امریکہ چین مخالف پراپیگنڈہ پھیلا کر یوکرین بحران پر اپنی ذمہ داریوں سے بری الزمہ نہیں ہو سکتا۔

(خصوصی رپورٹ):-
حال ہی میں، یوکرین کے معاملے پر چین پر تہمت لگانے اور بدنام کرنے کے لیے امریکہ میں کچھ سیاست دان اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے بار بار من گھڑت اور غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ کی جانب لزام تراشی کے لیے افواہیں گھڑنے کا عمل حقائق کے اعتبار سے انتہائی نا معقول اور فضول ثابت ہوا ہے۔

اس طرح کی کارروائیاں یوکرین کے بحران کے حوالے سے امریکہ کو اسکی متعلقہ ذمہ داریوں سے بری الزمہ نہیں کر سکتیں۔ اس کے برعکس، امریکی میڈیا اور سیاسی قیادت کے اس بے بنیاد پراپیگنڈے نے مسائل کو ہوا دینے اور دنیا کو ممکنہ خانہ جنگی اور ابتلا میں رکھنے کے خطرناک ارادے کو دنیا بھر پر مزید عیاں کر دیا ہے۔

یوکرین کے مسئلے کا ارتقاء ایک ایسی امر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جسے چین کسی طور دیکھنے کا خواہاں نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر، چین ہمیشہ عالمی مسائل اور واقعات کے حوالے سے ایک معروضی، منصفانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، اور چین نے ہمیشہ اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ کسی بھی معاملے پر تمام متعلقہ عوامل کو پرکھتے ہوئے ایک آزادانہ اور میرٹ پر مبنی موقف اختیار کیا جائے۔

یوکرین کے مسئلے کے پیش نظر دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ایک پیچیدہ تاریخی پس منظر ہے، جسے ٹھنڈے دل و دماغ اور عقلی تقاضوں سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

چین کا خیال ہے کہ موجودہ بحران کے حل کے لیے تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو برقرار رکھنا چاہیے اور تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اور تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے،

اس کیساتھ ساتھ
ناقابل منقسم سلامتی کے اصول پر عمل یقینی بنایا جانا چاہیے اور اس میں شامل فریقین کے جائز تحفظات کو پورا کیا جانا چاہیے۔ تنازعات کو پرامن طریقے سے بات چیت اور گفت و شنید کے ذریعے حل ضروری ہے، اور خطے کے طویل مدتی امن اور استحکام کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور ایک متوازن، موثر اور پائیدار یورپی سلامتی کے ڈھانچے کو قائم کیا جانا ضروری ہے۔

یوکرین کے معاملے پر چین کا موقف ایک اوپن اور واضح امر کی طرح ہے اور یوکرین کے بحران کے حل کے لیے اس کی تجاویز مثبت اور تعمیری ہیں۔

اس وقت یوکرین کے بحران کے حل میں اولین ترجیح یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی کے شعلوں میں ایندھن ڈالنے کے بجائے امن مذاکرات کو فروغ دینا ہے۔

چین ہمیشہ کی طرح امن، تعاون، انصاف اور انصاف کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اور چین نے ہمیشہ کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت کی ہے جس سے کشیدہ صورتحال کو کم کرنے اور بحران کا سیاسی حل نکالنے میں مدد ملتی ہے، اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کی ہے جو مسئلہ کے سفارتی حل کے خلاف ہو اور کسی بھی سطح پر ممکنہ کشیدگی کو بڑھانے کا باعث ہو.

چین نے متعلقہ فریقین کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہیں اور امن مذاکرات کو آسان بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ چین نے روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کو فروغ دینے میں تعمیری کردار ادا کرنے اور ضرورت پڑنے پر ضروری ثالثی کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے بھی بھر پور انداز میں عزم کا اظہار ہے۔

چین نے یوکرین کے معاملے پر ذمہ دارانہ انداز میں اپنا موقف پیش کیا ہے۔

اس نے بحران کو حل کرنے میں مدد کرنے کے لیے جو کچھ کیا ہے اس نے حقیقی معنوں میں احساس ذمہ داری کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ ایک بڑے ملک کو اپنا نقطہ نظر کیسا رکھنا چاہیے۔

اس کے برعکس، کچھ ملک بحران پیدا کرنے، بحران سے کسی بھی طرح سے فائدہ اٹھانے، اور اپنے بحرانوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے صرف خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچتا ہے۔

چین نے یوکرین کے مسئلے کو پابندیوں سے حل کرنے کے خیال سے اتفاق نہیں کرتا اور یکطرفہ پابندیوں سے متعلق کسی بھی تجویز کی مخالفت کا اظہار کیا ہے جو بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نہیں ہیں۔

کسی بھی ملک پر پابندیاں کبھی بھی مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر طریقہ نہیں رہی ہیں، لیکن یہ صرف متعلقہ ممالک میں معیشت اور لوگوں کے روزگار کے لیے سنگین مشکلات کا باعث بنتی ہیں اور تقسیم اور تصادم کو مزید خراب کرتی ہیں۔

تاریخ نے ٹھوس شواید سے ثابت کیا ہے کہ پابندیوں کا نتیجہ نہ صرف معاشی صورت حال کا باعث بنتا ہے جہاں متعدد فریق ہار جاتے ہیں بلکہ سیاسی تصفیہ کے عمل میں خلل بھی ڈالتے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد پابندیوں کی تعداد میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے اور آخری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں 3800 پابندیاں عائد کی تھیں، جس کا مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ نے بڑی تعداد میں پابندیاں عائد کیں۔ ایک دن میں اوسطاً دیکھا جائے تو تقریبا تین بار پابندیوں کی چھڑی لہرائی جاتی رہی ہے

امریکہ کی طرف سے لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں نے دنیا کو بہت پریشانی میں مبتلا رکھا ہے اور انسانی حقوق کی مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں کا سبب بنی ہے۔ اس حوالے سے ملک کو پابندیوں کا غلط استعمال بند کر دینا چاہیے اور دوسرے ممالک کو وہ کام کرنے پر مجبور کرنے کی فضول کوشش کو ترک کرنا چاہیے جن کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں کچھ سیاست دانوں اور میڈیا اداروں نے یوکرین کے مسئلے پر غلط معلومات اور پراپیگنڈہ پھیلانے کا سبب بنے ہیں، جس سے لوگوں کو امریکہ کے جھوٹ اور افواہوں کی بناء پر بیشتر جنگیں چھیڑنے کے بہانے استعمال کرنے کے شرمناک ریکارڈ کی یاد دلا دی ہے۔

اپنی 250 سال سے بھی کم تاریخ میں، صرف 20 سال سے بھی کم ایسے سال تھے جب امریکہ نے بیرونی ممالک کے خلاف فوجی آپریشن شروع نہیں کیا۔ اور بیرون ملک اس کی فوجی مداخلتوں کے مختلف بہانوں میں سے کچھ پراپیگنڈہ بھی ہیں جو خود امریکہ نے گمراہ گن انداز میں خود سے پھیلائی ہیں۔

امریکہ نے ایک بار عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے نام نہاد ہتھیاروں کے ثبوت کے طور پر سفید پاؤڈر کی ایک چھوٹی ٹیوب کا استعمال کیا تھا، اور بعد میں عراقی عوام کے لیے خوفناک تباہی لاتے ہوئے ان کے خلاف فوجی حملے شروع کیے گئے تھے۔

امریکی انتظامیہ نے شام میں فضائی حملے کرنے کے ثبوت کے طور پر مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز کے ذریعے مالی اعانت فراہم کرنے والی تنظیم وائٹ ہیلمٹس کے ذریعے جان بوجھ کر اسٹیج کی گئی ایک گمراہ کن ویڈیو کا بھی استعمال کیا۔

ایسے اسباق کو گذرتے زیادہ دیر نہیں گزری۔ امریکہ کو وہی غلطیاں دہرانے کے بجائے اپنے غلط اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔

سوویت یونین میں سابق امریکی سفیر جارج فراسٹ کینن نے 1990 کی دہائی میں امریکی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پھیلانا "سرد جنگ کے بعد کے پورے دور میں امریکی پالیسی کی سب سے ہولناک غلطی” ہوگی۔

یوکرائن کے بحران کو بھڑکانے کے آلہ کار کے طور پر، امریکہ کو بحران میں اپنے کردار پر غور کرنا چاہیے اور عوام کو دھوکہ دینے اور الجھانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرے، تناؤ کے خاتمے اور مسائل کے حل میں مدد کے لیے عملی اقدامات کرے اور عالمی امن کے لیے اپنا موثر اور فعال کردار ادا کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے