چین میں گزرے 14 برس کا قصہ : روداد سفر (حصہ 15)

ایڈیٹر نوٹ

شاکر ظہیر صاحب ، علمی اور ادبی ذوق کے مالک ایک کاروباری شخصیت ہیں . انہوں نے اپنی زندگی کے 14 برس چین میں گذارے . اس دوران انہوں نے چینی معاشرے ، نظام حکومت ، ثقافت سمیت پوری تہذیب کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے . اس سیریز میں انہوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات لکھے ہیں . ان کے مضامین روزانہ صبح گیارہ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق ) آئی بی سی اردو پر شائع ہوں گے . آپ کمنٹ باکس میں ان سے سوال بھی کر سکتے ہیں اور اپنا فیڈ بیک بھی دے سکتے ہیں .

سبوخ سید : ایڈیٹر آئی بی سی اردو ڈاٹ کوم

2008 میں میری شادی ہوئی ۔ میری بیوی کا تعلق چائنا کے صوبے Gansu سے تھا ۔ یہ Ning xia کے مسلمان علاقے کے ساتھ ہے اور اس کا مرکزی شہر Lanzhou ہے ۔ اس صوبے میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے ۔ میری بیوی کام کے سلسلے میں yiwu شہر میں مقیم تھی اور ہول سیل مارکیٹ میں کسی جیولری کی شاپ پر کام کرتی تھی ۔

نکاح صوبہ Yunnan جو ویتنام کے بارڈر کے ساتھ سے تعلق رکھنے والے ایک مولوی صاحب نے پڑھایا ۔ جن کے گھر نکاح ہوا وہ بھی Yunnan صوبے سے تعلق رکھنے والی تھیں اور ہمارے ساتھ ہی ان کے بھائی کا ایک نومسلم جو Guizhou صوبے سے تعلق رکھتی تھی میمونہ ، ان کا نکاح ہوا ۔ یہ سارے لوگ yiwu شہر میں کام کے سلسلے میں مقیم تھے ۔ اس دوسری نو مسلم میمونہ سے میں نے پوچھا کہ آپ کے مسلمان ہونے کی کہانی کیا ہے تو اس نے بتایا کہ ان کا ایک کلاس فیلو مسلمان تھا جو اسے بہت پسند تھا جس کی وجہ سے اس نے اسلام کو پڑھنے کےلیے ایک مدرسے کا رخ کیا اور وہیں سے عربی بھی سیکھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس لڑکی میمونہ سے شادی کےلیے اس لڑکے کے گھر والے راضی نہیں ہوئے ۔ شادی کے وقت میمونہ کی نند نے میری بیوی کو پہنے کےلیے ایک سکاف دیا اور اسے پہنایا ۔ اس کے بعد میری بیوی نے خود ہی سکاف کا گھر میں ڈھیر لگا دیا ۔ ہمارا ان لوگوں سے رابطہ ایک لمبے عرصے تک رہا ۔ نکاح پڑھانے والے اور یہ گھر والے بھی پرانے دیوبندی تھے اور کٹر تبلیغی ۔ پتہ نہیں کیوں یہ میری بیوی کو پسند نہیں آئے سوائے اس نو مسلم میمونہ کے جو اس کے لمبے عرصے تک بہت اچھی دوست رہی اور ہمارے گھر اکثر آتی جاتی تھی ۔ یہ نسلی مسلمانوں کا دوسرا تعارف تھا میری بیوی کا ۔ پہلا تعارف میں تھا ۔

میں نے اپنی بیوی سے کبھی کوئی بات اسلام کے متعلق خود زبردستی نہیں کی ۔ میں نماز پڑھتا اور وہ پہلے بیٹھ کر مجھے دیکھتی رہتی پھر اس نے مجھ سے تھوڑی تھوڑی کر کے خود ہی سیکھنے کی ابتداء کی ۔ سکاف کے اسے وہ وہ سٹائل آتے تھے جو میں بھی دیکھ کر حیران رہ جاتا ۔ اس نے خود ہی اپنا میل جول نسلی مسلمانوں سے بڑھایا ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اسے نسلی مسلمانوں میں مجھے سمیت کوئی پسند نہ آیا ۔ لیکن وہ خود شوق سے نماز بھی سیکھتی اور اپنے لیے خود ہی کپڑے پوری آستینوں والے سلیکٹ کرتی تھی ۔ مجھے کبھی بھی یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ کیا وہ پہن سکتی ہے کیا نہیں ۔ اس نے مجھ سے پاکستانی کھانا پکانا سیکھا اور پھر ماہر ہو گئی ۔ ہمارے گھر میں اس کی مرضی چائنیز کھانا پکائے یا پاکستانی ۔ دونوں ہی بہرحال بہت شوق سے بناتی تھی ۔ جیسے جیسے اس کے روابط نسلی مسلمانوں سے ہوتے گئے ویسے ویسے اس پر اکتاہٹ طاری ہوتی گئی ۔ بہرحال میں بھی جہاں ضروری سمجھتا جواب دے دیتا ورنہ خاموشی سے سن لیتا ۔ اس وقت تک میرا اپنا بھی مطالعہ صرف مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب تک محدود تھا ۔

یہ میرا تجربہ ہے اور میں یہ بات دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ جب تک آپ غیر مسلم یا نو مسلم کے ساتھ نہیں رہتے نہ آپ کو اپنے دین کی سمجھ آ سکتی ہے اور نہ اسلام کو آپ دلائل سے سمجھ سکتے ہیں ۔ ہم کیونکہ روایتی مسلمان ہیں اس لیے بہت سی باتیں ہمارے لیے قابل توجہ ہی نہیں ہوتیں ۔ لیکن نان مسلم یا نو مسلم جس نے باہر کھڑے ہو کر جائزہ لینا ہوتا ہے وہ ایک ایک چیز کو نوٹ بھی کر رہا ہوتا ہے اور اسے دلائل بھی فراہم کر رہا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس نے اپنے ذہن میں عقائد و نظریات کا ایک نیا سٹرکچر کھڑا کرنا ہوتا ہے ۔ اور جو نظریات یا عقائد اس کے ذہن میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں جنہیں اس نے اپنی زندگی کے شروع سے لے کر اس وقت تک تعمیر کیا ہوتا ہے اسے اس نےگرانا بھی ہوتا ہے۔ اس گرانے کے عمل کے دوران وہ نئے اور پرانے موجود نظریات و عقائد کا تقابلی جائزہ بھی لے رہا ہوتا ہے ۔ یہ بہت مشکل اور تکلیف دہ کام ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان نئے نظریات کے مطابق ہی اس نے خود اپنا ، اپنے گھر والوں کا اور معاشرے کا سامنا کرنا ہوتا ہے ۔ جو اس نئی شخصیت کو کیسے قبول کرتے ہیں یہ الگ مسئلہ ہے ۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ جنگ ہر وقت اس کے ذہن میں جاری رہتی ہے ۔

اس میں شاید سب سے بڑا مسئلہ اس نو مسلم کے گھر میں پیش آتا ہے جن لوگوں کے ساتھ اس نے زندگی گزاری ہوتی ہے اور جو اس کےلیے سہارا ہوتے ہیں ۔

پھر وہ خود اپنے لیے اپنے گھر والوں اپنے دوست احباب جاننے والوں کےلیے ایک تعارف بھی ہوتا ہے اور اسے سب سے زیادہ اس سوال کا سامنا پڑتا ہے کہ اس نے اپنے آبائی مذہب و نظریات کو کس بنیاد پر ترک کیا ہے اور نئے کو کس بنیاد پر قبول کیا ہے ۔ یہ امتحان سوال و جواب کا اسے ہر روز پیش آتا ہے اور مختلف شکلوں اور مختلف لوگوں سے ۔ یعنی وہ خود نہ بھی چاہے لیکن اسے مجبوراً خود کو ہر لحاظ سے اپ ٹو ڈیٹ ( up to date ) رکھنا پڑتا ہے ۔ یوں سمجھ لیں یہ امتحان اسے ہر روز اور لمبے عرصے تک پیش رہتا ہے ۔ اس لیے اس کے سوالات بھی وہ ہوتے ہیں جو ہم روایتی مسلمانوں نے کبھی سوچے بھی نہ ہوں ۔ اسی لیے ہمارے علماء بھی اس امتحان میں فیل ہی ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کا مطالعہ صرف اور صرف اپنے معاشرے ماحول اور پہلے سے موجود مسلموں کے لحاظ سے ہوتا ہے ۔ یا یہ آپس ہی میں تیتر بٹیر لڑا رہے ہوتے ہیں ۔

اگر اس کے اشکالات کو دور نہ کیا جائے اور اسے سہارا نہ دیا جائے تو یہ معاشرے میں دوبارہ گم ہو جاتے ہیں ۔ اور خاص کر غیر مسلم سوسائٹی میں نو مسلم ایک بالکل ہی اجنبی بن جاتا ہے اور اس سوسائٹی سے un match ۔ اس کےلیے بہت حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے لوگوں کو باہر سے کبھی حکم نہیں دینے چاہیں بلکہ انہیں خود اپنے ماحول میں اپنی تدبیر سے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کو سراہنا چاہے اور کمپنی دینی چاہیے ۔ اسی عقائد و نظریات کی نئے سرے سے تعمیر میں ایک نو مسلم کےلیے وہ مقام بھی آتا ہے جہاں وہ اپنے رسوم و رواج اور پرانے نظریات و عقائد کو نئے کے ساتھ مکس کرنا بھی شروع کر دیتا ہے کہ کچھ چیزیں وقتی طور پر اسے اتنی عزیز ہوتی ہیں یا انہیں یک دم چھوڑنا اس کےلیے ممکن نہیں ہوتا ۔ تو یہاں پر اسے کسی طور پر بھی گنجائش اور وقت دینے چاہیے اور صرف نظر کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اس نے بہرحال رہنا اسی معاشرے میں ہوتا ہے ۔

یہ معاملہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب اس نو مسلم کا شویر یا بیوی پہلے سے مسلم ہو ۔ اب اس نو مسلم کو خود اپنا ہی نہیں بلکہ اپنے لائف پارٹنر کے بھی ہر عمل کی وضاحت دوسروں سے کرنی پڑتی ہے ۔ بلکہ اسے اس بات کی بھی وضاحت کرنی پڑتی ہے اور دلائل دینے پڑتے ہیں کہ اس نے یہ مسلمان پارٹنر کیوں چنا ۔

مذہب تبدیل کرنا ۔۔ نیا مذہب اختیار کرنا۔۔ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے ، انسان کی پوری شخصیت ، انسان کے باطن اور خارج کی ساری دنیا ، سب کچھ اجنبی ہو جاتا ہے ۔ بغیر کسی بڑی وجہ کے ، بغیر کسی مضبوط دلیل کے اتنی بڑی قربانی دینا آسان نہیں ہوتا۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ ہم نسلی مسلمان ، اس ماحول سے صدیوں کے فاصلے پر ہیں جو ماحول ایک نومسلم کو ملتا ہے ، اور پھر بھی اچھل اچھل کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ، لیکن یہ سروے کسی نے شاید ہی کیا ہو کہ ان لوگوں میں سے کتنے لوگ ہیں جو واپس اسی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں، جہاں سے آئے ہوتے ہیں ۔ کسی غیر مسلم کو کلمہ پڑھانے اور دائرہ اسلام میں داخل کرنے کے بعد بات ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اصل مسائل تو اس کے بعد شروع ہوتے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے