کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ ہے۔

تفصیلات کے مطابق انصاف یوتھ ونگ اسلام آباد کے تحت 27 مارچ کو ڈی چوک پر دس لاکھ کارکن جمع کرنے کے حوالے سے سابق صدر انصاف یوتھ ونگ مبشر لطیف عباسی کی رہائش گاہ پر ایک پرتکلف عشائیہ کا انعقاد ہو ا جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر وجنرل سیکرٹری پی ٹی آئی اسد عمر تھے۔ رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان،ایڈووکیٹ جنرل نیازاللہ نیازی،جمشیدمغل،ملک ساجد،شہزادگل،عاصم ستی،زریاب شاہ،قاضی تنویر،انصاف یوتھ ونگ کے سابق سیکرٹری اطلاعات ساجد علی سمیت یوتھ ونگ کے کارکنوں کی کثیر تعداد بھی تقریب میں شریک تھی۔

اسد عمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پچاس سال میں پہلی بار ہم ملک میں ڈیم بنا رہے ہیں،تعلیم اور صحت پر توجہ دی ہے اورایچ ای سی کا بجٹ بڑھایا ہے،اسلام آباد میں تاریخی ترقیاتی کام کروائے ہیں،پولی کلینک اسپتال کی ایکسٹینشن کریں گے۔قومیں سڑکوں،عمارتوں اور اسپتالوں سے نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اور اچھے برے کی تمیز سے بنتی ہیں،ہم جو جنگ آج لڑ رہے ہیں یہ آنے والی نسلوں کے لیے ہے۔پندرہ سے بیس کروڑ بولی لگے تو جمہوریت کہاں رہ جاتی ہے؟۔ تین چار سو کروڑ سے ہمارا مستقبل خریدا جا رہا ہے،یہ حرام کا پیسہ ہے جو اس لیے لگایا جارہا ہے کہ مزید حرام کمایا جا سکے۔ میاں برادرانِ اور بمبینو سینما کی ٹکٹیں بیچنے والے امیر ترین بن چکے ہیں۔ یہاں سینیٹرز خریدے جا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن سوتا رہتا ہے،ہماری سیاست میں بکرا منڈی لگی ہوئی ہے،یہاں طوائف کوتو قانون سزا دیتا ہے لیکن ضمیر بیچنے والے کو پوچھا نہیں جاتا۔

انہوں نے کہاکہ اگر ہم عدم اعتماد ہار گئے تو عوام کے پاس جائیں گے۔ ایک بندہ اسلام کا ٹھیکیدار بنا پھرتا ہے کہتا ہے جوبائیڈن پوری دنیا کا لیڈر ہے۔ہم عمران خان کی جنگ میں اس کے ساتھ ہیں 63۔ اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر رہے ہیں۔یہ تاحیات نااہلی بنتی ہے۔ہم قانون ہاتھ میں لینے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ سندھ ہاؤس کے باہر تو دروازہ ٹوٹا لیکن اندر تو قانون توڑا جا رہا تھا۔مجھے پیغام دیے جارہے ہیں کہ شوکاز واپس لے لیں ہم سے غلطی ہوگئی۔اگرچہ ان کے لیے ہمارا دروازہ تو کھلا ہے لیکن یہ سب عوامی ردعمل کی وجہ سے ہوا ہے۔

تقریب سے خطاب میں علی نوازاعوان نے کہا کہ سندھ سے مارچ نہیں بلکہ ”مارچی“ اسلام آباد آئی تھی کسی کو پتہ نہیں چلا کہاں چلی گئی،نوجوان قوم کی امید ہیں انہیں عمران خان میں اپنا مستقبل نظر آتا ہے۔نوازشریف اور زرداری نے ایک دوسرے پر کیسز بنائے تھے اب اکٹھے ہو گئے ہیں،مولانا کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب نے دین پر سیاست کرنے والوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔عمران خان نے اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد اقوام متحدہ میں پاس کرائی ہے، صحت کارڈ کی سہولت دی، سنگل نیشنل کریکولم دیا۔عمران خان نے کورونا کے دوران عام لوگوں کا سوچا لیکن ان کو تکلیف ہو رہی ہے۔ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت امداد دی،صحت،تعلیم،کنسٹرکشن،بزنس کو بہتر کیا ہے۔

عمران کا قصور ڈومور سے انکار اور ایبسلوٹلی ناٹ کہنا ہے۔نیازاللہ نیازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عمران خان پوری دنیا کے لیڈر بن رہے ہیں یہ لوگ روڑے اٹکا رہے ہیں ہم ان کا ایجنڈہ پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ملک ساجدنے کہا کہ حق و باطل کی لکیر کھینچ دی گئی ہے اب فیصلہ ہو جائے گا۔انصاف یوتھ ونگ کے سابق صدراور عشائیہ کے میزبان مبشر لطیف عباسی نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی قیادت کے حکم پر نوجوان عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ قیادت کو چاہیے کہ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کو آئندہ ٹکٹ دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے نوجوان ان چوروں اور لٹیروں سے تنگ آ چکے ہیں اور ستائیس مارچ کو جلسہ میں بھرپور شرکت کر کے پوری دنیا کو پیغام دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے