ٹی بی کے عالمی دن کے موقع پر چینی صدر ژی جنپنگ کی اہلیہ کا ویڈیو کانفرنس سے خطاب

ٹی بی کی روک تھام سے متعلق حکمت عملی صحت مند چین کی پالیسیز کا لازمی جزو ہے۔
(خصوصی رپورٹ):-
چینی صدر ژی جنپنگ کی اہلیہ اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی خیر سگالی سفیر برائے تپ دق (ٹی بی) اور ایچ آئی وی/ایڈز پینگ لئیون نے گزشتہ روز (مارچ 25) کو تپ دق کے عالمی دن 2022 کے موقع پر ایک ویڈیو کانفرنس میں شرکت کی۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں پینگ نے کہا، "حالیہ برسوں میں، ڈبلیو ایچ او کی محنت اور بین الاقوامی برادری کی مشترکہ کوششوں کی بدولت، دنیا نے ٹی بی کے خلاف جنگ میں قابل ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔”
"چینی حکومت ٹی بی کی روک تھام اور علاج کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسے صحت مند چین کی حکمت عملی میں شامل کیا ہے۔ اور اس حوالے سے خصوصی فنڈز قائم کیے گئے ہیں، مریضوں کو مفت جانچ پڑتال اور ٹی بی کی روک تھام سے متعلق ادویات فراہم کی جاتی ہیں، اور اسکیساتھ ساتھ نئی تشخیصی ٹیکنالوجی اور ادویات کے حوالے سے اقدامات کو بھر پور انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہی جاری اقدامات اور عوامل کے نتیجے میں، ٹی بی کے علاج کی شرح 90 فیصد سے اوپر ریکارڈ کی گئی ہے،”
چینی صدر ژی جنپنگ کی اہلیہ پینگ نے مزید واضح کیا کہ چینی حکومت اور معاشرے کے تمام شعبے فعال طور پر ٹی بی کے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اس وبائی مرض سے کوئی متاثر نہ ہو اور متاثرہ مریضوں کا بروقت علاج یقینی بنایا جائے۔
پینگ نے اس حوالے سے چین میں ٹی بی کی روک تھام اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کا حصہ ہونے کے حوالے سے اپنا تجربات بھی شیئر کیئے، کیونکہ وہ گزشتہ برسوں میں ٹی بی روک تھام پروگرام کے حوالے سے کئی طبی اداروں، اسکولوں اور کمیونٹیز کا دورہ کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا، "چین میں، 10 لاکھ سے زیادہ رضاکار ٹی بی کی روک تھام اور علاج کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے اور ٹی بی کے مریضوں کی مدد اور علاج کے لیے کام کر رہے ہیں۔”
یہاں یہ امر واضح رہے کہ گزشتہ دنوں 24 مارچ کو تپ دق (ٹی بی) کا 27 واں عالمی دن منایا گیا۔ قدیم ترین متعدی بیماریوں میں سے ایک کے طور پر، ٹی بی نے دنیا کو صدیوں سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کے باوجود بڑھتی ہوئی بیداری اور اسے ختم کرنے کے مضبوط عزم کے باوجود، بیماری مسلسل دنیا کے کئی ممالک میں جاری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے