ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ڈپٹی سپر انٹینڈنٹ آف پولیس صغیر عباس کے مطابق تین عورتوں نے مل کرمدرسے کے باہر معلمہ کا اس وقت قتل کیا جب وہ رکشے میں مدرسے آرہی تھیں، رکشے سے اتر کر جیسے ہی وہ مدرسے کی گلی میں داخل ہوئیں تو تین خواتین نے انہیں پکڑ لیا اور چاقؤں اور چھریوں سے وار کیے۔‘ ان کو کیا ہے۔ ان تینوں عورتوں کو ہم نے حراست میں لے لیا ہے۔ڈیرہ اسمٰعیل خان پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق بتایا کہ پولیس نے آلۂ قتل چاقو، چھری اور ڈنڈہ بھی برآمد کر لیا ہے۔حراست میں لی گئی خواتین کے حوالے سے پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ہی مدرسے کی فارغ التحصیل طالبات ہیں اور ان کی آپس میں کوئی رنجش تھی۔‘
ڈیرہ اسماعیل خان:جمیعت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے طالبات مدرسے کی معلمہ کو مبینہ طور توہین مذہب کے الزام میں تین طالبات نے مدرسے کے باہر چھریوں سے حملہ کر کے ذبح کر دیا۔پولیس کے مطابق تینوں طالبات نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر قتل کیا ۔#DIKhan pic.twitter.com/5Gzh79oYFM
— Sabookh Syed | سبوخ سید (@SaboohSyed) March 29, 2022
مقامی صحافی نصرت گنڈا پور کے مطابق مقتول خاتون کے خاندان والے ملک سے باہر رہتے ہیں اور وہ اپنے چچا کے گھر میں رہتی تھیں۔نصرت گنڈاپور کا کہنا تھا کہ
خیبرپختونخوا کے شہر ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ’ذاتی رنجش‘ کی بناء پر تین خواتین نے مدرسے کی ایک معلمہ کو چھریوں کے وار سے قتل کردیا ہے۔پولیس کے مطابق واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ کینٹ کی حدود میں انجم آباد کے علاقے میں پیش آیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے اور ایس پی انویسٹی گیشن اسلم خان کی نگرانی میں واقعے کی تفتیش جاری ہے۔