” گیم از اوور "

میں اپنے آفس میں معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان محترمہ عائشہ ثنا کی کال آئی ، وہ سخت جھنجھلائی ہوئی تھیں ، اور ایوان صدر کی جانب سے 14 اگست کی تقریب میں بطور میزبان اپنا نام ڈراپ ہونے پر شدید ناراضگی کا اظہار کر رہی تھیں ،انہیں اس پروگرام کی میزبانی کے لیے اسائن کیا گیا تھا جس کے لیے وہ بطور خاص کراچی سےآئی تھیں ، مگر انہیں شک تھا انکے سابق شوہر کی مداخلت کی وجہ سے انہیں ڈارپ کیا گیا اور انکی انسلٹ کی گئی، اور وہ اس معاملے میں مدد کی خواں تھیں ۔

میں نے انہیں تسلی دی اور ایوان صدر اپنے ” ذرائع ” سے بات کی ، جنہوں نے انکا نام ڈراپ کرنے والے بااثر صاحب سے بات کرکے انہیں دوبارہ میزبانی سونپنے کی یقین دھانی کرا دی لیکن اس کارخیر کے بدلے مجھے بھی ایک اہم ذمہ داری سونپ دی .

ایوان صدر ان دنوں اپوزیشن کے گھٹ جوڑ سے پریشان تھا ،میں نے پیپلز پارٹی میں اپنے دوستوں سے معلومات لیں تو ان انکشافات نے ایوان صدر کی چولیں ہلا ڈالیں کہ صدر صاحب کے خلاف مواخذہ کا ڈرافٹ تیاری کے مراحل میں ہے اورن لیگ ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں صدر صاحب کی رخصتی سے کم کسی قیمت پر راضی نہیں ،سونے پر سہاگہ راولپنڈی کی طاقت ور ترین بھی آن بورڈ اور ان کی اشیرباد انہیں حاصل ہو چکی تھی ، جبکہ ایوان صدر کو اس کے ماتحت ادارے ” سب اوکے” کی غلط انفارمیشن دے کر اندھیرے اور خوش فہمیوں میں مبتلا کیے ہوئے تھے ۔

ایسا نہیں ہو سکتا کہ سب سے طاقتور شخصیت اپنے انجام سے بے خبر ہو لیکن یہ حکمران کسی صورت اقتدار سے رخصتی پر تیار نہیں ہوتے اور آخری دم تک اقتدار سے چمٹے رہنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ایوان اقتدار میں پروقار داخلے کی طرح حالات ہمیشہ انکی چالوں کے زیراثر رہیں گے اور انکے دشمن نامراد ہی ٹہریں گے اور یہی خواب و خیال انکے خوفناک انجام کا سبب ٹھرتے ہیں ۔

دوسرے دن جب میں صدر مشرف کے دور میں آخری بار ایوان صدر گیا تو طاقت ور ترین صدر کا چہرہ اترا ہوا، بیگم صہبا مشرف صاحبہ کی رنگت پھیکی پڑی ہوئی تھی ، ایوان صدر کے در و دیوار کی رنگینیاں ماند پڑ رہی تھیں ، مگر انہیں کسی ” انہونی” کی امید نے حد سے زیادہ پرامید کر چھوڑا تھا اس کے مکین اپنے خوفناک انجام سے نظریں چرائے مستقبل میں اپنی کرسی کی مضبوطی کے لیے شطرنج کی چال چلنے کو بے تاب تھے ۔

میرے ساتھ کھانے کی میز پر سابق وزیر اعلیٰ مرحوم جام یوسف ، سنیٹر میر نصیر مینگل اور دوسرے عمائدین موجود تھے اور وہ صدر صاحب کی ممکنہ رخصتی کے اسباب پر گفتگو کر رہے تھے کہ جام یوسف مرحوم مجھ سے میرا نقطہ نظر جاننے کے لیے زور دے رہے تھے، خاموش طبیعت بلوچ سردار کو اس وقت مذاق سوجھ رہی تھی جبکہ ایوان صدر کے مکین کن اکھیوں سے ہمیں ناپسنددیگی کی نگاہ سے تکے جا رہے تھے ۔

اسی دوران ایک اہلکار نے مجھے کہا کہ جام صاحب کو صدر صاحب یاد فرما رہے ہیں ، میں نے انکی باتوں کو روک اس بابت آگاہ کیا تو وہ اور جذبات میں بہک کر کہنے لگے ، جاو مڑا ، میں نہیں جاتا ، اور ہاں ان سے بول دو ” گیم از اوور ”

میں نے پیغام رساں کو کہا کہ حالات آپ دیکھ ہی رہے ہیں ، کیا بہتر نہیں ہو گا ، کہ صدر صاحب دوستوں سے مشاورت کریں اور کوئی لائحہ عمل طے کر لیں ۔

جواب ملا کہ صدر صاحب ” کمانڈو ” فولادی اعصاب کے مالک اور کسی سے "ڈرتے ورتے” نہیں ہیں وہ کببھی ہار نہیں مانیں گے ، آپ سب بھی "تگڑے ” ہو جائیں ۔

پھر تاریخ نے دیکھا کہ ہمیں ” تگڑے ” رہنے کا درس دینے والے صرف تین دن بعد 18 اگست کو خود ہی مستعفی ہو کر چپکے سے چک شہزاد جا بسے ۔

میری زیر طبع کتاب "اقتدار کی سرگوشیاں ” سے ایک اقتباس ?

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے