منگل : 22 مارچ 2022 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]یوکرینی شہر بوریسپل کے میئر کا شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کا مشورہ[/pullquote]

یوکرین کے شہر بوریسپل کے میئر نے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ اگر ہو سکے تو وہ اس شہر سے نکل جائیں۔ یہ شہر ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع ہے۔ اس شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ایئر پورٹ بوریسپل انٹرنیشنل ایئر پورٹ کہلاتا ہے۔ شہر کے میئر نے کہا ہے کہ لڑائی پھیلتی جا رہی ہے اور اب نواحی علاقوں تک میں جھڑپیں ہو رہی ہیں، اس لیے جو شہری وہاں سے نکل سکتے ہیں، نکل جائیں۔ بوریسپل کے میئر بوری سینکو نے ایک ویڈو خطاب میں کہا کہ اب اس شہر میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں اور عوام موقع ملتے ہی یہ شہر چھوڑ دیں۔

[pullquote]چائنا ایسٹرن ایئر لائن کے تباہ شدہ مسافر طیارے کا ملبہ جمع کرنے کا کام جاری[/pullquote]

چائنا ایسٹرن ایئر لائن کے کل پیر کے روز حادثے کا شکار ہو جانے والے مسافر طیارے کا ملبہ جمع کرنے کا کام جاری ہے۔ یہ مسافر طیارہ دوران پرواز ناقابل فہم وجوہات کے باعث کریش ہو کر ایک پہاڑی علاقے میں جا گرا تھا۔ طیارے میں 132 افراد سوار تھے۔ اس بوئنگ طیارے میں سوار افراد میں سے کسی کے بھی زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں۔ چائنا ایسٹرن ایئر لائن کا یہ مسافر طیارہ چینی شہر ووژو کے قریب کریش ہوا تھا۔ یہ پرواز صوبے یُو نان سے شروع ہو کر مشرقی ساحلی علاقے کے صنعتی مرکز گوانگ ژو جا رہی تھی۔

[pullquote]جرمنی کے آٹھ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی عملے کی ہڑتال[/pullquote]

آج منگل 22 مارچ کو جرمنی کے آٹھ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی عملے کی ہڑتال کے سبب معمول کی کارکردگی میں خلل دیکھنے میں آیا جبکہ متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ متاثرہ ہوائی اڈوں میں جرمنی کا مصروف ترین فرینکفرٹ ایئر پورٹ، برلن، بریمن، ہیمبرگ، ہینور، اشٹٹ گارٹ، ڈسلڈورف اور کولون بون ایئر پورٹ شامل ہیں۔ کارکنوں کی ٹریڈ یونین کے مطابق یہ ہڑتال تنخواہوں میں اضافے کے لیے کی جا رہی ہے۔ آجرین کے ساتھ تنخواہوں میں اضافے سے متعلق مذاکرات پرسوں جمعرات کو متوقع ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی جرمنی کے متعدد ہوائی اڈے سکیورٹی عملے کی ہڑتال سے متاثر ہوئے تھے۔

[pullquote]نازی اذیتی کیمپوں میں بچ جانے والا یوکرینی باشندہ روسی حملے میں ہلاک[/pullquote]

وفاقی جرمن پارلیمان میں آج منگل کے روز نازی دور میں مختلف اذیتی کیمپوں میں جانے کے بعد بھی زندہ بچ جانے والے 96 سالہ یوکرینی باشندے بورس رومان چینکو کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس یوکرینی باشندے کی موت گزشتہ ہفتے یوکرینی شہر خارکیف پر کیے گئے روسی حملے کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ اس کی موت کی اطلاع جرمنی کے بوخن والڈ نازی اذیتی کیمپ میموریل نے کل پیر کے روز دی تھی۔ رومان چینکو کی پوتی نے بتایا کہ ان کے دادا یوکرین کے شہر خارکیف کی جس کئی منزلہ عمارت میں رہائش پذیر تھے، اسے روسی فوج نے ایک میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔ آج ہی برلن میں جرمن پارلیمان کے ایک اجلاس کے ابتدائی سیشن میں تمام ارکان نے بورس رومان چینکو کو خراج عقیدت پیش کیا۔

[pullquote]روس یوکرین کے خلاف کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، بائیڈن کا انتباہ[/pullquote]

امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق یہ روسی الزامات غلط ہیں کہ کییف کے پاس حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ یہ روسی الزامات واضح کرتے ہیں کہ روسی صدر پوٹن یوکرین کے خلاف جنگ میں خود ایسے ہتھیار استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ بائیڈن نے اپنے اس موقف کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ یوکرین میں روس کی طرف سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد جمع کرنے میں مدد کو تیار ہے۔

[pullquote]آئندہ ہفتوں میں پناہ کے متلاشی مزید لاکھوں یوکرینی باشندوں کے یورپی یونین میں داخلے کا امکان[/pullquote]

یورپی یونین کے رکن ممالک کا خیال ہے کہ یوکرین سے آئندہ ہفتوں کے دوران پناہ کے متلاشی مزید لاکھوں باشندے یورپی یونین میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے یونین کے برسلز منعقدہ ایک وزارتی اجلاس میں کہا کہ اگلے چند ہفتوں میں یوکرین سے مزید آٹھ سے دس ملین تک مہاجرین یونین کے رکن ملکوں میں پہنچ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں اب تک 65 لاکھ شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 35 دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ ان میں سے صرف پولینڈ میں ہی 2.1 ملین یوکرینی شہریوں نے پناہ لی ہے۔ جرمنی میں تاحال سوا دو لاکھ یوکرینی مہاجرین رجسٹر کیے جا چکے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کی حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو۔

[pullquote]سویڈش اسکول میں پرتشدد واقعے میں دو خواتین ہلاک[/pullquote]

سویڈن کے شہر مالمو کے ایک ہائی اسکول میں ایک پرتشدد واقعے میں دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق دونوں خواتین اسکول کے عملے کی رکن تھیں اور ان کی موت تشدد کے نتیجے میں ہوئی۔ اس دوہرے قتل کے شبے میں ایک 18 سالہ طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس خونریز واقعے کا پس منظر تاحال غیر واضح ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ مشتبہ ملزم اکیلا ہی اس واقعے کا ذمے دار ہے۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق حملہ آور مبینہ طور پر خنجر اور کلہاڑی سے مسلح تھا۔

[pullquote]جرمن ٹرین میں چاقو زنی کے واقعے کا محرک غالباً مسلم انتہا پسندی تھی، دفتر استغاثہ[/pullquote]

جرمن شہر میونخ کے دفتر استغاثہ کے مطابق چار ماہ قبل ایک ہائی اسپیڈ انٹرسٹی ٹرین میں چاقو زنی کے واقعے کا تعلق غالباﹰ مسلم انتہا پسندانہ سوچ سے تھا۔ اس لیے اب یہ معاملہ شہر کارلسروہے میں وفاقی اٹارنی جنرل کے دفتر کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ برس چھ اکتوبر کو جنوبی جرمن ریاست باویریا کے شہر ریگنزبُرگ سے نیورمبرگ کی طرف رواں ایک انٹر سٹی ایکسپریس میں پیش آیا تھا۔ ایک 27 سالہ مبینہ ملزم نے 26 سے لے کر 60 برس تک کی عمر کے چار مسافروں کو چاقو سے حملے کر کے زخمی کر دیا تھا۔ ملزم ایک شامی باشندہ ہے جو اس وقت سے زیر حراست ہے۔ تفتیشی ماہرین کے مطابق ملزم کے قبضے سے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی پروپیگنڈا ویڈیوز بھی برآمد ہوئی تھیں۔

[pullquote]یوکرینی صدر کل بدھ کو جاپانی پارلیمان سے ورچوئل خطاب کریں گے[/pullquote]

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کل بدھ کے روز جاپانی پارلیمان سے ورچوئل خطاب کریں گے۔ زیلنسکی اپنی ایسی کوششوں سے یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں کییف کے لیے بین الاقوامی حمایت کے لیے کوشاں ہیں۔ ماضی کے اپنے سفارتی رویے کے برعکس جاپان یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے بعد سے ماسکو کے خلاف سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ ماسکو سے متعلق ٹوکیو کے نئے سخت رویے سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ یوں چین کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا نیا موقع مل جائے گا۔ صدر زیلنسکی کے جاپانی پارلیمان سے خطاب کا دورانیہ تقریباﹰ دس منٹ ہو گا۔

[pullquote]اگر روس نے سائبر حملے کیے، تو مناسب جواب دیں گے، امریکی صدر[/pullquote]

امریکی صدر جو بائیڈن نے ملکی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ روس کی طرف سے ممکنہ سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے بہتر حفاظتی اقدامات کریں۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ اس بات کے کافی ثبوت موجود ہیں کہ روس مغربی دنیا کی طرف سے اپنے خلاف اقتصادی پابندیوں کے جواب میں سائبر حملوں کا راستہ اپنانے کا جائزہ لے رہا ہے۔ سائبر سکیورٹی کی ذمے دار سلامتی کی مشیر این نوئبیرگر کے مطابق امریکہ روس کے ساتھ تصادم کا خواہش مند نہیں، لیکن اگر ماسکو نے امریکی مفادات پر سائبرحملے کیے، تو پھر ان پر ردعمل بھی ہو گا۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے